منرل واٹر کمپنیوں کے پانی سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ کا پنجاب حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پرعدم اعتمادکا اظہار

منرل واٹر کمپنیوں کے پانی سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ کا پنجاب حکومت کے علاوہ ...
منرل واٹر کمپنیوں کے پانی سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ کا پنجاب حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پرعدم اعتمادکا اظہار

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے منرل واٹر کمپنیوں کے پانی سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پرعدم اعتمادکا اظہارکردیا،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں منرل واٹرکمپنیوں کے پانی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سپریم کورٹ کے3رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی،پنجاب نے مجوزہ قانون کامسودہ سپریم کورٹ میں پیش کر دیاجبکہ فلو میٹرز کی تنصیب سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کردی۔وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ اب تک 1600فلو میٹرزنصب کئے جاچکے ہیں،پانی بنانے والی کمپنیوں سے 83 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا چکے ہیں،

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ مسودے میں بہت سے سقم ہیں،عدالت نے مسودے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کردی،عدالت نے پنجاب حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پرعدم اعتمادکا اظہارکردیا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نئی گج ڈیم فنڈز سے 6ارب روپے غائب ہوئے لیکن ایک اینٹ تک نہیں لگی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہمیں جمہوری حکومتوں کا تعاون درکار ہے، سپریم کورٹ سندھ حکومت کی کارکردگی سے ناخوش ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کی رپورٹ کہاں ہے؟وکیل سندھ حکومت نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں رپورٹ دائر نہیں کی گئی، عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے پاکستان کونسل آف واٹر ریسرچ کو بھی عدالتی معاونت کےلئے نوٹس جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ وفاق سمیت تمام صوبے مل بیٹھ کرحل نکالیں اورتجاویزپیش کریں،عدالت نے زیرزمین پانی کے استعمال پرٹیکس وصولی سے متعلق کیس ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...