بارش میں لیٹ پہنچنے پر کسٹمر نے 3800 کا کھانا لینے سے انکار کردیا، رائیڈر کی تنخواہ 9 ہزار ، ریسٹورنٹ مالک نے پیسے سیلری میں سے کاٹنے کا حکم سنادیا، انتہائی حیران کن کہانی

بارش میں لیٹ پہنچنے پر کسٹمر نے 3800 کا کھانا لینے سے انکار کردیا، رائیڈر کی ...
بارش میں لیٹ پہنچنے پر کسٹمر نے 3800 کا کھانا لینے سے انکار کردیا، رائیڈر کی تنخواہ 9 ہزار ، ریسٹورنٹ مالک نے پیسے سیلری میں سے کاٹنے کا حکم سنادیا، انتہائی حیران کن کہانی

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا پر ایک شخص نے ریسٹورنٹ کے رائیڈر کی کہانی شیئر کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح نہ صرف کم سے کم تنخواہ کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے بلکہ غریب لوگوں کا بری طرح استحصال بھی ہورہا ہے۔ صارف کے مطابق ایک ریسٹورنٹ کا رائیڈر سڑک کے کونے پر رو رہا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ تیز بارش کی وجہ سے کھانا لیٹ ہو گیا تو کسٹمر نے کھانا لینے سے انکار کر دیااور اب بل اس کی تنخواہ سے کٹے گا۔ رائیڈر کے پاس موجود کھانا 3800 روپے کا تھا اور اس کی تنخواہ 9000 روپے تھی۔

علی شیرازی نامی سماجی کارکن نے ریسٹورنٹ کے رائیڈر کی کہانی فیس بک پر شیئر کی ہے۔ ”ایک شخص کونے میں کھڑا رو رہا ہے سسکیاں لے رہا ہے پوچھنے پہ معلوم ہوا ایک Rider ہے اور ایک Fast Food ریسٹورانٹ میں Home Delivery کے لیے کام کرتا ہے۔

کھانا پہنچانے گیا تھا واپسی پہ سردی اور بارش کے موسم کی وجہ سے لڑکا شدید کانپے جا رہا تھا میرے پوچھنے پہ اس نے بس اتنا کہا کچھ نہیں ہوا ہے سر۔ میں نے اس سے ریکوسٹ کی کہ بھائی جب تک بارش نہیں رکتی آپ تھوڑی دیر میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاﺅ اور بعد میں آرام سے پوچھا کہ بھائی ہوا کیا ہے کچھ تو بتائیں۔

میرے اصرار کرنے پہ اس نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے لیٹ پہنچا ہوں اور اب کسمٹر نے کھانا لینے سے انکار کر دیا ہے۔میں نے کہا تو اس میں تو پریشانی والی کوئی بات نہیں تو اس نے کہا سر اس کھانے کے پیسے ابھی میری سیلری میں سے کٹنے ہیں، معلوم پڑا کہ کھانا 3800 روپے کا تھا اور اس کی سیلری 9000 تھی ۔“

علی شیرازی نے لکھا ’ خیر یہ سب یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگرہم بارش میں ایسے موسم میں کچھ آرڈر کرتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کا احساس کرنا چاہیے یہ لوگ بھی انسان ہوتے ہیں یہ لوگ محنت کرتے ہیں ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اگر کوئی ایسے موسم میں اتنی دور سے کھانا دینے آ جاتا ہے تو اس کو Tip کے طور پر کچھ پیسے دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ میں نے یہ چیزیں بہت قریب سے دیکھی ہیں ان کی تنخواہ بس یہی کوئی 8 ہزار کے قریب ہوتی ہے ادارہ ان کو یہی بتاتا ہے کہ 8 ہزار یا 7 ہزار تنخواہ باقی آپ کو Tip ملاکرے گی۔

ویسے میں اس بارش میں کھانے لینے جا رہا تھا تو میں نے اس لڑکے سے کھانا لے لیا تھا اور پیسے اس کو ادا کر دیے تھے ، اس لڑکے کے لیے آسانی پیدا کر دی گئی ہے لیکن اس بھائی جیسے کئی سفید پوش لوگ مجبور ہیں ہمیں احساس کرنا چاہیے۔محبتیں اور آسانیاں بانٹیے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...