سپاہی کے ہاتھوں زخمی ڈی آئی جی شہزاد صدیقی کیخلاف حساس اداروں نے تحقیقات شروع کردیں، انتہائی حیران کن وجہ بھی سامنے آگئی

سپاہی کے ہاتھوں زخمی ڈی آئی جی شہزاد صدیقی کیخلاف حساس اداروں نے تحقیقات ...

  



لاہور(نعیم مصطفےٰ سے) ڈسٹرکٹ پولیس لائنز لاہور میں ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کے کانسٹیبل کے ہاتھوں زخمی ہونے کا واقعہ طول پکڑ گیا،حساس اداروں نے اسکے مختلف پہلوو¿ں کی باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی ہے،مذکورہ ڈی آئی جی کا سروس ریکارڈ حاصل کرنے کیساتھ ساتھ مبینہ حملے کے حوالے سے حقائق اکٹھے کئے جا رہے ہیں، جس کے بعد ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔

زخمی ڈی آئی جی کو علاقہ غیر کے راستے گاڑیاں پنجاب سمگل کرنے کے الزام میں خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے حال ہی میں سرنڈر کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری بھی جاری ہے۔اسی طرح دیگر مقامات پر دوران تعیناتی سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت انکوائریز زیر تکمیل ہیں اور کئی مرتبہ ان پر فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔زخمی کئے جانے کے واقعے کے بعد درج ہونے والی ایف آر کے مختلف پہلو بھی موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے روزنامہ پاکستان کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق 12جنوری کو تھانہ قلعہ گجر سنگھ لاہور میں درج کروائی گئی ایف آئی آر 59/20میں شہزاد اسلم صدیقی نے تحریر کیا ہے کہ میں پولیس لائنز کے فلیٹ نمبر7میں رہائش پذیر ہوں 11جنوری کورات پونے بارہ بجے پولیس لائنز کی مسجد سے واک کر کے واپس آ رہا تھا کہ کانسٹیبل رفیق نے مجھے سلام کیا میرے جواب دینے کے فوری بعد اس نے چاقو نکال لیا اور مجھ پر وار شروع کر دیئے میں اپنا دفاع کرتا رہا جب کافی زخمی ہو گیا تو مذکورہ کانسٹیبل کھڑا ہو گیا اور میں نے کوارٹر گارڈ کی طرف جا کر پولیس والوں کو ساتھ لیا اور واپس آ کر اس کو پکڑ لیا جسے بعدازاں کوارٹر گارڈ (حراست میں) کر دیا گیا۔مجھے سرکاری ایمبولینس کے ذریعے سروسز ہسپتال لے جایا گیا۔مذکورہ کانسٹیبل نے مجھے جان سے مار دینے کی نیت سے حملہ کر کے زخمی کیا ہے۔ایف آئی آر میں دفعہ324 کا اندراج کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش میں ماہر تفتیش افسروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کی بنیاد ہی غلط ہے چونکہ اس میں وجہ عناد کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ کانسٹیبل نے آخر ڈی آئی جی کو کس وجہ سے زخمی کیا۔قتل، لڑائی جھگڑے اور اس جیسے دیگر واقعات میں وجہ عناد کا اندراج قانونی ضرورت ہے۔دوسرا اہم پہلو یہ کہ ایف آئی آر میں عینی شاہدین کا بھی کوئی ذکر نہیں کہ واقعہ کے چشم دید گواہ کون کون سے ہیں۔ ایک حساس ادارے کی طرف سے کی جانیوالی ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ خفیہ طور پر حاصل کی گئی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور کانسٹیبل نے جیب میں سے نیل کٹر (ناخن تراش) نکالا اور اس میں لگے ہوئے چھوٹے سے چاقو سے ڈی آئی جی پر وار کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حملے کی نیت سے نہیں آیا تھا اور اگر نیت حملہ کرنے کی ہوتی تو اپنے ساتھ چھری، چاقو یا پسٹل وغیرہ لے کر آتا۔

یہ امر بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے کہ اس واقعے کے پس پردہ کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آئی جسے اطراف سے چھپایا جا رہا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ گاڑیوں کی علاقہ غیر کے راستے سمگلنگ اور پنجاب بھجوائے جانے کے الزامات کے تحت انکوائری اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن میں زیر التواہے جب شہزاد اسلم صدیقی خیبرپختونخوا میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن تعینات تھے توآئی جی کے پی کے ڈاکٹر نعیم خان نے 4ستمبر2019ءکو وفاقی سیکرٹری داخلہ اسلام آباد کو ایک مراسلہ نمبرNo.C PO/E-1/1009 ارسال کیا اور مذکورہ ڈی آئی جی کے خلاف گاڑیوں کی سمگلنگ کی تحقیقات کرنے کو کہا گیا۔

اس مراسلے میں گریڈ 20کے مذکورہ ڈی آئی جی کے خلاف باقاعدہ دس نکاتی چارج شیٹ بھی تحریر کی گئی ہے اور ان کے ماضی کا سروس ریکارڈ بھی وفاقی وزارت داخلہ کو کیبنٹ سیکریٹریٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ارسال کیا گیا ہے۔24ستمبر کو وفاقی وزارت داخلہ نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو مراسلہ نمبرNO.I/192019-D-3کو ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کے خلاف ڈسپلنری ایکشن کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد مذکورہ پولیس افسر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر سرنڈر کر دیا گیا آج کل وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن میں انکوائری بھگت رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ پولیس لائنز لاہور کے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ڈی آئی جی کو سابق آئی جی پولیس ناصر خان درانی کے دور میں ڈی آئی جی ایڈمن /انوسٹی گیشن اور پھر کمانڈنٹ ایف آر پی بھی تعینات کیا گیا۔کے پی کے سے گاڑیوں کی سمگلنگ کے الزام میں فارغ کئے جانے کے بعد مذکورہ پولیس افسر نے گلگت بلتستان میں تعیناتی کے لئے بھی کوشش کی لیکن وہاں تعینات آئی جی ثناءاللہ عباسی (موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس کے پی کے) نے ان کی مخالفت کی اور گلگت بلتستان میں تعیناتی نہ مل سکی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی جب سرگودھا میں تعینات تھے ان کے خلاف ڈی پی او سرگودھا نے فنڈز میں گڑ بڑ کے الزام کے تحت تحقیقات کروائیں جو تاحال پایہ تکمیل کو نہیں پہنچیں اسی طرح پولیس اکیڈمی میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعیناتی کے دوران بھی دو انکوائریاں زیر تکمیل ہیں۔اس حوالے سے خفیہ ادارے کی رپورٹ گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی ہے۔جب لاہور میں درج مقدمے کے بارے میں متعلقہ تفتیشی افسران سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی مبینہ حملہ آور کانسٹیبل کا بیان ریکارڈ نہیں کیا تاہم ڈی آئی جی صاحب نے جو ایف آئی آر درج کروائی ہے وہی ان کا بیان ہے،ملزم کا بیان سامنے آنے پر کوئی ٹھوس بات کہی جا سکتی ہے ہم ڈی آئی جی کے ماضی کے حوالے سے نہ تو تفتیش کر رہے ہیں اور نہ ہی ہمارا اس سے کوئی کام ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /خصوصی رپورٹ


loading...