آزاد کشمیراور بلوچستان میں قاتل برفباری100جانیں نگل گئی

آزاد کشمیراور بلوچستان میں قاتل برفباری100جانیں نگل گئی
آزاد کشمیراور بلوچستان میں قاتل برفباری100جانیں نگل گئی

  



مظفرآباد/کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر اور بلوچستان میں برفباری ، بارش اور برفانی تودوں نے قیامت ڈھا دی، مختلف حادثامیں ایک سو افراد لقمہ اجل بن گئے۔ قومی ادارہ برائے قدرتی آفات این ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر میں جاں بحق افراد کی تعداد 76،بلوچستان میں بیس ، کے پی کے میں دو اور گلگت بلتستان میں بھی دو افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

برفباری نے 90افراد کو زخمی کیا ہے جبکہ دوسوتیرہ گھر متاثرہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق وہ تمام متعلقہ اداروں سے مکمل رابطے میں ہیں، متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور اب تک متاثرین کو2000ٹینٹس، 1250کمبل اور 2250 دیگر اشیا پہنچائی گئی ہیں۔

ادھر ہم نیوز کے مطابق مانسہرہ بالاکوٹ کے قریب سکی کناری ڈیم کی تعمیراتی کمپنی کے مزدوروں کے رہائشی کیمپ پر بھی برفانی تودہ گر گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وادی نیلم میں شدید برف باری کے نتیجے میں مقامی آبادی بہت بڑے برفانی تودے تلے دب گئی۔ پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین میں ٹینٹ، ادویات، کمبل اور راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں بارش سے کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک کو مختلف مقامات پر نقصان پہنچا جس سے ٹرینوں کی آمدورفت جزوی طور پرمعطل ہو گئی۔

تین روز سے لواری ٹنل بھی بند ہے جس کے سبب چترال کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ گلگت بلتستان میں 33مقامات پر شاہراہیں بند ہونے سے مسافروں اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برفانی تودہ گرنے سے شاہراہ کاغان اندھیرا بیلہ کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈیر وسیم کے مطابق برفباری کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ جن علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے انہیں خالی کر دیا جائے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...