معاشرے آگے تب بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ہر ذہن کسی دوسرے ذہن کیلیے نئی بصیرت کا در کھولے

معاشرے آگے تب بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ...
معاشرے آگے تب بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ہر ذہن کسی دوسرے ذہن کیلیے نئی بصیرت کا در کھولے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر :رانا بلال یوسف 
انسانی تجربے کا ایک عجیب مگر غیر معمولی راز یہ ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز خیال ہے۔ دو افراد اگر اپنے پاس موجود 2 سیبوں کا تبادلہ کریں تو دونوں کے پاس ایک ایک سیب ہی رہتا ہے، مگر اگر 2  ذہن اپنے خیالات کا تبادلہ کریں تو ہر شخص کے پاس 2 نئی سوچیں جنم لیتی ہیں۔ نطشے (Nietzsche) کے مطابق تخلیق وہ قوت ہے جو ذہنوں کو بڑھاتی ہے، کم نہیں کرتی۔ خیال کی دنیا میں کمی نہیں ہوتی، اضافہ ہوتا ہے۔ یہی اصول انسانی فکر کے ہر ارتقا ءکی بنیاد رہا ہے۔ معاشرے آگے تب بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ہر ذہن کسی دوسرے ذہن کے لیے نئی بصیرت کا در کھولے۔ 
ہیگل انسانی شعور کے سفر کو 3 مرحلوں میں بیان کرتا ہے: Thesis، Antithesis اور Synthesis۔ ایک خیال سامنے آتا ہے، پھر کوئی دوسرا اس سے اختلاف کرتا ہے، اور دونوں کے تصادم سے ایک بلند تر سچائی وجود میں آتی ہے۔ یہ اصول دراصل ارتقاء کا بنیادی قانون ہے کوئی رائے، چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، حتمی نہیں ہوتی۔ اگر معاشرہ اختلاف کو دشمنی اور سوال کو گستاخی سمجھ لے تو سچائی کی پیدائش رک جاتی ہے۔ مکالمہ نہ ہو تو شعور منجمد ہو جاتا ہے، اور یہ منجمد شعور قوموں کو آگے نہیں بلکہ پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
کارل پاپر اپنی کتاب The Open Society and Its Enemies میں واضح کرتا ہے کہ ترقی ہمیشہ کھلے ذہن والی اقوام کا مقدر بنتی ہے۔ جہاں تنقید کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا، جہاں سوال کرنے والے کو سزا نہیں دی جاتی، اور جہاں اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ بہتری کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ بند ذہن بند معاشرے پیدا کرتے ہیں، اور بند معاشرے بالآخر زوال کی طرف جاتے ہیں۔ پاپر کا نظریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فکری آزادی کوئی آسائش نہیں ترقی کی بنیاد ہے۔ اور یہی نکتہ ہمیں ہمارے اپنے اجتماعی بحران کی تہہ تک لے جاتا ہے۔
انسانی تاریخ کا ہر علمی انقلاب اسی اصول کا ثمر تھا کہ ایک ذہن نے دوسرے ذہن کو روشنی دی۔ ارسطو کی phronesis ہو یا ابنِ خلدون کی عصبیہ (asabiyyah)، دونوں اس بات پر متفق تھے کہ دانش اجتماعی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہے۔ تنہا ذہن سوچ تو سکتا ہے مگر تہذیبوں کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔ جب لوگ گفتگو کرتے ہیں، اختلاف کرتے ہیں، دلیل دیتے ہیں اور سیکھتے ہیں تو علم بڑھتا ہے۔ یہی collective wisdom تہذیبوں کو جنم دیتی ہے، سائنس کو آگے بڑھاتی ہے، اور معاشروں کو زوال کے کنارے سے واپس لاتی ہے۔ مکالمہ زندہ قوموں کا اوّلین اوزار ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا معاشرہ ایسی فکری سختی کا شکار ہے جس نے سوچنے کے دروازے تنگ کر دئیے ہیں۔ یہاں ہر شخص اپنی رائے کو آخری سچ سمجھتا ہے اور اختلاف کو دشمنی کا درجہ دے دیتا ہے۔ سوال پوچھنا روایت کے خلاف بغاوت بن جاتا ہے اور مکالمہ ایک ایسا خطرہ محسوس ہوتا ہے جس سے لوگ خوف کھاتے ہیں۔ اتنی شدت ہے کہ بعض مواقع پر خیالات کا اظہار بھی جان کے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا ماحول ذہنوں کو سکڑ دیتا ہے، دلوں کو بند کر دیتا ہے، اور معاشرے کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں دلیل کی جگہ خوف اور حقیقت کی جگہ خاموشی بولتی ہے۔
پاکستانی ذہن کی ایک نمایاں نفسیاتی کمزوری یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے ایسی پروان چڑھائی گئی سوچیں دی جاتی ہیں جنہیں ہم سچائی کا آخری معیار سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر نئی بات ہمیں خطرناک محسوس ہوتی ہے۔ نفسیات اسے cognitive  dissonance کہتی ہے: جب نئی سوچ ہمارے پرانے ذہنی خول کو توڑتی ہے تو ہم حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے اس سے لڑنے لگتے ہیں۔ یوں ہم unlearn نہیں کر پاتے، حالانکہ سیکھنے سے زیادہ مشکل عمل unlearn کرنا ہے۔ اس مزاحمت نے معاشرے کو فکری جمود میں دھکیل دیا ہے، جہاں دلیل سے پہلے دفاع اور حقیقت سے پہلے انا بولتی ہے۔
ہمارے ہاں رائے کے اظہار پر ایسا خوف مسلط ہے جو معاشرے کو خاموشی کے قید خانے میں بدل دیتا ہے۔ خاندان کا دباؤ الگ، معاشرے کی ناراضی الگ، اور سیاسی و مذہبی حساسیت کا خوف اس سے کہیں بڑھ کر۔ لوگ سوچتے ہیں مگر کہتے نہیں، جانتے ہیں مگر مانتے نہیں، کیونکہ سچ بولنا اکثر خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ یووال نوح حراری کہتا ہے: “A society that suppresses thought eventually suppresses itselfیعنی وہ معاشرہ جو سوچ کو دباتا ہے، آخرکار خود کو بھی دبا دیتا ہے۔ جب خوف ذہن پر غالب آ جائے تو فکر کا دم گھٹ جاتا ہے، اور دم گھٹی فکر قوموں کو کہیں نہیں لے جاتی۔
اس معاشرتی ساخت کا سب سے شدید نقصان فکری افلاس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جب نئی سوچ کے لیے جگہ نہ ہو تو نئی حقیقتیں دریافت نہیں ہوتیں، جب نئی حقیقتیں نہ ہوں تو نئے حل بھی پیدا نہیں ہوتے، اور جب نئے حل نہ ہوں تو قومیں رک جاتی ہیں۔ ابنِ خلدون نے لکھا کہ زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب قومیں سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں۔ الفارابی کے نزدیک تمدن کی بنیاد عقل و فکر ہے، روایت پر اندھا انحصار نہیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ فکری جمود صرف رکاوٹ نہیں—ایک اجتماعی قبر ہے، جو قوم کو وہیں دفن کر دیتی ہے جہاں وہ کھڑی ہو۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر ترقی یافتہ قوم نے مکالمے سے جنم لیا، خاموشی سے نہیں۔ نشاۃ ثانیہ آزاد سوچ اور کڑی تنقید کا نتیجہ تھی۔ Enlightenment نے دلیل کو تختِ شاہی پر بٹھایا اور معاشروں کی بنیادیں بدل ڈالیں۔ جاپان نے میجی دور میں پرانے فریم توڑ کر قوم گیر unlearning اختیار کیا، اور جنوبی کوریا نے مباحثے کی ثقافت اور مضبوط تعلیمی نظم سے حیران کن ترقی حاصل کی۔ ان مثالوں کا سبق واضح ہے: آزادیٔ خیال تمام ترقی کی بنیاد ہے۔ جو قوم ذہن کھولتی ہے وہ دروازے کھولتی ہے  اور جو ذہن بند کرتی ہے وہ مستقبل بند کر لیتی ہے۔
پاکستان کے لیے راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ہمیں اختلاف کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا، سوال کو احترام دینا ہوگا، اور مکالمے کو سزا نہیں بلکہ حوصلہ افزائی سمجھنا ہوگا۔ قومیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں وہ خیالات سے بنتی ہیں۔ جب ذہن آزاد ہوتے ہیں تو راستے خود بننے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ سوچنا جرم نہیں اور اختلاف دشمنی نہیں۔ اگر معاشرہ تنقید کو بہتری اور سوال کو روشنی سمجھے تو اندھیرے خود بخود چھٹ جاتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر ادارے نہیں بدلتےنظریات بدلتے ہیں۔
آخر میں سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم وہ معاشرہ بن سکتے ہیں جو خوف کی بجائے فہم کو، خاموشی کی بجائے مکالمے کو اور تقلید کی بجائے تحقیق کو اختیار کرے؟ اگر ہاں، تو یہ سفر آج ہی سے شروع ہوسکتا ہے۔ سوچ وہ واحد خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے، اور وہی چراغ ہے جو جلانے سے مزید روشن ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں پر پڑے تالے کھولنے ہوں گے، ورنہ تاریخ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند بھی ہوسکتا ہے۔ قومیں اتفاقِ رائے سے نہیں بنتیں آزاد رائے سے بنتی ہیں  اور آزاد رائے وہ بیج ہے جو آنے والے زمانوں کی فکری بنیاد رکھتا ہے۔ اور اگر ہم نے یہ بیج نہ بویا تو آنے والی نسلیں صرف اندھیروں کی وراثت پائیں گی۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -