اثاثہ جات و غیرقانونی بھرتیاں کیس،اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 30 جنوری تک توسیع

اثاثہ جات و غیرقانونی بھرتیاں کیس،اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 30 جنوری تک ...
اثاثہ جات و غیرقانونی بھرتیاں کیس،اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 30 جنوری تک توسیع

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے آمدن سے زائداثاثہ جات میں اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں30 جنوری تک توسیع کردی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مطمئن کریں کہ اکرم درانی کو کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفتیشی افسر کو تیاری کےلئے مزید وقت دیتے ہوئے اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 30 جنوری تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں غیرقانونی بھرتیوں اور اثاثہ جات کیس میں اکرم درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ اکرم درانی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ اثاثوں کے کیس میں تفتیشی افسر کو گرفتاری کیوں چاہیے ہوتی ہے؟ گرفتاری پرسب سے پہلے کسی شخص کی عزت نفس سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے،گرفتاری کے کیا اثرات ہوتے ہیں یہ سب کو پتا ہے،جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی کی ایسی تضحیک کیسے کی جاسکتی ہے؟۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزیداستفسار کیا کہ جس کی اتھارٹی ہی نہیں وہ اس کا غلط استعمال کیسے کر سکتا ہے؟وائٹ کالر کرائم میں ملزم تعاون کر رہا ہے تو زیر حراست کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ایک بندے کا جس معاملے پر اختیار ہی نہیں، اس کو کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے، ایسا تو نہیں کہ اکرم درانی نے کسی افسر کو بندوق رکھ کر کہا کہ فلاں کو بھرتی کرو۔نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ ملزم سے اہم دستاویزات برآمد کرانی ہیں، ملزم کی گرفتاری صرف اس وقت کرتے ہیں جب اس سے شواہد برآمد کرنا ہوں، کسی کی گرفتاری صرف گرفتاری کا اختیار ہونے پر نہیں کرلی جاتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کو حراست میں رکھ کر ٹارچر کرنا ہوتا ہے؟نیب کیس کے تمام ملزموں کو گرفتار کیوں نہیں کرتا؟ ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اکرم درانی کے اثاثوں کے کیس میں وارنٹ گرفتاری نہیں ہے،اکرم درانی کے وارنٹ گرفتاری غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں اتھارٹی تو بیوروکریٹ کی ہوتی ہے،ہم نہیں کہہ رہے کہ آپ جاکر اکرم درانی کی جگہ کسی افسرکو گرفتار کرلیں ،ہم یہ پوچھ رہے ہیں جس کی اتھارٹی تھی ہی نہیں اسکی گرفتاری مانگ کیوں رہے ہیں؟ ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اکرم درانی کے پاس بھرتی کا اختیار تو تھا ہی نہیں،جب ملزم کی گرفتاری کے بغیرتفتیش ممکن نا ہوصرف اس وقت وارنٹ جاری کیے جاسکتے ہیں،ملزم کی گرفتاری کے بغیربھی توتفتیش مکمل کی جاسکتی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ نیب کا بنیادی مقصد کرپٹ افراد سے لوٹی گئی رقم برآمد کرنا ہے،اگرغیرقانونی بھرتیاں کی گئیں تو وہ افراد اب بھی سرکاری ملازمتوں پر کیوں کام کررہے ہیں؟پھرتوآپ موجودہ وزیرکے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کریں،کیونکہ اس وزیرنے غیرقانونی ملازمین کو برطرف نہیں کیا، اگربھرتیاں غیرقانونی تھیں تو وہ اب بھی قومی خزانے سے تنخواہیں کیوں وصول کررہے ہیں؟۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مطمئن کریں کہ اکرم درانی کو کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفتیشی افسر کو تیاری کےلئے مزید وقت دیتے ہوئے اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 30 جنوری تک توسیع کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد