منتشر اپوزیشن کی نااہلیاں …… منتشر او رنالائق اپوزیشن

منتشر اپوزیشن کی نااہلیاں …… منتشر او رنالائق اپوزیشن
منتشر اپوزیشن کی نااہلیاں …… منتشر او رنالائق اپوزیشن

  

زبیر میر ہمارے حلقہ دوستاں کے ایک اہم رکن ہیں بڑی منفرد شخصیت کے مالک ہیں، پکے لاہوریے ہیں زیادہ عرصہ دبئی میں دولت کماتے رہے،کچھ عرصہ قبل پاکستان منتقل ہوئے،اسلام آباد میں رہائش اختیار کی، لیکن دِل نہیں لگا۔ لاہور ڈیفنس میں شاندار گھر بنایا، اب لاہور اور اسلام آباد کے درمیان محو ِ سفر رہتے ہیں۔ دبئی بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔سیاست کا ٹھرک رکھتے ہیں،باخبر حلقوں تک رسائی بھی ہے اور خبریں سونگھنے میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ کتابی کیڑے نہیں ہیں،لیکن بات کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں اور بات میں دلائل کا وزن ڈالنے کی حد تک مطالعہ کرتے ہیں۔متوازن اور باخبر سیاسی تجزیہ کرتے ہیں اور کبھی کبھی محفل بھی لوٹ لیتے ہیں۔

حال ہی میں برطانیہ کا20 روزہ دورہ کر کے  واپس آئے ہیں، لندن میں خاصا مصروف وقت گزارا۔ بڑے بڑے سیاسی و غیر سیاسی لوگوں کے ساتھ چائے کافی بھی پیتے رہے اور کھانے بھی کھائے۔نواز شریف کے ساتھ ملاقات بھی کی اور تصاویر بھی بنوائیں۔خاصے خوش و خرم دکھائی دے رہے تھے۔گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔ ذاتی باتوں کے علاوہ سیاست پر خاصی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

زبیر میر صاحب کی باتوں کا نچوڑ یہ ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی حقیقت بننے جا رہی ہے،بغیر کسی ڈیل یا ڈھیل کے بھی اب واپسی کی تیاریاں تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہیں، کچھ غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لئے وعدے وعید بھی ہو چکے ہیں۔ قومی معیشت کو گرداب سے نکالنے کے لئے تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ تیاریاں سوچ و بچار کی حد تک ہیں ان تیاریوں کے خدوخال بھی واضح نہیں ہیں۔ میر صاحب افواجِ پاکستان کو بدنام/کمزور کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں پر بھی پریشان دکھائی دیئے۔بہرحال یہ ایک اچھی نشست تھی،ڈاکٹر ارشد بٹ صاحب جیسے دانشور، محقق، تجزیہ نگار کی موجودگی نے اس نشست کی قدر و قیمت کو چار چاند لگائے۔

اس بارے میں دو آراء نہیں ہیں کہ حکومت کی عوامی پذیرائی میں کمی واقع ہو گئی ہے اور یہ عمل ہنوز جاری بھی ہے،حکومتی کارکردگی کے بارے میں عمومی تاثر منفی ہے اس کی کئی وجوہات ہیں،لیکن دوسری طرف اپوزیشن کی کارکردگی بھی انتہائی مایوس کن ہے۔عوام مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے ہاتھوں جس قدر بے زار ہیں،بے روزگاری اور محکمانہ نااہلیوں نے عوام کو نہ صرف مایوس کر دیا ہے، بلکہ وہ بے زار بھی ہو چکے ہیں، لیکن انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ سوائے اس کے کہ جب بھی انہیں اپنا حق رائے دہندگی استعمال کرنے کا موقع ملا، انہوں نے ڈٹ کر حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔پنجاب بھر میں کینٹ بورڈز کے انتخابات ہوں یا حال ہی میں خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابی نتائج، عوام نے جی بھر کر حکومت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر دیا ہے۔ حد تو یہ ہے پشاور جیسے شہر کے عوام نے بھی فضل الرحمن کی پارٹی کو جتوا کر پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسیوں سے نفرت کا اظہار کر دیا ہے،لیکن عوام حکمرانوں سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ اپوزیشن کی نااتفاقی، نااہلی اور ناکام کارکردگی ہے۔

اپوزیشن اس وقت چار دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے ایک پی ڈی ایم ہے جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) اس میں شامل ہے اس کے علاو بھی کچھ جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہیں۔دوسری طرف پیپلزپارٹی ہے اس کے ساتھ بھی شاید ایک آدھ علاقائی پارٹی شامل ہے۔ تیسرا دھڑا جماعت اسلامی کا ہے جو عوام کی آواز بننے کی کاوشوں میں مصروف ہے، دھرنے دیئے جا رہے ہیں، جلسے کئے جا رہے ہیں، گرما گرم بیان بازی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ چوتھا دھڑا بقایا جماعتوں پر مشتمل ہے جن کی نمائندگی بھی قلیل ہے اور آواز بھی موثر نہیں ہے،لیکن یہ سب دھڑے اپنے اپنے انداز میں عوامی جذبات کی نمائندگی،بلکہ حق نمائندگی ادا کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں اس لئے اپوزیشن کی منتشر کاوشیں اس قدراثر پیدا کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ مقتدر قوتیں حکمران جماعت کی کارکردگی سے مایوس ہو چکی ہیں اور اب انہوں نے حکومت کی سرپرستی کرنا بند کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کو اس کے گڑھ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بادی النظر میں یہ تاثر شاید درست بھی ہو،لیکن دوسری طرف اپوزیشن کے معاملات بھی ایسے ہی دگرگوں ہیں دو بڑی جماعتیں کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکی ہیں،کیونکہ دونوں اکیلے ہی معاملات کو لے کر چلنا چاہتی ہیں۔اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔زمینی حقائق کچھ اور کہہ رہے ہیں،لیکن اپوزیشن کے دھڑے اپنے تئیں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

بظاہر اپوزیشن ایک بات پر متفق ہے کہ عوام پس رہے ہیں، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط نے ہمارے معاملات کو شدید حد تک بگاڑ دیا ہے۔حکومت عوامی امنگوں کا ادراک کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اس لئے اسے چلتا کرنا چاہئے،لیکن اسے چلتا کرنے کے لئے کیا کِیا جائے اور کس طرح کیا جائے،اس پر اتفاق نہیں پایا جاتا ہے۔ اپوزیشن کی قابل ِ ذکر جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔قومی سطح کی قیادت بھی ایک دوسرے کو شک وشبہے کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ قائدین ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے رہے ہیں۔ اب بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ،یعنی جماعتیں اور قائدین مقتدر حلقوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مصروف ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقے تمام لوگوں کے سرپر دست ِ شفقت رکھ چکے ہیں۔ سچ کیا ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ہے، لیکن نتیجہ یہ ہے کہ حکمران نااہل اور اپوزیشن منقسم اور ناکارہ نظر آ رہی ہے۔عوام کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔معاشی سرگرمیوں کی سست روی، بے روز گاری، قدرِ زر میں گراوٹ اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ساتھ عوام میں ناامیدی اور ناکامی کا جو  تاثر پیدا ہو رہا ہے وہ خطرناک ہے۔تبدیلی کا جو نعرہ عمران خان نے قوم کو دیا اس نے عامتہ الناس میں بہتری کی امید پیدا کی تھی، دو دہائیوں تک خان صاحب اپنی جرأت گفتار اور کردار کے ساتھ عوام کو گرماتے رہے،امید کی جوت جگاتے رہے، تبدیلی کا یقین دلاتے رہے،لیکن تین سال کے اندر اندر عوام شدید ناامیدی کا شکار ہو چکے ہیں۔تبدیلی اور حالات کی بہتری کی آس امید ختم ہوتی نظر آ رہی ہے،اپوزیشن نے بھی تبدیلی کے حوالے سے عوام کو مایوس کیا ہے،اب حالات کیا رُخ اختیار کریں گے کچھ کہنا قبل از وقت ہے،لیکن جاری سمت کو دیکھتے ہوئے اگر کچھ توقع ہو سکتی ہے تو وہ شدید پریشان کن ہے۔باقی غیب کا علم تو اللہ کے ساتھ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -