صوابی، وکلاء ہڑتال، قیدیوں کے کیسز کی سماعت نہ ہونے پر تشویش

صوابی، وکلاء ہڑتال، قیدیوں کے کیسز کی سماعت نہ ہونے پر تشویش

  



صوابی (بیورورپورٹ)صوابی جیل میں عرصہ دراز سے پابند سلاسل قیدیوں نے وکلاء برادری کی ہڑتال کی وجہ سے ان کے کیسز کی سماعت نہ ہونے پر تشویش کااظہار کر تے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات حل نہ کئے گئے تو 20جنوری سے وہ جیل کے اندر پر امن احتجاج، عدالتی سماعت سے بائیکاٹ اور بھوک ہڑتال کرینگے۔ اس سلسلے میں ایک تحریری بیان میں سرتاج حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ عرصہ سے بے بس اور مجبور قیدیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جو مختلف مقدمات میں صوابی حوالات میں بند پڑے ہیں۔ اور دو سال سے وہ صوابی جیل میں بے یارو مدد گار پڑے ہیں کیونکہ اکثر وکلاء برادری اپنے مطالبات منوانے اور اب صوبائی حکومت کی جانب سے دیوانی مقدمات میں کی جانے والی ترامیم کے خلاف وکلاء برادری ہڑتال پر ہے۔جس کی وجہ سے ان کے کیسز کی سماعت التواء میں پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ صوابی پولیس نے منشیات کا ایک انوکا ایکٹ جس کا نام 9Dرکھا ہے اس کے تحت کئی افراد کو صوابی جیل میں رکھا گیا ہے تھانوں کے پولیس آفسران اپنے نمبرز بڑھانے کے لئے اس دفعہ کے تحت لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوابی جیل میں 130حوالاتیوں کی گنجائش ہے لیکن اس میں 580قیدیوں کو رکھا گیا ہے جیل میں تمام سہولیات میسر ہے جب کہ جیل انتظامیہ کا رویہ بھی قیدیوں کے ساتھ اچھا ہے لیکن اصل مسئلہ وکلاء برادری کی ہڑتال کی وجہ سے ان قیدیوں کے کیسز کا سماعت نہ ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے عرصہ دراز سے قیدی جیل میں پابند سلاسل ہے لہٰذا حکومت فوری نوٹس لے کر قیدیوں کے مسائل حل کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر