یہاں کبھی بھی عام آدمی کوسہولت دینا ترجیح نہیں رہی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں ریمارکس

یہاں کبھی بھی عام آدمی کوسہولت دینا ترجیح نہیں رہی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ...
یہاں کبھی بھی عام آدمی کوسہولت دینا ترجیح نہیں رہی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں نیلامی کے علاوہ دیگر پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر پابندی برقراررکھتے ہوئے حکم امتناع میں توسیع کردی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کمیشن بہت اچھے طریقے سے کام کررہا ہے،عدالت کو مکمل اعتماد ہے، یہاں کبھی بھی عام آدمی کوسہولت دینا ترجیح نہیں رہی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں اسلام آباد میں حاصل زمین کے متاثرین اور الاٹیز کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،سی ڈی اے لیبر یونین کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دائر کردی گئی،عدالت نے سی ڈی اے لیبر یونین کو الگ رٹ دائر کرنے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے تشکیل کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علی اعوان کی جانب سے کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی،علی اعوان نے کہاکہ 2 دن میں اشتہار دیا جائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ الاٹیزکومکمل سہولت دیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کمیشن بہت اچھے طریقے سے کام کررہا ہے،عدالت کو مکمل اعتماد ہے، یہاں کبھی بھی عام آدمی کوسہولت دینا ترجیح نہیں رہی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ اسلام آباد میں کچہری اورہسپتالوں کیلئے بھی جگہ نہیں، 1960 سے جن کی زمین ایکوائرکی گئیں پہلے ان کو معاوضہ دیا جائے گا،کہاں کا انصاف ہے کہ 1960 سے لوگ پھررہے ہیں ان کو آج تک انصاف نہیں ملا،الاٹیز جن کی زمینوں پر بیٹھیں گے کم ازکم ان کو معاوضہ پہلے ملنا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلی دفعہ اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے،حکومت کو اور بھی مسائل ہیں، لینڈ ایکوزیشن پوری دنیا میں حکومتیں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ دیتی ہیں، 1960 سے لوگ دربدر پھررہے ہیں، یہ ریاست کی ناکامی ہے، عدالت نے الاٹیزکوہدایت کی کہ اپنے منتخب نمائندوں پر یقین رکھیں، کمیشن کو اپنا کام کرنے دیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بڑے لوگوں کو جو پلاٹ دیے گئے کیوں نا وہ متاثرین کوالاٹ کردیے جائیں۔

علی اعوان نے کہا کہ 1996 کی پالیسی کے تحت عام عوام کیلئے پلاٹ آئی سیکٹرمیں رکھے گئے، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ با اثر طبقے کو نوازنے کی کلاسک مثال ہے، کمیشن مکمل با اختیارہے آپ نئی پالیسی بھی بناسکتے ہیں۔

عدالت نے اسلام آباد میں نیلامی کے علاوہ دیگر پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر پابندی برقراررکھتے ہوئے حکم امتناع میں توسیع کردی،عدالت کی سی ڈی اے لینڈ ڈپارٹمنٹ کا عملہ مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 3 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...