ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے جاں بحق مریض کے لواحقین کا ہسپتال کے سامنے احتجاج

ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے جاں بحق مریض کے لواحقین کا ہسپتال کے سامنے احتجاج

  

     لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) سروسز ہسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے جاں بحق ہونے والے مریض کے لواحقین کی جانب سے سروسز ہسپتال کے سامنے شدید احتجاج کیاگیا،احتجاج کے باعث مظاہرین نے جیل روڈ کو عام ٹریفک کیلئے بند کردیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا جس سے شہریوں کوشدید مشکلات کاسامناکرنا پڑا،احتجا ج کے دوران پولیس اورخواتین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کیلئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی جو 24 گھنٹوں میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق سروسز ہسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے جاں بحق ہونے والے مریض جاں بحق کے لواحقین نے ہسپتال کے سامنے شدید احتجاج کیاگیا۔ لواحقین کا کہنا تھاکہ30 سالہ حامدکو گزشتہ رات طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لائے، حامد میڈیکل ایمرجنسی میں زیرعلاج تھا جبکہ ڈاکٹرز کی جانب سے علاج میں غفلت برتی گئی جس کے باعث 30سالہ حامد جاں بحق ہوگیا۔مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے جیل روڈ کو عام ٹریفک کیلئے بند کردیا  احتجا ج کے دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے اور احتجاج میں شامل خواتین کے مبینہ طور پر بال نوچنے اور انہیں سڑک پر گھسیٹنے کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر خواتین کے کپڑے پھاڑنے کے دوران متوقی کے والد،ماموں اور ایک خاتون سمیت 5مظاہرین کو گرفتار کر لیا  مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پولیس پر الزام عائد کیا کہ ڈیوٹی پر معمور پولیس افیسر نے انہیں غلیظ گالیاں بھی دیں پولیس کے اس رویے کے خلاف متوفی کے لواحقین مزید مشتعل ہو گئے جبکہ دوسری طرف انتقال کر جانے والے نوجوان مریض کے لواحقین کی جانب سے ہسپتال کے ڈاکٹر پر کئے جانے والے تشدد کے خلاف ہسپتال کے ڈاکٹر ز بھی سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے ہسپتال کے ایم ایس کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ڈاکٹر پر تشدد میں ملوث شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا احتجاجی ڈاکٹرز جب احتجاج کر رہے تھے تو ایم ایس سروسز ہسپتال اپنے دفتر سے غائب ہو گئے جس پر احتجاجی ڈاکٹرز مزید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ہسپتال میں کام بند کرتے ہوئے ایم ایس کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کر دیا بتایا گیا ہے کہ متوفی نوجوان احمد سمن آباد کا رہائشی بتایا گیا ہے جبکہ پولیس نے دوران احتجا ج کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی کوریج سے روکا اور صحافیوں سے بد کلامی کی۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کیلئے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر آصف طفیل اور ڈپٹی سیکرٹری علی اکبر بھنڈر پر مشتمل ہے۔ دو رکنی کمیٹی انکوائری 24 گھنٹوں میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔

 احتجاج 

مزید :

صفحہ آخر -