پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایسی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا کہ ساری قوم خوشی سے جھوم اٹھے گی

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایسی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا کہ ساری قوم ...
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایسی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا کہ ساری قوم خوشی سے جھوم اٹھے گی

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب کھلا دودھ انسانی صحت کے لئے مضر ہے جو سائنسی بنیادوں اور ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے ثابت شدہ ہے،اس لئے عوام کو چاہیے کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر انفیکشن سے بچنے کیلئے کھلے دودھ کے استعمال سے پرہیز کریں اور اچھی صحت اور غذائیت کیلئے جراثیم سے پاک بند ڈبے والا دودھ استعمال کریں،اس سلسلے میں پی ایم اے نے عوامی آگہی مہم ’’صاف دودھ صحت محفوظ‘‘شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل  ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد،ڈاکٹر قاضی واثق ، ڈاکٹر عبدالغفور شورو، ڈاکٹر سید ٹیپو سلطان ودیگر نےکراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ نظام صحت ، بیماریوں کے بوجھ، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے افراد کی دستیابی اور غریب عوام کی تکالیف کے بارے میں پی ایم اے کو تشویش  ہے، اس سال 2020 میں ہم نے عوامی ا?گاہی کی مہمات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس حوالے سے پہلی مہم صاف دودھ سے متعلق ہے اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے ہاں 90فیصد لوگ کھلا دودھ استعمال کرتے ہیں جبکہ صرف 10فیصد لوگ پیک دودھ استعمال کرتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ بنیادی نکات جو ہمارے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کیلئے معاون ہیں،ان کی روشنی میں   انڈیا اور پاکستان سمیت چند ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کہیں بھی کھلا دودھ فروخت نہیں ہوتا ،  چونکہ دودھ کو ایک مکمل غذا سمجھا جاتا ہے خاص طور پر بچوں ، معمر افراد اور حاملہ خواتین کیلئے لیکن کھلا دودھ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر مطلوبہ غذائیت فراہم نہیں کرتا، کھلے عام غیر شفاف اور آلودہ پانی کی ملاوٹ،  کھلے دودھ میں جراثیم کی بہتات ہوتی ہے،گائے اور بھینسوں کے شیڈ حفظان صحت کے مروجہ معیارات سے عاری ہوتے ہیں ،کھلے دودھ کے معیار کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ مختلف لوگ جانوروں کو خوراک دینے ، دودھ دوہنے اور دودھ کی ترسیل کیلئے اپنے اپنے طریقوں پر چلتے ہیں، کھلا دودھ زیادہ تر ایفلو ٹوکسن سے آلودہ ہوتا ہے ،جانوروں کی دیکھ بھال میں ملوث اَن پڑھ افراد میں ہاتھ دھونے اور ذاتی حفظان صحت کے اصولوں کا کوئی تصور نہیں ہوتا،دودھ کی ترسیل کیلئے استعمال ہونے والے برتن صاف نہیں ہوتے، اگر آپ دودھ کی مارکیٹ کا مشاہدہ کرنے جائیں تو آپ کو ہر طرف دودھ میں مکھیاں نظر آئیں گی نیز کچرا اور دوسری آلودہ چیزیں نظر آئیں گی جن کو زیادہ تر دودھ فروش اپنے ہاتھوں سے دودھ سے نکالتے ہیں،  دودھ کو گاڑھا کرنے اور جھاگ دار بنانے کیلئے اس میں مختلف کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...