خدمت کے ایک منفرد سفر کی داستان

خدمت کے ایک منفرد سفر کی داستان

  



آج سے 25 سال قبل جب پاکستان میں لوگوں سے محبت اور خدمت کے ایک عظیم منصوبے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو میں اس وقت کویت کی وزارت صحت کے زیر انتطام چلنے والے ایک ہسپتال میں ریڈی ایشن اونکالوجسٹ فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ یہ ایک پر کشش جاب تھی جس میں اچھی تنخواہ کے ساتھ وہ تمام سہولیات دستیاب تھیں جن کے لئے لوگ اپنا وطن چھوڑکر دوسرے ملکوں میں بس جاتے ہیں اور میں بھی اسی اچھے مستقبل کی خاطر گیا تھا۔ کویت میں جاب کے دوارن ہی مجھے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر سے کال آئی تو یہ فیصلہ کرنا ایک مشکل کام تھا کہ پاکستان واپس جاؤں یا پھر اسی طرح ایک آرام دہ زندگی گزارتا رہوں لیکن پاکستان جانے اور شوکت خانم ہسپتال کا حصہ بننے کا فیصلہ لینے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ الحمدللہ آج میں اس فیصلے پر فخر محسوس کرتا ہوں اور یہ صرف میں ہی نہیں تھا اس وقت میری طرح اور بھی ڈاکٹرز اور میڈیکل سپیشلسٹس دنیا بھر سے اس مشن کا حصہ بننے کے لئے پاکستان آئے تھے۔ اس وقت ہر پاکستانی اس ہسپتال کو بنانے اور چلانے میں اپناکردار ادا کرنا چاہتا تھا۔

لاہور پہنچنے اور عمران خان سے ملاقات ہونے کے بعد مجھے اپنے فیصلے پر اور بھی اطمینان محسوس ہوا۔ اس ہسپتال کو بنانے اور اسے کامیاب کرنے کے لئے عمران خان کے اندر ایک جنون تھا اور وہ کسی بھی صورت کینسر کے مریضوں کوکینسر کی تشخیص و علاج کی بہترین سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرنے کے اپنے ارادے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کے حوصلے بلند اور خدا پر یقین انتہائی مضبوط تھا۔ میں اور گیارہ دوسرے ڈاکٹرز پر مشتمل پہلا گروپ اپریل 1995ء میں اس منصوبے کا حصہ بناجو آج پچیس سال بعد کینسر کے علاج کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔ شروع سے ہی یہ ادارہ ہمارے لئے صرف کام کرنے کی ایک جگہ نہیں تھا بلکہ یہ ہم سب کے لئے ایک گھر کی مانند تھا جس کو چلانا ہر ایک اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ یہ ایک ایسا جذبہ تھاجس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ اس ادارے کا ترقی کرنا، مستحق مریضوں کا شفایاب ہونا اور ان کے دل سے نکلتی بے ساختہ و بے لوث دعاؤں کو محسوس کرنا ایک ایسا سکون آور عمل تھا جو دنیا کی کسی بھی آسائش میں نہ ملتا۔ آج 25 سال گزرنے کے بعد بھی یہاں کام کرنے والے ہر فرد اور اس ادارے سے مالی تعاون کرنے والے مخیر حضرات کا جذبہ اسی طرح ترو تازہ ہے۔

ابتداء میں کام کرنا ذرا مشکل تھا ہسپتال کا ابھی آغاز تھا اور ہماری ٹیم صرف 12ڈاکٹروں پر مشتمل تھی کئی ڈیپارٹمنٹس میں ابھی مکمل سہولیات نہیں تھیں اور انہیں مکمل کرنے کے لئے مسلسل کام ہو رہا تھا لیکن ہم میں سے کسی کو بھی یہ مشکلات اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں لگتی تھیں۔ یہ ان تمام افراد کی انتھک محنت پر خلوص کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک ایسا منصوبہ جس کے بننے اور کامیاب ہونے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھانہ صرف کامیاب ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ اس کی سہولیات کا دائرہ کار بھی مسلسل بڑھتا رہا۔ تمام افراد اس ادارے کے ساتھ اس قدر دل سے منسلک تھے کہ اگر کوئی اس ہسپتال کے خلاف بات کرتا تو ایسا لگتا تھا جیسے یہ بات اس نے ہمارے خلاف کی ہے اور کوشش کی جاتی کہ اس کی غلط فہمی کو دور کیاجائے۔ اس ادارے سے اتنی وابستگی کی ایک سب سے بڑی وجہ ہمارا عمران خان کی نیت اور ایمانداری پر یقین تھا۔

جب میں نے یہاں کام کرنا شروع کیا تھا تو اس وقت یہاں ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ نہیں تھا اور آج شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید کلینکل اور ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ ہے جہاں ہر وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی کینسر کے علاج میں ضرورت ہوتی ہے۔ حال ہی میں اس ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ میں جدید ترین لینئیر ایکسیلیریٹرمشین لگائی گئی ہے جو کہ کینسر کے علاج کا معیار مزید بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہو گی۔ یہ پاکستان اور وسطی ایشیا میں اپنی طرز کی پہلی مشین ہے جس میں وائڈ سپیکٹرم اور کینسر کے علاج کی انتہائی جدید ٹیکنالوجی جس میں سٹیرؤ ٹیکٹک باڈی ریڈیو تھراپی(SBRT)، ہائپر آرک کے ساتھ سٹیرؤ ٹیکٹک ریڈیو سرجری، امیج گائیڈڈ ریڈیو تھراپی اور ریپڈ آرک جیسی سہولیات کے ذریعے علاج فراہم کیا جا سکے گا۔ اس لینئیر ایکسیلیریٹر سے ایک ملی میٹر سے بھی کم جگہ پر ریڈی ایشن کی مقدارانتہائی درستگی کے ساتھ دی جاسکتی ہے جس سے صحت مند خلیوں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح یہاں کیمو تھرپی، ریڈیالوجی، ان پیشنٹ، آئی سی یو، ایمرجنسی اور تما م دیگر شعبے بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجی اور مشینوں سے لیس ہیں۔

علاج کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال نے تحقیق اور تربیت کے میدان میں بھی کام جاری رکھا۔ درجنوں اونکالوجسٹس اور فیزیسٹس یہاں سے ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان اور دیگر ممالک میں کینسر کے علاج کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ پہلا فلاحی ہسپتال جہاں ریڈی ایشن ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دی جاتی ہے جس سے اس فیلڈ سے وابستہ بہت سارے افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ یہاں کے ریڈیالوجی، پتھالوجی، انٹرنل میڈیسن، انستھیزیا، جنرل سرجری اور دیگر ٹریننگ پروگرام کالج آف فیزشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے منظور شدہ ہیں۔

اس ہسپتال کے ساتھ پچیس سالوں کے اس سفر کے دوران میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب لوگوں نے اس رفاحی منصوبے کے لئے اتنے عطیات دیئے کہ انہیں سنبھالنا بھی بذات خود ایک کام تھا۔ میں نے اس ہسپتال کو ایک کے بعد ایک کامیابی سمیٹتے دیکھا ہے، میں نے ہزاروں مستحق مریضوں کو یہاں سے شفایاب ہوتے اور دعائیں کرتے دیکھا ہے، میں نے ایک ناممکن کو ممکن میں بدلتے دیکھا ہے۔ پچیس سال کا یہ سفر ایک ایسے ارادے سے شروع ہوا جس کا مقصد صرف اور صرف خدمت تھا اور پھر اس سفر میں دنیا بھر سے لوگ آ کر شامل ہوتے گئے۔ انشاء اللہ کینسر کے مریضوں کے لئے زندگی کی امید کا یہ سفر ہمیشہ ایسے ہی چلتا رہے گا اور ایک وقت آئے گا جب پاکستان میں کوئی بھی کینسر کا مریض سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کا شکار نہیں ہو گا۔ اس ہسپتال کی کامیابی دراصل ہر اس پاکستانی کی کامیابی ہے جس نے اپنے طور پر اس ہسپتال کو سپورٹ کیا۔ ان رضاکاروں، طالب علموں اور بیرون ِ ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی ہے جنہوں نے ہسپتال کو کبھی فنڈز کی کمی نہیں ہونے دی۔ اس کامیابی پر آج پوری پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...