یوکرائن تنازع: روس سخت موقف پرڈٹ گیا، یورپ 30سال بعد پھر جنگ کے دہانے پر، واشنگٹن تشویش میں مبتلا 

یوکرائن تنازع: روس سخت موقف پرڈٹ گیا، یورپ 30سال بعد پھر جنگ کے دہانے پر، ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) واشنگٹن کے سکیورٹی مبصرین کو شدید تشویش ہے یورپ 30سال بعد پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی الیکٹرانک میڈ یا پر اپنے تجزیوں میں اس سلسلے میں پولینڈ کے وزیر خارجہ زبیگنیو راؤ کی وارننگ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ پولینڈ کے اعلیٰ ترین سفارتکار نے کہا تھا یوکرائن کے معاملے میں روس جس سخت موقف پر اٹک گیا ہے اس نے یورپ میں جنگ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ روس نے وضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت یوکرائن کو نیٹو تنظیم کا رکن نہیں بننے دے گا۔ سکیورٹی مبصرین کو امریکہ اور نیٹو ممالک کے ان خدشات سے اتفاق ہے کہ یوکرائن کی سرحد پر اپنی افواج کی تعداد کو ایک لاکھ تک بڑھانے کا روس کا یہی مقصد ہے کہ اگر یوکرائن نے ایسا اقدام کیا تو پھر وہ اس پر حملہ کردے گا۔ ان مبصرین نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے پہلے ہی یوکرائن پر سائبر حملہ کر رکھا ہے اور اہم سرکا ری ویپ سائٹس کو ہیک کرلیا ہے۔ روس نے 2014ء میں یوکرائن پر فوجی دھاوا بولا تھا جس کے بعد اس کی امریکہ اور نیٹو کیساتھ کشیدگی بڑھ گئی تھی،تاہم جنگ نہیں ہو ئی لیکن اس مرتبہ مبصرین کی رائے میں روس کی دوبارہ فوجی مداخلت کی صورت میں اسے عملی مزاحمت کا سامنا کرناپڑے گا۔ اس دوران یوکرائن کے صدر زیلنسکی نے تجویز پیش کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے روس امریکہ اور یوکرائن کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں، تازہ کشیدگی کے باعث ان کا ملک زندگی و موت کے درمیان لٹکا ہواہے۔ ان کی یہ تجویز ایسے موقع پر آئی ہے جب روس کے امریکہ اور نیٹو کیساتھ سکیورٹی مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہے۔

مزید :

علاقائی -