قومی اسمبلی، منی بجٹ، بڑھتی مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں اضافے پراپوزیشن کا واویلا 

قومی اسمبلی، منی بجٹ، بڑھتی مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں اضافے پراپوزیشن کا ...

  

 اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے ایک بار پھر منی بجٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نا اہل حکومت نے مہنگائی آسمان پر پہنچادی ہے،اسٹیٹ بینک کو گروی رکھ دیا ہے،اپوزیشن کے احتجاج کا حکومت پرکوئی فرق نہیں پڑتا،اسمبلی ملازمین کے اعزازیے پر یوٹرن نہ لیا جائے،اگلی تین بینچز والوں  کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، پاکستان بچ جائیگاجبکہ وزیر مملکت علی محمد خان نے حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے،جس طرح اسپیکر چیئر کی بے احترامی کی گئی اس طرح ہم سب کی عزت کم ہوتی ہے،سپیکر پر کاغذ پھینکے جا رہے تھے،سپیکر کی چیئر تو فنانس بل نہیں لا رہی تھی،ہم نے اگر اپنے لیڈر کی عزت کرانی ہے تو پھر دوسروں کے لیڈر کی بھی عزت کرنا ہوگی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں شروع ہو ا تو پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری  نے کہاکہ اسمبلی میں ساڑھے 3 سو ارب کے نئے ٹیکسز عوام پر مسلط کیے،نااہل حکومت نے مہنگائی آسمان پر پہنچا دی گئی،اسٹیٹ بنک گروی رکھ دیا گیا،اپوزیشن کے احتجاج کا حکومت پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہاکہ اس اسمبلی کے ملازمین اور ایمپلائز کو اعزازئیے کاوعدہ کیا گیا مگر نہیں ادا کیا گیا،خدارا اسمبلی ملازمین کے اعزازیے پر یوٹرن نہ لیا جائے۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ پی آئی ڈی اور ریڈیو کا اعزازیہ رہتا ہے وہ دیدیں گیب اقی کے دے دئیے،اپوزیشن کا نقطہ نظر ٹھیک طریقے سے سامنے آیا،اپوزیشن نے احتجاج کیا اورانکایہ حق ہے،مجھے دکھ ہے جو آخری 15 منٹ میں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ جسطرح سپیکر چیئر کی بے اخترامی کی گئی اسطرح ہم سب کی عزت کم ہوتی ہے،اگر ہم میں سننے کا حوصلہ نہیں تو ہم حکومت نہیں ہیں،ہم نے اگر اپنے لیڈر کی عزت کرانی ہے تو پھر دوسروں کے لیڈر کی بھی عزت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی اپوزیشن میں احتجاج کیا مگر ایسا نہ کیا،ہم نے اپوزیشن میں رہ کر کبھی لڑائی نہ کی،سپیکر پر کاغذ پھینکے جا رہے تھے سپیکر کی چیئر تو فنانس بل نہیں لا رہی تھی،آپ میرے خلاف حکومت اور خان صاحب کیخلاف احتجاج کریں مگرسپیکر کرسی کا احترام کریں۔خواجہ آصف نے کہاکہ جو کچھ سپیکر کی کرسی سے ہوا کیا وہ احترام کرانے والا تھا،جو کچھ سپیکر کی کرسی نے رولز کے ساتھ کیا وہ قابل افسوس تھا،جوکچھ سپیکر کی کرسی نے کیا اس نے جنرل پرویزمشرف کے دور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،جو کچھ یہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے کرتے رہے ہیں وہ کسے یاد نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی قانون سازی کل ایسی نہیں تھی جو فوری لازمی تھی،آپ نے دوسوارب ڈالر لانے اور قرض داروں کے منہ پر مارنا تھا،آپ نے پورا سٹیٹ بینک ان کے منہ پر مار دیا، اس ایوان سے ڈھاکہ سے بڑا سرنڈر کیا گیا ہے،آج اختر مینگل جو گفتگو کرتا ہے اس کا ذمہ دار یہ ایوان اور سپیکر کی کرسی ہے،تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔نور عالم خان نے کہاکہ ہم بھی بیک بینچرز بھی ووٹ لے کر آتے ہیں، صرف اگلی تین روز ہی نہیں ہیں،کیا ہم صرف یہاں ووٹ دینے آتے ہیں؟ ویسے گناہ گار یہ اگلی تین روز (قطاریں) ہی ہیں،ڈپٹی سپیکر آپ ہماری طرف دیکھتے ہی نہیں ہیں، آپ کو یہی تین قطاریں نظر آتی ہیں،کیا پاکستان میں صرف نوشہرہ، صوابی، سوات اور میانوالی ہی ہیں؟ باقی آپ کو نظر نہیں آتا، انہوں نے کہاکہ ہمارے حلقوں میں بجلی آتی ہے، نہ گیس آتی ہے،براہ مہربانی اپنی لینڈ کروزر سے نیچے اتریں، اپنے جہازوں سے اتریں، عوام کی حالت دیکھیں،عوام کو اشیائے ضروریہ تک کے فقدان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگلی تین بینچز والوں  کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، پاکستان بچ جائیگا۔مسلم لیگ (ن) کے ریاض پیرزادہ نے کہاکہ پہلے ہم نے دریا دے دیئے پھر کشمیر دے دیا اب سٹیٹ بینک بھی دے دیا،گزشتہ روز جو کچھ ہوا کیا قیامت آگئی تھی،آج وزیر اعظم آفس کی طرف جاتی غیر منتخب لوگوں کی گاڑیوں کے کانوائے دیکھے،وزیر اعظم کا کیا پروٹوکول ہے یہ اس سے کہیں زیادہ تھا،منتخب لوگوں کو گالیاں پڑتی ہیں،اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ الیکشن لڑنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ امجد علی خان نے کہاکہ بات کی گئی کہ جلدی میں سٹیٹ بینک کا بل پاس کیا گیا،خزانہ کمیٹی میں سٹیٹ بینک بل پر طویل مشاورت کی گئی،سٹیٹ بینک بل پر اپوزیشن کی تجاویز کو بھی مانا گیا،آج اس بل پر سیاست کی جارہی ہے، انہوں نے کہاکہ ہم نے اداروں کو خودمختاری دیکر معیشت کو بہتری کی جانب لیکر جانا ہے،ایسا کہنا کہ سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا افسوسناک ہے،وزیراعظم سٹیٹ بینک کے بورڈ اف ممبرز اور گورنر کی تعیناتی کریگا۔تحریک انصاف کے فہیم خان نے کہاکہ یہاں حکومت پر بڑی تنقید کی جارہی ہے،سندھ کی بات کیوں نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہ رخ جتوئی نامی قاتل کو کس طرح کا پروٹوکول دیا جارہا تھا سب کے سامنے ہے،سندھ میں لاقانونیت کی حد ہوگئی ہے۔محسن داوڑ  نے کہاکہ ایک وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا کی گیس پر بیان دیا،انکا بیان غلط تھا ہم 360 نہیں 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پروڈیوس کرتے ہیں،4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہمارا صوبہ پروڈیوس کرتا ہے مگر 30 ڈالر پر آر ایل این جی خریدی جا رہی ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہاکہ سٹیٹ بنک کا جو بل پاس کیا ہے اس میں اب پاکستان کی خودمختاری کی بات نہیں رہ گئی، انہوں نے کہاکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 17 فیصد پاکستان کی کرنسی ڈی ویلیو ہوئی ہے۔قومی اسمبلی کااجلاس 17 جنوری شام 4 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی 

مزید :

علاقائی -