منی بجٹ عوام کا قتل نامہ، سٹیٹ بینک کانام اب غلام بینک ہونا چاہئے، مسلم لیگ (ن) 

منی بجٹ عوام کا قتل نامہ، سٹیٹ بینک کانام اب غلام بینک ہونا چاہئے، مسلم لیگ ...

  

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ  منی بجٹ   عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی، پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا اور کل گالا ہی کاٹ دیا،پاکستان کے عوام پر 7 سو ارب روپے سے ز ائد کا بوجھ ڈالا جارہا ہے، 13جنوری  پارلیمان کا سیاہ ترین دن تھا، اسکی کوئی تاریخ میں مثال نہیں کہ ایوان میں بحث بھی نہ ہوسکے،رات کے اندھیرے میں بغیر کسی بحث ہوئے منی بجٹ  پاس کروایا گیا، آئی ایم ایف کی تابعداری میں بل بھی پاس کیا گیا،اسٹیٹ بینک کا نام   اب غلام بینک رکھ دینا چاہئیے،سب سے خطرناک بل ہے کہ اپنی معیشت کی چابی ہم آئی ایم ایف کے حوالے کررہے ہیں،وزیر خزانہ 1997 سے ہر حکومت میں رہے ہیں،   جب حکومت بے شرم ہو جائے وزیراعظم جھوٹ بولے تو ایسا ہی ہوتا ہے،اپوزیشن کا کام ایوان میں عوام کی آواز کو پہنچانا ہے،عمران خان نے پہلے غریبوں کا گلہ کاٹا اور سرنج سے خون نکالا جارہا ہے، یہ حکومت کئی سو ارب روپے جرمانے کی صورت میں ملک برداشت کررہا ہے، ثاقب نثار کو مبارک اپکا صادق اور آمین ملک کو ایک سو ارب روپے کا پڑا ہے، حکومت فیل وزیروں کی سرکس ہے۔ ایک وزیر اپنی وزارت میں فیل ہو جائے تو اس کو اس سے بھی بڑی وزارت مل جاتی ہے۔ 23 مارچ کو عظیم الشان عوامی پریڈ ہوگی،حکومت اس پریڈ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف  اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو ان کی زندگیاں مشکل بنانے پر معاف نہیں کرے گی، عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں دفن کر دیں گے۔قائد حزب اختلاف و صدر مسلم لیگ نون شہباز شیرف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ملک کی پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا، پہلے ہی تاریخی مہنگائی کی زد میں آنے والے عوام پر منی بجٹ مسلط کر دیا گیا۔   شاہد خاقان عباسی  ،خرم دستگیر، مفتاح اسماعیل اور احسن اقبال نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ن لیگ کے سینئر رہنماء و سابق وزیراعظم   نے کہا   ہے کہ کل پارلیمان کا سیاہ ترین دن تھا۔ پاکستان کے عوام پر 7 سو ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالا جارہا ہے۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے کوشش کی ایوان میں ان کر ووٹنگ بھی نہ ہوسکے۔اسکی کوئی تاریخ میں مثال نہیں کہ ایوان میں بحث بھی نہ ہوسکے۔عجلت میں بلز پاس کروانے گئے وہ عجلت کیا تھی بتانے سے قاصر تھے۔سب سے خطرناک بل ہے کہ اپنی معیشت کی چابی ہم آئی ایم ایف کے حوالے کررہے ہیں۔رات کے اندھیرے میں بغیر کسی بحث ہوئے اسے پاس کروایا گیا۔اسپیکر سے کہا حکومت سے کہا حقائق تو سامنے رکھیں۔نجی محفلوں میں وزراء  کہتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں۔آپ مجبور ہیں تو ایسے بل کا دفاع کیوں کررہے ہیں؟۔ شاہد خاقان عباسی  نے کہا کوئی رولز، آئین اور روایات کی پرواہ نہیں کی گئی۔یہ سب کچھ ہوا جب وزیر اعظم ایوان میں موجود تھے۔ اعددی برتری تو ٹیلی فونز نے پوری کردی کم از کم بحث تو ہوتی۔ اعددی برتری آپ نے ٹیلی فون سے حاصل  کی ۔ آئی ایم ایف بھی بات سن لے یہ بلز واپس لئے جائیں گے۔ یہ بل آئی ایم ایف کے حق میں ہوسکتا کے پاکستان کے حق میں نہیں۔ 6 ارب کے قرضے لینے کے لئے آج ہم اپنی معیشت آئی ایم ایف کے کرنے کو تیار ہیں۔وزیر خزانہ 1997 سے ہر حکومت میں رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کو آج سب باتیں یاد آئی ہیں پہلے تو ان سے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی۔کل جو بل پاس ہوا شائد اسکے بعد پاکستان کی معیشت نمبر ون پر آجائے۔ وزیر اعظم اور انکے ہمنوا ایسے ہی پیش کریں گے،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور بڑھے گی۔   شاہد خاقان عباسی  نے کہا  پارلیمان بلڈنگ فتح  کرنے کو نہیں کہتے بلکہ آئین کے مطابق چلتا ہے۔جب حکومت بے شرم ہو جائے وزیراعظم جھوٹ بولے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔اپوزیشن کا کام ایوان میں عوام کی آواز کو پہنچانا ہے۔جو کچھ کل آپ نے دیکھا یہ صرف کرسکتے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہ ہوں۔انہوں نے کہا  مری میں 23 لوگ جان بحق ہوگئے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔جب موسم بہتر ہوگیا تو مری کا راستہ بند کردیا،، کیا مری جانا جرم ہے؟۔مری کی عوام نے لوگوں کی گاڑیوں سے برف ہتا کر لاشیں نکالیں۔ شاہد خاقان عباسی  نے کہا  ایران ایل این جی نہیں بناتا۔ ایل پی جی منگوائی ہوگی اور اس میں بھی گھپلا ہی ہوگا۔وزراء  سچ بولنے سے قاصر ہیں۔ کل جو جھگڑا ہوا وہ بھی گیس کی کمی کی وجہ سے ہوا۔ اگر ملک میں گیس کی کمی ہے تو کیوں کمی ہے کیونکہ آپ نے ایل این جی نہیں خریدی۔ چار روپے 60 پیسے فی یونٹ مہنگی بنانے پر ہر پاکستانی پیسے دے رہا ہے۔آپ جھوٹ بول رہے ہیں سفید جھوٹ تو نہ بولیں۔آپ ایل این جی خرید نہ سکا اور بوجھ عوام پر ڈال دیا۔کل پرویز خٹک سے کہا کہ میں 5 سال وزیر رہا کیا خیبر پختون کو ایک بھی تکلیف ہوئی؟۔کیا اس وقت خیبر پختون خواہ میں سی این جی نہیں چلتا تھا۔آج خیبر پختون خواہ کے پاس اس سے بھی زیادہ گیس ہے۔کیوں پورے پاکستان میں گیس کی کمی ہے۔جو وزیر آتا ہے وہ الف بے سے شروع کرتا ہے اور نکال دیا جاتا ہے۔کہتے ایل این جی ٹرمنل مہنگے ہیں تو شکایت کرو نا   نیب میں ،تم لگا لو سستا ساڑھے 3 سال میں کوئی ٹرمینل لگا ہے؟۔اس ملک کو تباہ نہ کریں عوام پر بوجھ مت ڈالیں۔ اس موقع پر   خرم دستگیر  نے کہا کہ  کل عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی۔ پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا اور کل گالا ہی کاٹ دیا۔ حساس قیمتوں کو انڈیکس جمعرات تک 22 فیصد تھا۔ مہنگائی کی بیماری کا علاج اس فنانس بل میں نہیں تھا۔  اشیاء  خوردونوش کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ۔ فنانس بل کا تمام فوکس مہنگائی میں اضافہ پر تھا۔ عمران خان نے پہلے غریبوں کا گلہ کاٹا اور سرنج سے خون نکالا جارہا ہے۔آئی ایم ایف کی تابعداری میں بل بھی پاس کیا گیا۔اسٹیٹ بینک کا نام   اب سلیو بنک یعنی  غلام بنک رکھ دینا چاہئیے۔عمران خان اور انکے حواریوں سمجھتے ہیں انہوں نے بل پاس کروایا ہے۔یہ بل پاس نہیں حقیقت میں انہوں نے اپنی خود کشی کے کاغذ پر دستخط کئے ہیں۔کروڑوں پاکستانیوں کا استحقاق مجروح ہوا جنھوں نے ہمیں منتخب کیا ہے۔عوام کے پوچھنے کا حق بھی غصب کیا گیا ہے۔  مفتاح اسماعیل  نے کہا  سالانہ کے حساب سے 7 سو ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ 348 ارب روپے کہاں سے آرہے ہیں؟۔ کیا ضرورت پڑی؟ آئی ایم ایف تو کہتا ہے بجٹ خسارہ کو کم کرو۔ آپ اخراجات کم کرلیتے، آپ نے ٹیکس لگا دیا۔ کسی بھی حکومت نے سن فلاور اور کنولا سیڈ پر ٹیکس نہیں لگایا تھا انہوں نے لگا دیا۔ عمران خان  کی اے ٹی ایمز کو ریلیف دیا ہوا ہے تو آئی ایم ایف کچھ نہیں کہتی۔ چکن ہچری،مرغی کی خوراک پر ٹیکس لگا دیا ہے کیا قیمتیں بڑھیں گی یا نہیں۔ ڈبل روٹی پر ٹیکس واپس لیا اور دکاندار پر ٹیکس لگا دیا۔آپ نے تمام مشنری پر ٹیکس لگا دیا ہے۔سرمایہ کار پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔آپ نے فرما سوٹیکلز پر 140 فیصد ٹیکس لگا دیا۔دوائیاں پہلے مہنگی کی اور اب ان کر ٹیکس لگا دیا ہے۔آپ کے پاس پہلے سے ڈاکومنٹیشن موجود ہے۔عمران خان بات کرتے ہیں بچوں میں غذائی قلت ہوگئی ہے۔بچوں کی غذائی قلت والی دوائی کر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ اول -