ڈاکٹروں کی غفلت سے نوجوان جاں بحق، لواحقین کا احتجاج 

ڈاکٹروں کی غفلت سے نوجوان جاں بحق، لواحقین کا احتجاج 

  

لاہور (جنرل رپورٹر، کرائم رپورٹر) سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں نوجوان کی ہلاکت،لواحقین کازبردست احتجاج،ایمرجنسی میں ہنگامہ کھڑا کردیا،ڈاکٹر نے مطابق لواحقین کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ لواحقین کا کہناہے کہ ڈاکٹروں نے ان پر تشدد کیاہے،دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز اپنے ہی جال میں پھنس گئے،سروسز ہسپتال میں نوجوان مریض حامد کی ہلاکت کے بعد ڈاکٹرز نے 6 بجکر 43 منٹ پر جعلی پرچی بنائی۔ جعلی پرچی پر جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مریض کو ایمرجنسی میں صبح 5 بجکر 52 منٹ پر ایمرجنسی میں لایا گیا۔ سروسز ہسپتال ایمرجنسی میں 6 بجے کے بعد مریض حامد کی ہلاکت واقع ہوئی۔ ڈاکٹرز نے علاج میں کوتاہی برتی جس کے باعث جعلی سرٹیفکیٹ بنانا پڑا۔ مریض کو اگر جان بوجھ کر نہیں مارا گیا تو پھر جعلی پرچی کیوں بنوائی گئی؟ ایمرجنسی کمپیوٹرائزڈ ہونے کے باوجود جعلی پرچی بنانا سوالیہ نشان بن گیا تفصیلات کے مطابق جمعہ کی صبح سروسز ہسپتال میں حامد نامی نوجوان مریض کو لایا گیا داخلے کے بعد مریض ڈاکٹرز کا انتظار کرتے کرتے دم توڑ گیا جس کیخلاف لواحقین نے احتجاج کیا جس کے جواب میں ڈاکٹرز نے بھی سروسز ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور روڈ پر نعرے بازی کی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب مریض مر گیا تو ڈاکٹر نے نئی پرچی بنا لیں اور اس کو رسیو ڈیڈ کا نام دیدیا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعہ کیخلاف سروسز ہسپتال میں رات گئے تک تحقیقات جاری رہیں جس کی ابتدائی رپورٹ کرنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی گئی ہے۔ کیمرے میں تیس سالہ نوجوان پیدل چل کر ہسپتال کی ایمرجنسی میں آتا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے بد قسمت نوجوان بیڈ پر پڑا رہتا ہے مگر اسے کوئی ڈاکٹر چیک نہیں کرتا آخر کار وہ دم توڑ جاتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ ڈاکٹرز کے خلاف بنائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرنے والا حامد ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی بھینٹ چڑھا آج رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی لگاؤ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ رپورٹ سکریٹری محکمہ صحت کو پیش کر دی گئی ہے جو آج وزیر اعلی کو پیش کرے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں ڈاکٹروں کی غفلت ثابت ہوگئی ہے تا ہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احتشام الحق کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہے پورٹ آنے پر ہی پتہ چل سکے گا کہ معاملہ کیا ہوا۔

مریض جاں بحق

مزید :

صفحہ آخر -