ساتویں مردم شماری کی منظوری!

ساتویں مردم شماری کی منظوری!

  

مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں ساتویں مردم شماری کی منظوری دے دی ہے،مردم شماری سے پہلے خانہ شماری ہو گی اور اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم استعمال کیا جائے گا، وزیراعظم کی صدارت میں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم نے شرکا کو کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام پر مبارک دی اور کہا کہ شفاف ترین مردم شماری کرائے جائے گی کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اہم تر ہے۔کونسل میں یہ بھی طے پایا کہ مردم شماری کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔آئین کے مطابق مردم شماری ہر دس سال بعد کرانا لازم ہے تاہم یہ مردم شماری سات سال کے وقفہ کے بعد ہو رہی ہے کہ سندھ اور بلوچستان کو سابقہ مردم شماری پر اعتراضات تھے۔متحدہ نے تو مخلوط حکومت کا حصہ بنتے ہوئے یہ مطالبہ منوایا تھا۔ اس کے مطابق کراچی کی گنتی میں ڈنڈی ماری گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے لیے یہ امر بہت اہم ہے کہ آبادی کا حساب پورا ہو۔صوبوں میں وسائل کی تقسیم میں آبادی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے یہ فیصلہ کر کے ایک بڑا مسئلہ حل کیا ہے تو لازم ہے کہ شفافیت برقرار رہے اور ایسی خانہ شماری اور مردم شماری ہو کہ کسی کو اعتراض نہ ہو سکے۔اس کام کے لیے مدت کے تعین کا اعلان تو نہیں ہوا،لازم ہے کہ یہ جلد از جلد مکمل ہو کہ اسی کی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیاں بھی ہونا ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -