ن لیگ نے منی بجٹ کی منظوری متنازع قرار دیتے ہوئے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

ن لیگ نے منی بجٹ کی منظوری متنازع قرار دیتے ہوئے حکومت پر سنگین الزام عائد ...
ن لیگ نے منی بجٹ کی منظوری متنازع قرار دیتے ہوئے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) مسلم لیگ نے منی بجٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری کو متنازعہ قرار دے دیا، شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیلی فون کالز سے عددی برتری حاصل کی۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن)نے فنانس ترمیمی بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کو خلاف ضابطہ قرار دے دیا۔ فنانس ترمیمی بل کی منظوری میں قواعد کی خلاف ورزی پر ن  لیگی  رہنماوں  کےہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قانون سازی عجلت میں ہوئی، حکومت بتائے کس بات کی جلدی تھی؟ حکومت کو ٹیلی فون کالز پر اکثریت ملی،وہ حکومت جو 200 ارب لانے کے دعوے کرتی تھی جس میں سے 100 ارب ہم نےعالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف )  کے منہ پر مارنے تھے آج تین  سال ہوگئے ہیں ،آئی ایم ایف چھ  ارب ڈالر ہمارے منہ پر مارتا ہے اور دیتا بھی نہیں۔

شاہد خاقان عباسی نےسپیکراسد قیصر پر بھی شدید تنقید کرتےہوئے کہاکہ  آج کسی قانون، آئین اور پارلیمانی روایات کی پرواہ نہیں ہے اور یہ پاکستان کے پارلیمان کی حقیقت ہے،یہ سب اس وقت ہوا جب پاکستان کا وزیراعظم ایوان میں بیٹھا ہوا تھا، کیا اس ملک کے نمائندوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان معاملات پہ بحث ہوسکے؟.انہوں نےکہاکہ سٹیٹ بینک کا بل اس حوالے بھی خطرناک بل ہے کہ ہم اپنی معیشت کی چابی  آئی ایم ایف  اور دیگر اداروں کے حوالے کررہے ہیں،اُس پر ایوان میں کوئی بات نہیں ہوسکتی،اس بل کو رات کے 11 بجے بغیر بحث کیے بغیر کوئی ووٹ ہوئے اسے پاس کرایا گیا۔

سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا  کہ  13 جنوری پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، جس دن حکومت نے 350ارب کا عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالااور پاکستان کی مالیاتی خودمختاری کو سرنڈر کرنے کا سٹیٹ بینک بل بلڈوز کیا۔انہوں نےکہا کہ وزیر خزانہ چھ ماہ پہلے جنت کی تصویر دکھا رہے تھے، اب منی بجٹ لا کر عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ دیا گیا،چھ  ماہ پہلے یہی وزیرخزانہ صاحب اپنے بجٹ کی تقریر میں فرمارہے تھے کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کردیا ہے، یا تو آپکا جنت کا وہ دعویٰ جھوٹا تھا جو چھ   ماہ پہلے آپ دکھا رہے تھے یا اب آپ جو قدم اٹھا رہے ہیں یہ قوم کیساتھ ظلم ہے۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے خسارے میں کمی کی تجویز دی، حکومت خسارہ کم کرنے کے لیے اپنے خرچے کم کرتی لیکن حکومت نے عوام پر اربوں روپے کے ٹیکس عائد کردیے۔سابق وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا کہ عمران خان نے یہ بل پاس کروا کے اپنی خود کشی کے پروانے پر دستخط کیے ہیں۔

مزید :

قومی -