’دوسرے ملک کے قومی ہیرو کے ساتھ شادی کی تو میڈیا نے میری نسل اور مذہب کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا‘ جمائمہ خان نے دل کھول کر رکھ دیا

’دوسرے ملک کے قومی ہیرو کے ساتھ شادی کی تو میڈیا نے میری نسل اور مذہب کی وجہ ...
’دوسرے ملک کے قومی ہیرو کے ساتھ شادی کی تو میڈیا نے میری نسل اور مذہب کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا‘ جمائمہ خان نے دل کھول کر رکھ دیا

  



لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے ان لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو میگھن مارکل پر تنقید کر رہے ہیں۔ جمائمہ خان کے مطابق انہیں بھی کسی دوسرے ملک کے قومی ہیرو سے شادی کرنے کے بعد نسل پرستی اور مذہب کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جمائمہ خان نے لکھا کہ میاں بیوی کے رشتے میں بیوی کو ہمیشہ ہی ڈراﺅنے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ آپ اس بات کو سمجھنے کیلئے لیڈی ڈیانا، گلوکارہ فرجی، شہزادی کمیلا پارکر ، شہزادی کیٹ میڈلٹن اور میگھن مارکل کاموازنہ ان کے مقابلے میں مردوں یعنی شوہروں کی انتہائی اچھے طریقے سے ہونے والی کوریج سے کرسکتے ہیں۔

جمائمہ خان نے کہا وہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتیں کہ میگھن مارکل پر ہونے والی تنقید دراصل نسل پرستانہ ہے، کیونکہ وہ یہودیوں کے خلاف نفرت کی مہم اور اسلاموفوبیا سے بخوبی آگاہ ہیں، وہ یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ بیویاں چاہے وہ شاہی گھرانے کی ہوں، سلیبریٹی ہوں یا سیاسی ہوں ان پر تنقید کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سیکسزم (خواتین کی کردار کشی کرنا) ہے۔

انہوں نے برطانوی لوگوں کے بارے میں لکھا کہ وہ اجتماعی طور پر بہت ہی چالاک، کسی کے متعلق رائے قائم کرنے اور ساس (ملکہ برطانیہ) کی خوشی کیلئے جان لگادینے والے ہیں۔

جمائمہ خان نے کہا ’ ضروری نہیں کہ جس طرح میگھن اور ہیری نے معاملات کو ڈیل کیا ہے میں اس سے اتفاق کرتی ہوں لیکن مجھے پتا ہے کہ شہزادی ڈیانا کن مشکلات سے گزری تھیں۔مجھے یہ بھی پتا ہے کہ جب آپ کسی دوسرے ملک کے قومی ہیرو سے شادی کرتے ہیں تو میڈیا آپ پر نسل پرستانہ حملہ کردیتا ہے، میرے معاملے میں تو یہودی بیک گراﺅنڈ کی وجہ سے بھی تنقید ہوئی۔‘

خیال رہے کہ شہزادی میگھن مارکل پر میڈیا میں ہونے والی بے تحاشا تنقید سے تنگ آکر شہزادہ ہیری نے برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ شاہی خاندان کے اجلاس میں قبول کرلیا گیا ہے اور ملکہ نے انہیں شاہی خاندان چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

مزید : برطانیہ


loading...