طبی مراکز سے موت کا انتظار کرتے مریضوں کی ادویات چوری کرنا نشئی لڑکیوں کوواقعی مہنگا پڑگیا

 طبی مراکز سے موت کا انتظار کرتے مریضوں کی ادویات چوری کرنا نشئی لڑکیوں ...
 طبی مراکز سے موت کا انتظار کرتے مریضوں کی ادویات چوری کرنا نشئی لڑکیوں کوواقعی مہنگا پڑگیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) نرسوں کا روپ دھار کر طبی مراکز سے موت کا انتظار کرتے مریضوں کی ادویات چوری کرنے والی نشئی لڑکیوں کو قید کی سزا سنا دی گئی۔میل آن لائن کے مطابق 33سالہ روتھ لیمبرٹ اور 29سالہ جیسیکا سلویسٹر ہم جنس پرست بھی ہیں، دونوں نے باہم منگنی بھی کر رکھی تھی اور شادی کرنے والی تھیں تاہم ان کے کرتوت سامنے آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق روتھ اور جیسیکا دونوں نشہ آور ادویات کا نشہ کرتی تھیں۔ وہ جن طبی مراکز کو نشانہ بناتی رہیں، وہاں لاعلاج قرار دیئے گئے سنگین نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو رکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ موت کے انتظار میں ہوتے ہیں اور ان کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے انہیں مورفین اور دیگر ایسی ادویات دی جاتی ہیں جن میں نشے کی مقدار ہوتی ہے۔ یہی ادویات روتھ اور جیسیکا کو درکار ہوتی تھیں۔

روتھ اور جیسیکا دونوں ماضی میں چونکہ پیرامیڈکس رہ چکی تھیں لہٰذا انہیں محکمہ صحت کے متعلق کافی معلومات حاصل تھیں۔ وہ نرسوں کا روپ دھار کر ان طبی مراکز میں جاتیں اور مرتے ہوئے مریضوں کی ادویات چوری کرکے فرار ہو جاتی تھیں۔ ایک ہسپتال سے انہوں نے 14ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 33لاکھ 72ہزار روپے)مالیت کی الٹراساﺅنڈ مشین بھی چوری کی تھی۔ پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے کینٹربری کراﺅن کورٹ میں پیش کیا تھا جہاں سے اب دونوں کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید :

برطانیہ -