کھانے کی وہ کونسی چیز ہے جسے ایٹم بم بھی تباہ نہیں کرسکتا؟ ماہرین نے ایٹمی جنگ کی صورت میں ممکنہ غذا بتادی

کھانے کی وہ کونسی چیز ہے جسے ایٹم بم بھی تباہ نہیں کرسکتا؟ ماہرین نے ایٹمی ...
کھانے کی وہ کونسی چیز ہے جسے ایٹم بم بھی تباہ نہیں کرسکتا؟ ماہرین نے ایٹمی جنگ کی صورت میں ممکنہ غذا بتادی

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایٹمی جنگ ہو جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ کروڑوں لوگوں کی ہلاکت الگ ہو گی اور آسمان دھوئیں کی دبیز تہہ سے اٹ جائے گا جس سے سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچے گی اور یہاں مکمل اندھیرا ہو جائے گا۔ سورج کی روشنی نہ پہنچنے کے باعث زمین پر اگنے والی ہر چیز ختم ہو جائے گی اور خوراک کا ایسا قحط پڑے گا کہ جو ایٹمی حملوں سے بچ جانے والے انسانوں کو نگل جائے گا اور عین ممکن ہے کہ دنیا سے انسانیت کا خاتمہ ہو جائے۔ جب سورج کی روشنی غائب ہونے سے ہر چیز کا قحط پڑ جائے گا، ایسے میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو پھر بھی اگتی رہیں گی اور انسانیت کی بقاءکا سبب بن سکیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق ڈیوڈ ڈینکن برگر نامی ایک مکینیکل انجینئرنے یہ چیزیں بتائی ہیں جو قیامت کی اس گھڑی میں انسانوں کا سہارا بن سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان چیزوں میں سمندری کائی (Seaweed)اور کھمبیاں (Mushrooms)شامل ہیں۔ ڈیوڈ ڈینکن کا کہنا تھا کہ ”مشرومز اور سمندری کائی کو سورج کی روشنی کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی چنانچہ یہ ایٹمی حملوں کے بعد بھی نشوونما پاتی رہیں گی۔ “ ڈیوڈ ڈینکن نے بتایا کہ ”آج اگر کسی بھی دو ایٹمی ملکوں میں جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف سے جتنے ایٹم بم چلائے جانے کا خطرہ ہے، وہ پوری دنیا کو قحط میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ آج ممالک کے پاس جو ایٹم بم ہیں ان میں سے ہر ایک ایٹم بم کی طاقت ہیروشیما میں امریکہ کی طرف سے چلائے گئے ایٹم بم سے کم از کم 6گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں جو قحط پڑے گا اس میں مشرومز اور سمندری کائی ہی بچیں گی کیونکہ انہیں سورج کی روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ نشوونما بھی تیزی سے پاتی ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...