سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ رٹ کی سماعت آج ہوگی

    سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ رٹ کی سماعت آج ہوگی

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے سرکاری کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے 63 برس کرنے کے خلاف دائر رٹ پر سماعت آج بدھ کے روز کیلئے ملتوی کر دی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ محکمہ تعلیم نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ 60 سال کی عمر میں ملازمین ریٹائرڈ ہو جائیں گے جبکہ حکومت کے اپنے محکمے اس پر متفق نہیں ہیں باقی ملک تو چھوڑیں۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عبدالشکور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی درخواست گزارہ شبینہ نورایڈوکیٹ نے سرکاری ملازمین کی عمر 60 سال سے 63 برس کرنے کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ خیبرپختونخوااسمبلی نے حال میں سول سرونٹ ترمیمی بل 2019کی منظوری دی ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کیلئے عمرکی حد60سے بڑھا کر 63برس کردی گئی ہے تاہم حکومت کے اس اقدام سے مشکلات میں اضافہ ہوگااورعوامی مسائل بڑھیں گے کیونکہ صوبے میں پہلے ہی بے روزگاری ہے اوراس اقدام سے بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوگااوردوسری جانب بے روزگارنوجوانوں کی عمربھی بڑھے گی اوران کے زائدالعمرہونے کاامکان ہے جبکہ سرکاری محکموں میں عمررسیدہ ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوگا جس سے سرکاری امورکے نمٹانے میں سست روی آئے گی لہذاترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دیا کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عمر فاروق عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے اے اے جی سے استفسار کیا کہ محکمہ تعلیم نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ 60 سال کی عمر میں ملازمین ریٹائرڈ ہوجائیں گے کیا آپ کو محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشن کا پتہ ہے جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جی پتہ ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپ کے محکمے خوداس پر متفق نہیں ہیں باقی ملک تو چھوڑیں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس کو بدھ کے روز نمٹا دینگے عدالت نے کیس کی سماعت آج کے لئے ملتوی کر دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر