کابینہ کی بصارت

کابینہ کی بصارت
کابینہ کی بصارت

  

موجودہ کابینہ ان نابیناؤں کا اجتماع ہے جن میں سے جس کسی نے ہاتھی کو جہاں سے چھوا،سمجھ لیاکہ اسی کا نام ہاتھی ہوتا ہے۔ عمران خان جس تسلسل سے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اور جس تواتر سے اپنے ترجمانوں کو اپنے بیانئے کا رٹا لگواتے ہیں ا س سے آدھی مرتبہ پارلیمنٹ میں آ کر بیٹھے ہوتے تو وہ کچھ نہ دیکھنا پڑتا جو کچھ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ادھر بھوانہ بازار فیصل آباد میں جوتوں کی ایک دکان ہوتی تھی جس کا مالک بہت ہوشیار آدمی تھا۔اس نے جہاں پوری دکان کو بجلی کے قمقموں سے جگمگا رکھا تھا۔ وہیں دکان کے باہر سٹول پر ایک نوعمر گورے چٹے گولڈن رنگ کے بالوں والے لڑکے کو بٹھا رکھا ہوتا تھا اور اردگرد کے دیہاتو ں سے آنے والے سادہ لوح دیہاتی اس خوبصورت لڑکے کو دیکھتے دیکھتے دکان میں جا گھستے اور اندر سے کوئی نہ کوئی جوتا لے کر ہی باہر نکلتے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ نے بھی کچھ ایسا ہی سامان کیا ہوا ہے اور سادہ لوح پاکستانیوں کے دل کو لبھایا ہوا ہے۔اس قوم کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایک ایسے شخص سے کچھ کر گزرنے کی توقع لگا رکھی ہے جس نے ساری عمر سوائے کھیل کود اور پش اپ لگانے کے کچھ نہیں کیا۔

خیر بات ہو رہی تھی کابینہ کی جہاں بڑے بڑے جغادری ایکسپرٹس نابیناؤں کی طرح اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور جن پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ

خنجر اٹھے گا  نہ  تلوار  ان سے

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں 

کابینہ ہر ہفتے تواتر سے ملتی مگر وہاں سے کبھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سستی بجلی، سستی گیس اور سستے قرضوں کی نوید آتی ہے تو کبھی تعمیراتی شعبے کے لئے کالے دھن کو سفید کرنے کے پرمٹ جاری ہوتے ہیں۔ غضب خدا کا بزنس مین کھلے بندوں کہتے پائے جاتے ہیں کہ ایسی مراعات ہر کاروباری شعبے کو دے دی جائیں اور غریب کا بالکل ہی کچومر نکال دیا جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ کابینہ میں مختلف صنعتی شعبوں کے نمائندے بھرے ہوئے ہیں جن کا ایک عام پاکستانی سے کچھ سروکار نہیں۔ چینی کے معاملے کو ہی لے لیجئے، بظاہر کہا جارہا ہے کہ گنے کی قیمت سرکاری نرخ 200کی بجائے 300روپے میں فروخت ہونے سے کسان کو فائدہ ہو رہا ہے لیکن جب یہ قیمت فروخت چینی کی پیداواری قیمت میں ٹرانسلیٹ ہوتی ہے تو بازار میں ایک کلو چینی کا بھاؤ 125روپے فی کلو تک جا پہنچتا ہے جس کو کم کرنے کے لئے حکومت باہر سے چینی امپورٹ کی اجازت دے کر قیمتی زرمبادلہ خرچ کرتی ہے اسی لئے لگتا ہے کہ یہ نابیناؤں کی کابینہ ہے جہاں جس ارسطو کو جو سمجھ آتی ہے،

کر گزرتا ہے اور عمران خان ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور عوام سے ترس کھانے کی استدعا کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں بغیر تیاری کے حکومت میں بٹھادیا گیا ہے، اس لئے ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اسی لئے تو انہی کالموں میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اضافی کرایہ لے کر بروقت منزل مقصود پر پہنچانے والا وہ مشاق ڈرائیور اس سے کہیں بہتر ہے جو پیسے تو پورے لیتا ہے لیکن جسے گاڑی کا سلف تک لگانا نہیں آتا اور منہ سے گھوں گھوں کرکے گاڑی چلنے کی آوازیں نکال نکال کر مسافروں کو متاثر کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ اسی لئے عمران خان کو اپنے ترجمانوں کے پے درپے اجلاس کرنا پڑتے ہیں تاکہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی ملکی صورت حال کے مطابق اپنے بیانئے کو بدلا جا سکے۔ مثال کے طور پر ملک میں گیس کی عدم دستیابی کا کیا خوبصورت جواز دیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دسمبر اور جنوری میں گیس کی قلت ہوگی جبکہ شاہزیب خانزادہ چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ ندیم بابر نے بروقت آر ایل این جی امپورٹ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جس سے ملک میں گیس کا بحران پیدا ہوا ہے۔ 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کابینہ کے پیچھے کارفرما قوتوں کا ہدف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے میثاق جمہوریت کاگلہ گھونٹنا ہے۔ دیکھاجائے تو وہ قوتیں بڑ ی حد تک کامیاب بھی ہو گئی ہیں اور آصف زرداری کو کرپٹ ثابت کرنے کے بعد اب سارا زور نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرنے پر لگایا جا رہاہے۔ وہ تو بھلا ہو مولانا فضل الرحمٰن کا کہ اپنی افرادی قوت کو میثاق جمہوریت کی سپورٹ پر لے کر کھڑے ہو گئے ہیں اور دینے والوں کو ایسے بیانات دینے پڑ رہے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ وہ کسی سے بھی بیک ڈور چینل سے رابطے میں نہیں ہیں۔

اب ایک طرف مولانا کی للکار، یلغار اور شُستہ بیانی ہے تو دوسری جانب نابیناؤں کی کابینہ ایسی ایسی درفنطنیاں چھوڑ رہی ہے کہ نواز شریف خود بخود دوبارہ سے عوام کے مرکز نگاہ ہوتے جا رہے ہیں۔ آجا کر مسئلہ آصف زرداری کا ہے جنھیں یہ شوق چرایا ہوا ہے کہ صدر پاکستان بننے کے بعد انہیں وزیر اعظم بھی بنادیا جائے، خواہ اگلے دو اڑھائی سال کے لئے ہی سہی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا یہ شوق پی ڈی ایم کو کس قدر مہنگا پڑتا ہے کیونکہ2008ء سے2013ء کے درمیان ان کی صدارت میں یکے بعد دیگرے دو وزرائے اعظم نے جو گل کھلائے تھے،وہ بھی موجودہ حکومت کے کارناموں سے کچھ کم نہ تھے جب لوڈ شیڈنگ کا یہ حال تھا کہ لوگ کام کا موڈبناتے تھے تو بجلی چلی جاتی تھی اور بجلی بحال ہوتی تو کام کے موڈ کا بیڑہ غرق ہو چکا ہوتا تھا۔ 

نہ لٹتا دن کو،تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا 

رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو 

مزید :

رائے -کالم -