کتابوں کی دنیا

 کتابوں کی دنیا
 کتابوں کی دنیا

  

آج تین نئی کتابوں کے ساتھ یہ کالم نذر قارئین کر رہا ہوں۔ تینوں بہت اہم کتابیں ہیں اور اپنے موضوعات کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمارے نظام فکر میں اقبالیات کی بڑی اہمیت ہے۔ اقبال نے ہمیں نہ صرف کائنات کا شعور دیا، بلکہ اسلام اور وطنیت کے حوالے سے نئے فکری در بھی وا کئے۔ اقبالیات پر بہت کام ہوا اور ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ اس لئے علامہ اقبالؒ کے افکار و شخصیت پر جب بھی کوئی نئی کتاب آتی ہے وہ اپنے اندر فکر اقبالؒ کے کچھ مزید گوشے سامنے لانے کا باعث بنتی ہے۔ طالب حسین ہاشمی کی کتاب ”معارفِ فکر اقبال“ ایک ایسی ہی کتاب ہے۔ طالب حسین ہاشمی پیشے کے اعتبار سے مدرس ہیں، تاہم ان کا شوق اور لگن اقبالیات ہے۔ وہ اس میں ایم فل کر چکے ہیں اور اب پی ایچ ڈی کے سکالر ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے فکر اقبال کے سترہ پہلوؤں کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اگرچہ موضوعات نئے نہیں، تاہم ان میں نئے گوشوں کی تلاش مصنف نے بڑی خوبصورتی سے کی ہےّ کلام اقبالؒ ایک سمند رہے،جس میں فکر و خیال کی ایک دنیا آباد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کے نظام فکر پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ علامہ اقبالؒ سے جسے عشق ہے وہی ان کے اسرار و رموز کو سمجھ سکتا ہے۔ طالب حسین ہاشمی اقبال کے سچے عاشق ہیں، یہی وجہ ہے ان کے ہاں اقبالیات سے ایک گہری لگن اور محبت نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں علامہ اقبال کے جن سترہ موضوعات کا حاطہ کیا ہے، ان میں ہر ایک اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے علامہ اقبالؒ کے ہر پہلو کے اندر کائنات کو سمجھنے کی ایک فکری تجلی نظر آتی ہے۔ ممتاز نقاد، شاعر اور اقبال کے شارح جلیل عالی لکھتے ہیں۔

”طالب حسین ہاشمی کے مقالات اقبالؒ سے ان کی گہری قلبی وابستگی کے آئینہ دار ہیں، انہوں نے اقبال کے فکر و احساس کے جتنے بھی نکات اپنی تحریروں میں اٹھائے ہیں، ان کی وضاحت میں کلام اقبال اور فرموداتِ اقبال سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے اور ان کی نگارشات کے اقتباسات درج کئے ہیں۔ امید ہے ان کے یہ مقالات اسلام اور اقبالؒ کے عقیدت مندوں اور محبت رکھنے والے عام حلقوں میں دلچسپی سے پڑھے جائیں گے“۔ اس کتاب کا پہلا مقالا بڑی توجہ کا متقاضی ہے۔ اس کا عنوان ہے ”علامہ اقبال کے نظام فکر کی تکون (خدا، انسان، کائنات)“۔ گویا اس مضمون میں علامہ اقبال کی فکری کائنات کو ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہی ہے علامہ اقبالؒ کا سارا فلسفہ اسی تکون کے گرد گھومتا ہے اور پھر اس سے باہر کوئی چیز ہے بھی نہیں۔ طالب حسین ہاشمی تحصیل سوہاوہ جہلم میں رہتے ہیں، ایک چھوٹے سے شہر میں رہ کر انہوں نے ایک بڑی تحقیق کے ساتھ علامہ اقبال پر ایک بڑی کتاب تخلیق کی ہے، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

آج کی دوسری کتاب ممتاز محقق، نقاد اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی کی تازہ تصنیف ”قومی جدوجہد کی سو نمایاں شخصیات“ ہے۔ یہ کتاب جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے تشکیل پاکستان سے بھی بہت پہلے اس کے نظام فکر کی بنیاد رکھنے والی شخصیات سے لے کر قیام پاکستان تک اس جدوجہد کو پہنچانے والی شخصیات کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ یہ ایک اہم دستاویز ہے جس کے ذریعے ایک ہی نشست میں ہم قومی جدوجہد کی سو نمایاں شخصیات سے متعارف ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر آج کی نوجوان نسل کے لئے یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جسے صرف یہی معلوم ہے۔ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قائداعظمؒ نے اپنی ولولہ انگیز قیادت میں اس خواب کو تعبیر بخشی۔ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے اس کتاب کے ذریعے یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ پاکستان کا قیام کسی اچانک نہیں، بلکہ طویل جدوجہد اور فکری پس منظر میں روبہ عمل آیا۔ انہوں نے قومی جدوجہد کی سو نمایاں شخصیات میں سب سے پہلے محمد بن قاسم کو لیا ہے۔ ان کے خیال میں برصغیر جنوبی ایشیا کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ اس خطے میں مسلمانوں کی آمد ہے اور محمد بن قاسم اس حوالے سے تاریخ کا سب سے نمایاں کردار ہیں۔

محمد بن قاسم سے لے کر رشید احمد نیازی تک اس کتاب میں جن شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، انہوں نے اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے عہد میں پاکستان کے فکری و عملی نظام ہائے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر مختار ظفر ان کی اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔ جدوجہد آزادی کی تاریخ اور تشکیل پاکستان میں یک صد شخصیات کی خدمات کا اعتراف اور جائزہ نسل نو کی آگہی اور نئی ترقی کی کاوشوں میں تحریکی فعالیت کے لئے بے حد ضروری تھا۔ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے ”قومی جدوجہد کی سو نمایاں شخصیات“ کے عنوان سے کتاب مرتب کرکے اس فرض کو پورا کیا ہے جو ان کی ہمہ جہت شخصیت پر واجب تھا۔ ان شخصیات میں بیشتر تاریخی ہیں اور کچھ دورِ حاضر کی اور علاقائی بھی۔ مجھے یقین ہے یہ کتاب دورِ جدید میں بالخصوص نسل نو کی دنیا بھی ہوگی اور اپنے اثرات کے حوالے سے ضروری بھی“۔ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی لکھتے ہیں: ”اس کتاب کے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کے لئے ان کے حالات زندگی اور کارناموں سے باخبر ہوں اور وہ یہ بھی محسوس کریں کہ عام افراد نے بھی ناموافق حالات میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر ملک و قوم کے لئے کام کیا“۔

آج کی تیسری کتاب ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خود نوشت ”داستان عزم“ ہے۔ یہ کتاب مجھے برادرم جبار مرزا کے توسط سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دستخطوں کے ساتھ موصول ہوئی تھی۔ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں اس کتاب کو پڑھ لیتا ہوں۔ ہر بار یہ ایک نیا ذائقہ اور نیا عزم دیتی ہے۔ اس کتاب کو  پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے دسمبر 1975ء میں اپنی بیگم اور دو بیٹیوں کے ساتھ پاکستان آنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیا کیا عزائم لے کر پاکستان آئے تھے۔ ان دنوں ملک پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی تھی، بھٹو سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پہلا ٹاسک ہی یہ سونپا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں۔ ایک سال کے عرصے میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ وہ نقطہ ء آغاز تھا، جو بالآخر 23سال بعد ملک کو ایٹمی طاقت بنانے پر منتج ہوا۔ اس عرصے کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان جن جن حالات سے گزرے اور ایٹمی دھماکوں کے بعد جن نامساعد و مشکل حالات کا سامنا رہا ان سب کا احوال اس کتاب میں موجود ہے۔

یہ کتاب جہاں تاریخ کے نقاب کشا لمحات کا احاطہ کرتی ہے وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو بھی سامنے لاتی ہے۔ وہ ایک محب وطن، پُرعزم اور باوفا شخص تھے، جنہوں نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ملک بنانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ یہ کتاب جہاں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی منتخب جدوجہد کو آشکار کرتی ہے، وہیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ انسان کے دل میں مقصد کے حصول کی سچی لگن ہو تو وہ منزل کو پا ہی لیتا ہے۔ یہ کتاب ہر پاکستانی کو ضرور پڑھنی چاہیے، تاکہ وہ جان سکے، آج ہم ایٹمی طاقت ہیں تو اس منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیں کن کن دشواریوں اور سازشوں سے گزرنا پڑا۔

مزید :

رائے -کالم -