توہین عدالت کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ 

توہین عدالت کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس علی باقر نجفی نے پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے ڈیلی ویجزملازمین کی مستقلی کے معاملہ پر چیئرمین پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عدالت کوبتایا کہ ان تمام ملازمین کا معاہدہ منسوخ ہوچکا ہے،حکومت جلد ہی نیا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنانے جارہی ہے، نئے ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں ان ملازمین کو عمر کی رعائیت دی جائیگی اور تجربہ کا بھی ملے گا، فاضل جج نے کہا کہ کیا ممکن حکومت نئے منصوبہ کی تکمیل تک ان ملازمین کے کنٹریکٹ  معاہدے میں توسیع کردے،اگر حکومت کنٹریکٹ ملازمین کا معاہدہ بڑھادے تو بہت سارے لوگ بے روزگاری سے  بچ جائینگی  ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت کو تاحال معاشی بحران سے دوچار ہے جس وجہ ایسا کرنا ممکن ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کب تک نیا منصوبہ شروع کرلے گی؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ کوئی خاص تاریخ دینا ممکن نہیں ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت 6 ماہ کے لیے ان ملازمین کا کنٹریکٹ کا معاہدہ بڑھا سکتی ہے تاکہ بہت سارے لوگوں کو بے روزگاری سے بچایا جائے سکے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اس پر دیکھانا ہوگا کہ مالی بوجھ کتنا پڑے گا، صائمہ اسلم سمیت دیگر کی درخواستوں میں موقف اختیارکیا گیا تھاکہ یہ موقف تو ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس پہلے دن سے ہی اپنا رہے ہیں،  حکومت صحت کارڈ میں اسٹیٹ لائف کو اربوں روپے دے رہی ہے ان اساتذہ کے لیے پیسے ہی نہیں،فنڈ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے درخواست گزار کو حکومتی پالیسی کے تحت ریگولر نہیں کیا جا رہا ہے،درخواست گزاروں  نے شنوائی نہ ہونے پر عدالت عالیہ سے رجوع کیا،عدالت نے ان کوریگولر کرنے کی درخواست دادرسی کے لیے چیئرمین کو بھجوا دی،عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے،عدالتی حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیاجارہا ہے،عدالت سے استدعاہے کہ چیئرمین پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے اورحکومت کو اساتذہ کو مستقل کرنے کا حکم دیاجائے۔

فیصلہ محفوظ 

مزید :

صفحہ آخر -