جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (2)

      جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (2)
      جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  گزشتہ سے پیوستہ

برسوں بعد چمن سے خرید کردہ ایک ریکارڈ پر اس فلم کے دو ریکارڈ شدہ گانے آج یاد آئے جن کے مکھڑے کے بول یہ تھے:

1۔ جب جب تمہیں بھلایا تم اور یاد آئے

جاتے نہیں ہیں اب تک دل سے تمہارے سائے

2۔ وہ چپ رہیں تو مرے دل کے داغ جلتے ہیں 

جو بات کرلیں تو بجھتے چراغ جلتے ہیں 

انڈین فلموں کے 20سالہ زریں دور (1949ء تا 1970ء) میں بالی وڈ میں مسلم فنکاروں کا طوطی بولتا تھا……دلیپ کمار، مدھو بالا، مینا کماری، نوشاد، محمد رفیع، طلعت محمود، شکیل بدایونی، حسرت جے پوری،راجہ مہدی علی خاں، خیام، محبوب، کے آصف…… اور کس کس کا نام لوں …… یہ تمام مسلمان فنکار اپنے اپنے فن میں یکتا و یگانہ تھے۔

لیکن فلم جہاں آراء کا گیت نگار (کرشن چندر) اور موسیقار (مدن موہن) دونوں ہندو تھے۔ اگر قارئین کو موقع ملے تو اس فلم کے گانے، پسِ پردہ موسیقی اور ہدایت کاری سنیں اور دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ تمام فلمیں اور ان کے فنکار آج تک ’امر‘ کیوں ہیں۔ مدن موہن اور کرشن چندر چونکہ دونوں ہندو تھے اس لئے مجھے تعجب ہوا کہ ان کا اردو زبان کے راگوں، تلفظ، اشعار اور ادائیگی کا معیار کسی بھی اول درجے کے روائتی مسلم شاعر اور نثرنگار سے کم نہ تھا۔(میر اور غالب سمیت)

اس دور میں تو انسائیکلو پیڈیا پر ان دونوں ہندو فنکاروں (مدن موہن اور کرشن چندر) کا کہیں نام نہ تھا۔ لیکن آج گوگل پر جا کر ان کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو حیرت ہو گی کہ راجندر کرشن، جلال پور جٹاں (ضلع گجرات) میں پیدا ہوا اور مدن موہن اگرچہ بغداد میں پیدا ہوا لیکن زندگی کے اولین دس بارہ سال چکوال اور جہلم میں گزارے۔ لاہور میں پرائمری اور مڈل سکول کی تعلیم پائی، 1943ء میں برٹش انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا لیکن 1947ء میں ریلیز لے لی۔ اگرچہ یہ دونوں (مدن موہن اور کرشن چندر) ہندو تھے لیکن ان کا فارسی، عربی اور اردو زبانوں پر عبور اور موسیقی کے ساتھ ان کا بے پناہ لگاؤ ”ناقابلِ یقین“ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ فلمی اداکاری، موسیقی اور ادبِ لطیف کا تعلق پشاور، چکوال، گجرات اور لاہور سے کیا تھا،ان فنونِ لطیفہ نے بمبئی (مہاراشٹر) میں جا کر وہ عروج پایا جو سرحد اور پنجاب میں ممکن نہ ہو سکا۔

چمن سے خریدے ہوئے VCRاور ’تھری اِن ون‘ ڈیوائس آج قصہء پارینہ بن چکے ہیں۔ ان کی جگہ نئی نئی ایجادات نے لے لی ہے۔ لیکن انڈوپاک بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے سنہری ادوار کی یادیں ہنوز انمٹ ہیں اور میرا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی امر رہیں گی۔

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، موسیقار اور شاعر کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھایا گیا ہے۔ یہ دونوں فنکار ایک شخصیت میں جب بھی اکٹھے ہوتے ہیں، ایک لافانی شاہکار کی تخلیق کرتے ہیں۔ اس خمیر کا تعلق کسی مخصوص خطے یا زبان سے نہیں ہوتا۔زبان کوئی بھی ہو، مکان و زمان کوئی بھی ہو، اس کی قید نہیں۔

آپ کسی بھی مغربی سازینے کو سنیں یا کسی مشرقی موسیقار کی کسی دھن کو گوش و ہوش کی آنکھوں سے دل و دماغ میں اتاریں تو اس فن پارے کی گیرائی اور گہرائی (Grip and Depth)لازوال ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کو سمجھنے یا جاننے کے لئے جس سامع کی ضرورت ہوتی  ہے، وہ عام نہیں ملتا۔ صوت و صدا کی یہ صفات ہر کہ و مہ کو عطا بھی نہیں کی جاتیں۔یہ عطیاتِ خداوندی ہیں جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: بہ خاصاں شاہ می بخشد مئے نوشیدۂ خود را……

ہم جانتے ہیں کہ برصغیرپرخاندانِ مغلیہ نے تین سو سال سے زیادہ عرصے تک (1526ء تا1857ء) حکمرانی کی۔ بابر کا شجرۂ نسب امیر تیمور سے جا ملتا ہے اور امیر تیمور کے اجداد میں چنگیز اور ہلاکو شامل تھے۔ چنگیز کو اور اس کے بعد آنے والی اس کی کئی نسلوں کو لرزا نندۂ جہاں (دنیا کو لرزا کر رکھ دینے والا)بھی کہا جاتا رہا ہے۔ لیکن اسی نسل سے بابر، ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب بھی پیدا ہوئے۔ یہ یکے بعد دیگرے نہ صرف عظیم حکمران تھے بلکہ عظیم فنکار بھی تھے۔ بابر کے بابر نامہ سے لے کر اورنگزیب کے مآثر عالمگیری تک کامطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ لوگ شمشیروسناں کے ساتھ ساتھ طاؤس و رباب سے کیسی اور کس درجے کی  شناسائی رکھتے تھے۔ ان کے تعمیر کردہ مقابر، باغات اور مساجد آج تک زندہ و پائندہ ہیں۔ یہ آثار و تعمیرات اگر آج تک موجود ہیں تو ہم انہی کی بدولت اس عظیم خانوادے کی عظمت کو جانتے اور مانتے ہیں۔ اسی خاندان نے میاں تان سین اور بیجوباورا بھی پیدا کئے۔ ان کے ایک ہاتھ میں شمشیر تھی تو دوسرے میں چنگ و رباب تھا۔ حضرت اقبال نے جب یہ کہا تھا کہ: ”رنگ ہو یا خشت و سنگ…… چنگ ہو یا حرف و صوت“ تو اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ان معجزاتِ فن کی نمود، خونِ جگر سے ہوتی ہے۔ یہ خونِ جگر ہی ہے کہ جو پتھر کی سِل کو انسان کا دل بنا دیتا ہے۔ مقدم و موخر کی بحث گو ایک جداگانہ بحث ہوگی لیکن شمشیروسناں سے طاؤس و رباب تو پھوٹتے ہیں، طاؤس و رباب سے شمشیروسناں کا ”پھوٹنا“ممکن نہیں ہوتا۔

مدن موہن گو ایک فلمی موسیقار تھا لیکن وہ ایک گلوکار بھی تھا۔ ایک بار جب لتا ملک سے باہر تھی تو مدن موہن نے اپنی دھن میں تخلیق کیا ہوا اور اس کی آواز میں گایا جانے والا گیت اپنی آواز میں ریکارڈ کرکے محفوظ کر لیا تھا اور واپسی پر جب لتا نے اس گانے کو اپنی آوازمیں منتقل کیا تو سامعین لتا کو تو داد دیتے رہے لیکن مدن موہن کو داد دینے والے بہت کم تھے۔

یہی حال کرشن چندر کا بھی تھا…… وہ ایک شاعر تھا لیکن اس نے درجنوں فلموں کے ایسے ایسے گیت لکھے جن کی دھنیں کرشن چندر نے نہیں، دوسرے موسیقاروں نے مرتب کیں۔ لیکن ان گیتوں کی باریکیوں اور مرکیوں کا جو شعور کرشن چندر کو تھا اس نے موسیقار کی بھی مدد کی اور گلوکار کی بھی۔ یہ تینوں فنکار اکٹھے ہوں تو تبھی کوئی لازوال نغمہ تخلیق ہوتا ہے۔ آج گوگل پر جا کر دیکھیں تو فلم ”جہاں آراء“ کی گیتوں کی دھنیں جس قدر فردوسِ گوش ہوں گی، ان کے مصرعے،قافیے، ردیفیں اور لفاظی بھی جو کرشن چندر کی تھی اسی قدر قابلِ صد تحسین ہو گی۔ اقبال کا یہ شعر بھی اسی نکتے کا ترجمان ہے:

ارتباطِ حرف و معنی، اختلاطِ جان وتن

جس طرح اخگر قبا پوش اپنی پیراہن سے ہے

بھڑکتے اور سلگتے انگارے کو دیکھیں تو اس کے اوپر ایک نہائت مہین، باریک اور سفید سی قبا نظر آئے گی۔ انگارے کی تپش، اس کی دہک اور اس کا اندرونی اور بیرونی سراپا آپس میں اس طرح پیوست ہے اور جس کو اقبال نے ”اختلاطِ جان و تن“کا نام دیا ہے، اس کو احاطہء تفہیم میں لانے کے لئے کسی بھی مشہور فلمی گیت کے الفاظ، اس کی دھن اور اس کا وزن اور بحر وغیرہ سب کا سب ایک ایسا مرکب ہیں جس کے اجزاء کو باہم مربوط کرکے اسے زندۂ جاوید بنانا ان تینوں فنکاروں کا کام ہے جن کو ہم گیت نگار، موسیقار اور گلوکار کا نام دیتے ہیں …… اس کی لاتعداد مثالیں میرے سامنے آ رہی ہیں لیکن ان کا بیان اس کالم کے حجم کی محدودات کے سامنے بے بس ہے۔ اقساط کا سہارا لوں تو وہ اس بہاؤ کو توڑ دیتا ہے جو قاری کے دل و دماغ پر بوقتِ قرات طاری ہوتا ہے۔

یہ کالم ’جبرِ مسلسل‘ کی بوریت اور اس کا پریشر دور کرنے کی  ایک کوششِ ناتمام ہے۔ اُمید ہے کئی قارئین بھی اسے برداشت کرنے میں تامل نہیں کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -