”پھرتے ہیں میرخوار“ 

”پھرتے ہیں میرخوار“ 
”پھرتے ہیں میرخوار“ 

  

نماز جمعہ سے فراغت کے بعدمیں جیسے ہی دفتر پہنچا، ہرکارے نے آکر بتایا”بڑے صاحب یاد کر رہے ہیں“۔بڑے صاحب کا محکمے میں پہلا دن تھا اور میرے لیے پہلا بلاوا۔ صاحب کے ماتحتوں کے ساتھ روّیے کی خبریں اُن کے اس محکمہ میں آنے سے قبل ہی پہنچ چکی تھیں۔اُن کے لہجے میں تکبّر، غراہٹ اور ماتحت کے لئے تحقیر ہوتی تھی۔محکمے میں ہر شخص ڈرا ڈرا سا محسوس کرتا تھا۔ہرکارے سے پیغام ملنے پرمیں بوجھل دل اوربھاری قدموں سے صاحب کے کمرے کی طرف چل دیا۔ موجودہ صاحب کے پیش رو ایک اعلیٰ ظرف،خوش اخلاق اور”ماتحت پرور“انسان تھے۔انہوں نے محکمہ سے رخصت ہوتے وقت نئے صاحب سے کہا تھا،”میں آپ کے لئے ایک محنتی، ایماندار اور فرض شناس ٹیم چھوڑے جا رہا ہوں،ان کی قدر کرنا“۔ دل میں موہوم سی تسلّی تھی کہ وہ ان کی بات کا خیال رکھیں گے۔مگر میں نے جونہی صاحب کے کمرے میں قدم رکھا، میری موہوم سی امید ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

کسی پنجابی فلموں کے ہیروکے جیسی ایک گرج دار آواز نے مجھے مخاطب کیا۔”صاحب کے کمرے میں بازو چڑھا کے آتے ہیں؟“۔میں نے اپنے پیچھے مُڑ کر دیکھاکہ صاحب کسی اور سے تو مخاطب نہیں ہیں؟مجھے فوراََ احساس ہوا کہ کمرے میں میرے سوا ان کے سامنے اور کوئی نہ تھا۔میں وضو کے بعد قمیض کی آستینوں کے بٹن لگانا بھول گیا تھا اور وہ کلائیوں سے تھوڑا اوپراُٹھی ہوئی تھیں،جنہیں میں نے فوراً نیچے کر لیا۔اس کے بعد صاحب نے بڑے کروفرکے ساتھ کچھ احکامات صادر فرمائے۔ دورانِ گفتگو شیشے کاپیپر ویٹ اُن کے ہاتھ میں گھومتا رہا۔ایسے لگتا تھا کہ اگر اُن کے سامنے کچھ بول دیا تو پیپر ویٹ پیشانی کوآ”چومے“گا۔صاحب سے احکامات لینے کے بعد میں کمرے سے باہر آیا اور سوچا ایسے”خود مزاج“کے ساتھ بالکل نہیں چل پاؤں گا۔ لہٰذاچارماہ کی چھٹی لکھ کر بھجوا دی۔چھٹی چونکہ اُس سے بھی اوپر والے صاحب نے منظور کرنا تھی،اس لیے منظوری کی کاروائی میں کچھ دن لگ گئے۔اس دوران میں دیکھتا رہا،سُنتا رہا،صاحب کے دفتر سے گرج اور کڑک کی آواز یں برآمدے اور ساتھ والے کمروں تک سنائی دیتی تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ لوگوں پر دہشت طاری رکھ کر زیادہ عزّت کرائی جاسکتی ہے۔آج وہ مدتِ ملازمت مکمل کرکے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے ہیں اور ”پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں“۔

دورانِ ملازمت مختلف مدارج کے ماتحت افراد سرکار کی جانب سے دفتری معاونت پر مامور ہوتے ہیں۔کہیں گاڑی کا دروازہ کھولنے والا ڈرائیور،برآمدوں میں بیٹھے کورنش بجا لانے والے ملازمین، ایک انگلی کے دبانے سے دوڑے آنے والے نائب قاصدین، ٹیلیفون کا رسیور اُٹھانے پر سَر سَر کرتے ذاتی معاونین، نظریں جُھکائے،دست بدستہ کھڑے سائلین ایسی رومانوی فضاء تشکیل دیتے ہیں کہ کچھ متکبّر،بدمزاج اور آدم بیزار روحیں اپنے آپ کو انسانی مقام سے قدرے بلند لے جا کر سوچنا شروع کر دیتی ہیں۔ان کے دروازوں کے باہر حاجت مند اپنے بزرگوں کی بتائی ہوئی وہ دعائیں پڑھ رہے ہوتے ہیں،جن کے پڑھنے سے صاحب شاید جلد اندر بلا لے اور بات توجّہ سے سُن لے۔ملنے والوں میں سے تعلقات کی ”سائنس“کو سمجھنے والے اس بات کے منتظررہتے ہیں کہ کب صاحب یاصاحب کے بچوں کی سالگرہ آئے،کب عید یاکسی دیگر خوشی کا معاملہ درپیش ہواوروہ پھولوں کے گلدستے، مٹھائیوں اور پھلوں کے ٹوکرے لئے درِ دولت پر حاضری دیں۔

 جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے،عُہدے میں عروج کے ساتھ ساتھ ماحول زیادہ رومانوی ہوتاجاتا ہے، جواکثر کے ذہنوں سے اس بات کو حرفِ غلط کی طرح مِٹا دیتا ہے کہ جیسے موت کا ایک دن متعین ہے،ریٹائرمنٹ بھی اسی طرح یقینی ہے۔تب نہ سرکاری گاڑی،نہ ڈرائیور نہ دفتر کا دروازہ کھولنے والا کوئی ہرکارہ ہوگا،اور نہ ہی مٹھائیوں، پھلوں اور پھولوں کے ٹوکرے لئے کوئی دروازے پر کھڑا ملے گا۔گھر پر پڑے پڑے اُکتا جائیں گے،اور باہر نکل کرکسی دوست کے پاس چار لمحات بیتانا چاہیں گے، لیکن یک لخت خیال آئے گا،آج کس منہ سے اُس کے پاس جاؤں؟میں تواسے کبھی اپنے سامنے کُرسی پر بھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔پھر موبائل فون کاقفل کھولیں گے۔کسی اور ماتحت کا نمبر لگاناچاہیں گے۔فوراًیاد آئے گا،میں لوگوں کے سامنے اس کی تذلیل کیا کرتا تھا۔حالانکہ یہ دن رات ایمانداری سے اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کی کوشش کرتا تھا،اور اس کی وجہ سے مجھے دفتری سکون حاصل تھا۔افسوس! عُہدے کے تکبّرنے مجھے اس جیسے بھلے شخص سے دور رکھا۔گویااب حالات ایسے ہیں کہ”صاحب“کسی کے پاس نہیں جاسکتے اور ان کے پاس تو کسی کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر آجا کے شہر کا پارک، اس کی چہل قدمی کی پگڈنڈی یا کلب کا کوئی کونہ،سگریٹ کی اَشٹرے اور دھوئیں کے بادل ماضی کی ”عظمتوں“میں لے جاتے ہیں۔

 شادی،بیاہ کی محافل میں شمولیت کو غنیمت سمجھتے ہیں کہ اس طرح بات کرنے کا بہانہ نکل آتا ہے۔اسی تناظر میں ایک دوست نے خوبصورت بات سنائی کہ شادی کی تقریب میں ایک اعلیٰ سطح کے ریٹائرڈ اَفسرپلیٹ میں کھانا لے کران کے پاس کھڑے ہوگئے اورانتہائی تپاک سے”گُل فشانی“کرنے لگے۔میرے دوست حیران تھے کہ شادی ہال میں ان کے کئی سابقہ ماتحت یا رفیق موجود تھے۔ لیکن مجال کہ کوئی بھی ان کے پاس پھٹک رہا ہو۔دوست نے بھی لاکھ کوشش کی کہ جان چھڑالے، مگر وہ باتوں کے دھنی ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی نئی بات نکال لیتے اور انہیں مروتاً ان کی بات سننا پڑتی۔ بالآخر دوست اور کھانا لینے کا کہہ کر وہاں سے کھسک گئے اور وہ صاحب بھرے ہال میں تنہا اپنے کھانے کی پلیٹ پر ”مصروفِ کار“ کھڑے دِکھائی دیے۔

جیسے ہمارا یقینِ محکم ہے کہ زندگی کے دن گنتی کے ہیں۔ اگراِن اَیّام میں کسی کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیریں،کسی کے حقوق دِلوانے کے لئے تگ و دو کریں۔تکبّر کے خدائی وَصف سے اجتناب کر کے اپنے نفس کو عاجزی پر قائم رکھیں،تو یقیناً یہ سب مل کر توشہئ آخرت ثابت ہوگا۔اسی طرح اگر یہی عادات دوران ملازمت”صاحب لوگ“اپنا لیں توبلاشبہ یہ ان کے لئے بعداز ملازمت نہ صرف قیدِ تنہائی سے رہائی کابہت بڑا توشہ ثابت ہونے کا وصف رکھتی ہیں۔بلکہ زندگی کے اختتامی باب کو سکون سے بہرہ مند بھی کر سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -