سفارشی پرچیوں پر کھاد تقسیم کرنیکا انکشاف،کسانو ں کا احتجاج

سفارشی پرچیوں پر کھاد تقسیم کرنیکا انکشاف،کسانو ں کا احتجاج

  

ٹبہ سلطان پور،کبیروالا،اوچشریف(نامہ نگار، نمائندہ خصوصی) پاکستان کسان اتحاد تحصیل کبیروالا کے صدر میاں محمد یعقوب جھنڈیر،سنیئر ضلعی رہنماؤں،تحصیل وسٹی کبیروالا کے دیگر عہدیداران مہر خضر حیات ہراج،پیر جاوید شاہ،مہر عبدالرشید باٹی،مہر عالمگیر ہراج،مہر غلام عباس ہراج،مہر شفقت حسین مرالی،مہر شفقت حسین ہراج،وقاص احمد خان بھٹہ اور دیگر کے(بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

 ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھاد کی کمی نہیں ہے،موجودہ کھاد کے بحران کے پیچھے تحصیل انتظامیہ کی بد انتظامی، محکمہ زراعت کابلیک مارکیٹنگ کرنے والے مافیاز کے ساتھ ’ڈیل“ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے ”باردانہ“ کی تقسیم کرتے وقت کسانوں کو لائنوں میں لگواکر ذلیل ورسوا کیا،جس کا نتیجہ پاکستان میں گزشتہ تین سالوں سے گندم کی کمی کی صور ت میں بھگتنا پڑرہا ہے،موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور رٹ نہ ہونے کی وجہ سے رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے اور موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کسانوں کو ”کھاد“ کی ایک بوری کے لئے لائنوں میں لگاکر جس ذلت آمیز سلوک کررہی ہے،اس کا خمیازہ ملک کو آئندہ سال گندم کی عدم دستیابی کی صورت ایک بڑے بحران کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایک ٹرالے پر16سے کھاد کے بیگز ہوتے ہیں،جن میں سے 4سو بیگز کسانوں کو لائنوں میں ذلیل ورسوا کرکے کنٹرول ریٹس دئیے جاتے ہیں جبکہ 4سو بیگز حکومتی اور انتظامی افسران کی ”سفارشی پرچیوں“ پر من پسند لوگوں کو دئیے جاتے ہیں،جس میں ایسے سفارشی لوگ بھی ہوتے ہیں،جن کا زراعت یا کاشتکاری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ تحصیل کبیروالا میں کھاد کی کنٹرول ریٹس پر عدم دستیابی کا شدید بحران ہے،پاکستان کسان اتحاد ضلعی اور تحصیل انتظامیہ سے آئندہ 48گھنٹوں میں کھاد کی کنٹرول ریٹس پر فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتاہے،اتوار تک مطالبے کے مطابق کھاد کی دستیابی ممکن نہ ہوئی تو 17جنوری بروز سوموار پاکستان کسان اتحاد،ہزاروں متاثرہ کسانوں کے اہم شاہراؤں پر احتجاجی دھرنے دیا گیا،جس کے بعد پیدا ہونیوالے تمام حالات کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے افسران پر ہوگی۔ اوچ شریف اورگرد نواح میں کھاد کا بحران شدت اختیار کر گیا کھاد نہ ملنے سے فصلات تباہ ہونے لگیں تحصیل بھر کے کاشتکار سراپا احتجاج بن گئے ہیں اوچ شریف اور مضافات سے تحصیل صدر کسان اتحاد را فاروق کی قیادت میں کاشتکار اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے باہر پہنچے تحصیل بھر سے کاشتکاروں نے پہنچ کر احتجاج کیا تحصیل صدر را فاروق نے کہا کنٹرول ریٹ پر کھاد غائب ہو جاتی ہے اوربلیک پر فراہم کر دی جاتی ہے جو انتظامیہ کی نااہلی ہے یا پھر انکی مرضی سے مصنوعی بحران کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کشتکاروں کی فصلات تباہ ہو رہی ہیں کاشتکاروں کو معاشی طور پر تباہ کیا جا رہا ہے بلیک مافیا کے خلاف کاروائی کی جائے کسانوں کو کھاد فراہم کی جائے,احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر میلسی نے کھاد ڈیلروں کے آگے ہاتھ کھڑے کردئیے ٹبہ سلطان پور میں یوریا کھاد کے بحران کے باعث گندم کی بڑھوتری شدید متاثر ہونے کے ساتھ رنگ بھی پیلا ہونے لگے ہیں یوریا کھاد کی قلت کی وجہ سے حکومتی گندم کا پیدواری حدف بھی پورا ہونا ممکن نہیں رہے گا ڈی اے پی کھاد کی قیمت بھی آسمان کو چھو رہی ہے محکمہ زراعت کے متعلقہ آفسران اور اسسٹنٹ کمشنر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کھاد کی قلت کے باعث ڈیلروں اور کاشتکاروں میں لڑائی جھگڑے بھی معمول بننا شروع ہوگئے ہیں علاقہ کے کاشتکاروں محمد افضل،اقبال، محمد نعیم، امیر معاویہ، اللہ دتہ، محمد حسین اور دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وہاڑی اور کمشنر ملتان سے فوری طور پر گندم کی  موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلیک میں یوریا کھاد فروخت کرکے بحران پیدا کرنے والے ٹبہ سلطان پور کے ڈیلروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کھاد بحران

مزید :

ملتان صفحہ آخر -