ضمنی بجٹ کی منظوری

ضمنی بجٹ کی منظوری

  

قومی اسمبلی میں شدید ہنگامے،نعرے بازی اور زور آزمائی کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین کا پیش کردہ ضمنی بجٹ منظور کرایا گیا۔اس کے ساتھ ہی سٹیٹ بنک کی خود مختاری کے حوالے سے پیش کیے جانے  والے مسودہ قانون کو بھی کتابِ قانون کا حصہ بنا دیاگیا۔14مزید قوانین پر قومی اسمبلی کی اکثریت نے اپنا انگوٹھا ثبت کر دیا،یوں حکومت نے اپوزیشن کا یہ دعویٰ ناکام بنا دیا کہ وہ ضمنی بجٹ اسمبلی سے پاس نہیں ہونے دے گی۔وزیراعظم عمران خان جو شاذ ہی ایوان میں تشریف لاتے ہیں،کئی گھنٹوں کو محیط اجلاس میں موجود رہے،اور ان کے گرد حفاظتی حصار قائم رہا۔اس سے پہلے برسر اقتدار جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی وزیراعظم سے نوک جھونک کی خبریں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چھائی رہیں۔ پرویز خٹک کو خیبرپختونخوا میں گیس نہ ملنے کی شکایت تھی، اور انہوں نے کڑے الفاظ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔وہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے باہر بھی نکل آئے،ان کے پیچھے پیچھے بعض دوسرے ارکان بھی باہر آتے دیکھے گئے،جو مبینہ طور پر انہیں منا کر واپس لے گئے۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب خٹک نے کہا کہ وہ تو سگریٹ پینے کے لیے اجلاس سے باہر آئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے ان کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔وہ ان کے ساتھ تھے اور ساتھ رہیں گے۔ خٹک صاحب سگریٹ نوشی کے لیے نکلے تھے یا ناراض ہو کر، اس سے قطع نظر انہوں نے میڈیا کو چٹ پٹی خبریں فراہم کر دیں۔ماحول ایسا بن گیا کہ حکومت دباؤ میں دکھائی دینے لگی،کئی تجزیہ کار بھی میدان میں اتر آئے،اور اپنی نکتہ طرازیوں سے بے یقینی میں اضافے کرنے لگے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے جب بھی گنتی کا مطالبہ کیا،اکثریت اُس کے ہاتھ نہیں آئی۔قوانین منظور کرنے کے لیے ایوان کی کل تعداد کی اکثریت درکار نہیں ہوتی،حاضر ارکان کی اکثریت فیصلہ کن ہوتی ہے۔سو، بل منظور ہوتے چلے گئے۔وزیر خزانہ اپنے دلائل دیتے رہے، حزبِ اختلاف کے رہنما اپنے نکتے بیان کرتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ ہو گا،نئے ٹیکس عوام پر مزید بوجھ ڈالیں گے۔ وزیر خزانہ اس کی تردید میں مصروف رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ٹیکس جو لگائے گئے ہیں، وہ ایڈجسٹیبل (Adjustable)  ہیں، یعنی گوشوارے داخل کرانے کے بعد انہیں واپس حاصل کیا جا سکتا ہے، ان کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کو ریکارڈ پر لانا ہے۔سٹیٹ بنک کی خود مختاری کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ کو اپوزیشن سے اتفاق نہیں تھا کہ گورنر سٹیٹ بنک کے اختیارات اور دائرہ کار میں جو بھی اضافہ ہوا ہے، وہ قانون کے تابع ہے۔ اگر مشکلات پیدا ہوں گی تو قانون بنانے والی پارلیمینٹ اس میں ترمیم بھی کر سکے گی۔ اختیار دینے والا اُسے واپس لینے کا  حق بھی رکھتا ہے۔

تفصیل میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے اس ضمنی بجٹ کی ضرورت تھی۔اُس نے آگے بڑھنے کے لیے جو شرائط عائد کر رکھی تھیں انہیں پورا کرنے کے لیے منی بجٹ اسمبلی سے منظور کرانا ضروری تھا۔ سٹیٹ بنک کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کے لیے بھی پارلیمینٹ کا ٹھپہ لازمی تھا۔ مذکورہ بلوں کے منفی یا مثبت پہلوؤں پر جو بھی روشنی ڈالی جائے، اور جس طرح بھی اظہارِ خیال کیا جائے،آئی ایم ایف کے پروگرام سے ”واک آؤٹ“ بہت مہنگا پڑ سکتا تھا۔حکومت ہی نہیں، ریاست کے لیے بھی اس کے اثرات تباہ کن ہوتے۔یہ بات حکومت اپنے اتحادیوں کو سمجھانے میں کامیاب ہو گئی، سو، اپوزیشن کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ضمنی بجٹ کا بوجھ تو عوام پر لد چکا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں نہیں آ رہا، آنے والے دن آزمائش میں مبتلا رکھیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -