لالچ انسان کو مروا دیتا ہے، سانچ کو آنچ نہیں،جنہوں نے کام کرنا ہوتا ہے وہ ہر حالت میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ارادہ ہو راستہ نکل ہی آتا ہے
مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:410
خاتون افسر؛
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ٹی ایم اے بہاول پور کی خاتون پلانگ افسر مس صائمہ کی پہلی پوسٹنگ تھی۔(بعد میں وہ وفاقی حکومت کے کسی محکمہ میں چلی گئیں)اس نے نہ صرف 50 لاکھ کے واجبات وصول کئے بلکہ ٹی ایم اے کے بجٹ میں تقریباً 3 کروڑ کے اضافی نئے ذرائع آمدن بھی تلاش کئے۔اس نے بھی نادہندگان سے بقایات جات کی وصولی، غیر قانونی تعمیرات کو راتوں رات سیل کردیا تھا۔ اگلے روز کچھ احتجاج ہوا۔ وفد پہلے ڈی سی او بہاول ور سے ملا وہاں سے انکاری پر کمشنر کے پاس آیا۔ ان کا سخت مؤقف وفد کی بڑی مایوسی میں بدل گیا۔ رقم اداکرکے ہی عمارات ڈی سیل ہوئی تھیں۔ سچ تو یہ تھا کہ خاتون افسر نے اپنے ایڈ منسٹرٹیر کی بھی سفارش نہیں مانی تھی۔کمشنر ہمیشہ ان کی کارکردگی کی مثال دیا کرتے تھے۔ سانچ کو آنچ نہیں۔ جنہوں نے کام کرنا ہوتا ہے وہ ہر حالت میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ارادہ ہو راستہ نکل ہی آتا ہے۔
تھوڑی سی سختی اور بہت سی محنت سے ہم ٹی ایم ایز کو تین چار ماہ کے عرصے میں تقریباً اڑھائی کروڑ کے واجبات دلانے میں کامیاب ہوئے یوں کئی ٹی ایم ایز اپنے ملازمین کی تنخواہیں دینے کے قابل ہو گئیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ہماری کوشش سے پوری ڈویثرن کی ٹی ایم ایز کے بجٹ میں تقریباً 3 کروڑ کی اضافی رقم جمع ہوئی۔
میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر سرکاری افسران اپنی ذمہ داری لالچ، دھونس اور دھمکی میں آئے بغیر انجام دیں تو عوام کی 50 فی صد مشکلات اسی لیول پر ختم ہو جائیں۔ہر شخص اپنی ذمہ داری کا دو جگہ جواب دہ ہے۔ ایک؛ اپنے ضمیر کی عدالت میں اور دوسرا؛ اللہ کی عدالت میں۔ ان دونوں عدالتوں میں بچت، فرائض کی درست ادائیگی اور اللہ کے بندوں کی خدمت میں ہے۔وگرنہ کوئی بچت ہے نہ کوئی معافی۔لالچ انسان کو مروا دیتا ہے، ذلیل کروا دیتا ہے جبکہ حق اور سچ بات انسان کو پار لگاتا ہے۔ وقتی تنگی قبر کی تاریک رات سے بہت بہتر ہے جہاں روشنی ہمارے اعمال کی وجہ سے ہی ہو گی۔ سچ عظمت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے اور بے ایمانی پستی میں۔سچ اور حق کا راستہ مشکل ہے لیکن کامیابی بھی اسی میں پنہاں ہے۔ بات سمجھ کی ہے جسے جب اللہ توفیق دے دے۔
یقین کیجئے چار پانچ ماہ کی محنت نے ٹی ایم ایز کے مسائل بہت حد تک کم کر دئیے تھے۔عوام کو بہتر سہولیات ملنے لگیں۔ ٹی ایم ایز کی آمدنی میں اضافہ سے ان کے بجٹ بھی بہتر ہو گئے۔ سب سے بڑی contribution یہ ہوئی کہ ٹی ایم ایز اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئیں۔اللہ نے مجھے میری محنت کا پھل بڑی عزت کی صورت دیا تھا۔ کام اور محنت میں ہی عظمت ہے۔
”بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
