بھارت میں انسانی حقوق

بھارت میں انسانی حقوق

  

ہیومن رائٹس واچ کی عالمی رپورٹ 2022 ء جو ایک روز قبل منظرِ عام پہ آئی ہے کے  مطابق بھارتی حکومت مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے درمیان تفریقی عناصر کو بڑھوتری دے رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو نظر انداز کرنے اور ہندو قومیت کو پروان چڑھانے کے لیے طرح طرح کے قوانین اور پالیسیاں وضع کی گئی ہیں۔ مسلمانوں کی جگ ہنسائی اور تذلیل کے لیے بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں نے مختلف سیاسی اور معاشی حربے اپنائے۔ اس رپورٹ نے کشمیریوں سے روا رکھے جانے والے جور و ستم، گھپ اندھیرے میں گھروں پر کی جانے والی یلغار، کشمیری رہنماؤں کی ناجائز گرفتاریوں اور حراساں کیے جانے کے واقعات سے بھی پردہ اٹھایا ہے اور بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ وزیراعظم مودی نے معاشرے میں ہر اس ادارے اور شخص کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی ہے،جس نے بھی ان کی مطلق العنان حکومت کی کمزوریوں کی جانب انگلی اٹھانے کی کوشش ہے۔ میڈیا مالکان، صحافیوں، فن کاروں حتی کہ شاعروں کو بھی ناکوں چنے چبوانے سے گریز نہیں کیا۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کامعاملہ اسی گھناؤنے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی عالمی رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے بیان کیا گیا کہ پاکستان میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا اور حکومت سے اختلاف رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا کا گلا گھونٹا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حقیقی جمہوری عمل کے فروغ کے لیے جمہوری اداروں کا تسلسل، آزاد میڈیا، پر عزم و توانا پارلیمنٹ اور ہر طرح کی تنقید کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہنا لازم و ملزوم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے عناصر کو پاکستان اور انڈیا میں چراغ لے کر ڈھونڈا جائے تو ایک بھی نہ ملے۔ اس رپورٹ نے جس شرح و بسط سے بھارتی حکومت کا کچا چٹھا بیان کیا وہ مودی سرکار کے مذموم مقاصد سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ مودی حکومت نے کورونا وائرس کی وباء  میں جو حکمت عملی اپنائی وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوئی۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارت سے کشمیر کے معاملات اور مذہبی اقلیتوں سے ناروا سلوک پر پوچھ گچھ کرے اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے امتیازی رویے سے باز رہنے کی تنبیہ کرے۔ مذہب کو بنیاد بنا کر اوچھے وار کرنا انسانی عظمت کے سرا سر منافی ہے۔ بھارتی حکومت پر بھی ویسے ہی بین الاقوامی قوانین کے مطابق پابندیاں عائد ہونی چاہئیں جیسی اس صورت حال میں دوسرے ممالک پہ ہوئیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس رپورٹ میں کشمیر کے حوالے سے اجاگر کیے گئے نکات کو اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل میں اٹھائے تا کہ اس نیم وحشی حکومت کو روکا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -