پی آئی اے،باکمال لوگ، لاجواب سروس، دعوے بے نقاب

پی آئی اے،باکمال لوگ، لاجواب سروس، دعوے بے نقاب

  

 ملتان (نیوز رپورٹر)قومی ایئر لائن (پی آئی اے) انتظامیہ کی جانب سے ایک ہی پرواز کو متعدد ایئرپورٹس پر منتقل کرنے سے نہ صرف مسافر خوار ہوکر رہ گئے بلکہ پی آئی اے کی اس ناقص کارکردگی سے ورک ویزہ ہولڈرز کو متعدد بار کورونا ٹیسٹ کروانے پر بھی ہزاروں روپے کے مزید بوجھ تلے پس کر رہ گئے ہیں ذرائع کے مطابق 16 جنوری پی آئی اے کی پرواز پی(بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

 کے 9715 ملتان سے مدینہ کے لیئے 200 سے زائد مسافروں کی بکنگ کی گئی جس کی 40۔ 4 منٹ پر روانگی تھی جس پر مسافروں نے کورونا ایس پیز کے تحت فی مسافر 6 ہزار ادا کرکے لیبارٹری سے  کورونا ٹیسٹ بھی کروالیا اور اچانک پی آئی اے انتظامیہ نے اسی سپیشل پرواز کو ملتان، مدینہ کی بجائے لاہور سے مدینہ اناونس کردیا جس کی ٹائمنگ رات ایک بجے تھی انتظامیہ مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ لاہور ایئرپورٹ پہنچیں جب مسافر لاہور پہنچے اور دوبارہ کورونا ٹیسٹ کی ادائیگیوں سے ابھی فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ پی آئی اے انتظامیہ نے وہی پرواز پی کے 9747 کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے منسلک کردیا ہے جس نے مسافروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے مسافروں کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت و ناقص منصوبہ بندی نے ورک ویزہ ہولڈرز کا نہ صرف شدید مالی نقصان سے دوچار کیا ہے بلکہ سعودی عرب کے قوانین مطابق ہوٹل میں پانچ دن کے قیام کا شیڈول بھی درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے مسافروں کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت کے باعث اوورسیز پاکستانیوں کو مسافت و ذہنی اذیت کے ساتھ لاکھوں روپے کے اضافی بوجھ ڈال دیا ہے حکومت اوورسیز کی قربانیوں کا ذکر تو کرتی ہے لیکن عملی طور پر بھی اس بدنظمی کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لے۔

خوار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -