سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا،ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے ”جلدی کرو  جلدی کرو، گھر سے باہر نکلو“

سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا،ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم ...
سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا،ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے ”جلدی کرو  جلدی کرو، گھر سے باہر نکلو“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع غ جانباز 
قسط:29
ایک انجانے خوف میں جکڑے لیکن بظاہر اِس پُر سکون گاؤں میں 20 ستمبر 1947ء کی شام کے 4 بچ چکے تھے۔ میرے والد صاحب چودھری ہاشم علی تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے۔ 
”جلدی کرو  جلدی کرو…… گھر سے باہر نکلو“…… ”معاملہ کیا ہے“ والدہ صاحبہ عمر بی بی نے استفسار کیا؟  ”یہ سو ال و جواب کا وقت نہیں ہے۔“ چوہدری صاحب کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا۔ اُن پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ 
والدہ صاحبہ عمر بی بی بھی گُنگ سی ہوگئیں لیکن اُس کے اَوسان ابھی بحال تھے۔ جلدی جلدی ساتھ پڑے خالی لوہے کے چھوٹے سے ٹرنک میں بچّوں کے چند ساتھ ہی پڑے کپڑے ٹھونسے اور دروازے کی طرف دوڑنے ہی والی تھی کہ ”میں“ نے دیوار میں ”آلے“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”زیور تو لے لو“ 
یاد رہے کہ حالات جب خراب سے خراب تر ہو رہے تھے تو ہر چڑھتی صبح…… چمکتی دوپہر…… اور ڈھلتی شام…… ہر کسی کو جان کے لالے پڑے تھے۔ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے…… ہر روز دائیں بائیں سے کُشت و خون، ہنگاموں، ظلم و بر برّیت کی خبریں …… بڑے تسلسل سے آرہی تھیں۔ تو اِن حالات میں ہر ایک کی جان ہر وقت ہتھیلی پر تھی۔ چوہدری اور بیگم نے یہی مناسب جانا کہ جو تھوڑا بہت زیور ہے اُس کی نشاندہی سب بچّوں کو بھی کر دی جائے۔ نا جانے کون اس خُونی سیلاب کی زد میں آکر ایک بے گورو کفن لاش کا منظر پیش کرے یا قدرت کی کرشمہ سازی سے بچ نکلے۔ اور جو بچ نکلے تو وہ ہوسکتا ہے، اِس سے مُستفید ہوسکے۔
والد صاحب جو باہر کی طرف بھاگنے ہی والے تھے فوراً مُڑے اور باورچی خانہ میں پڑی چُھری سے اُس ”آلے“ کے منہ سے مِٹّی کو اِدھر اُدھر گرا کر ایک رنگدار کپڑے کی تھیلی میں بند زیور نکال کر والدہ کو تھماتے ہوئے باہر کو بھاگ کھڑے ہوئے۔ والدہ صاحبہ، میں، بھائی عبد الرشید اور دونوں ہمشیرہ اُن کے پیچھے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے۔ چودھری صاحب گلی کے مشرق کی طرف واقع کُشادہ سڑک کی طرف جانے کی بجائے گاؤں کے مغرب سے آنے والی ایک تنگ سی گلی کی طرف لپکے۔ یہ گلی ہمسایہ ”عیدو“ کے مکان پر آکر اختتام پذیر ہوجاتی تھی کیونکہ عیدو کے گھر اور گلی کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔ چودھری ہاشم علی جو خود 45کے پیٹے میں تھے دیوار کو پلک جھپکنے میں پھلانگ گئے۔ دونوں بھائی بھی تھوڑی سی کوشش سے کودنے میں کامیاب ہوئے۔ امّی نے دونوں بہنوں کو اُٹھا کر اُس پار ابّو کو پکڑایا اور خود بھی جُوں تُوں کر کے گلی کے اُس پار چھلانگ لگا گئیں۔ 
ہمسایہ ”عیدو“ اس سارے ”فلمی سین“ جیسے واقعہ کو اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا، سمجھ گیا کہ جس قیامت کی گھڑی کے آنے کی منحوس خبر اتنے دنوں سے اِس گاؤں پر مُنڈلا رہی تھی اب آن پہنچی ہے۔ ورنہ ”چودھری ہاشم علی“ اَور دیواریں پھلانگتا پھرے ممکن نہیں؟ عیدو نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ …… سب اہل خانہ کو دیوار کے اُس پار کر کے مغرب کی طرف دوڑ لگا دی۔اس طرح سارا گاؤں نکل کھڑا ہوا۔
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -