سیاستدانوں اور عوامی نمائندگان کی تمام غیر ضروری مراعات پروٹوکول اور صوابدید ی اختیارات ختم کئے جائیں اور انہیں عام شہری کی کم از کم سطح پر لایا جائے
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:278
ملک بھر سے وی آئی پی کلچر ختم کرنے کے لیے سیاستدانوں اور عوامی نمائندگان کی تمام غیر ضروری مراعات پروٹوکول اور صوابدید ی اختیارات ختم کیے جائیں اور انہیں عام شہری کی کم از کم سطح پر لایا جائے تاکہ عوامی نمائندگان اور ہمارے قائدین بھی ایران، انگلینڈ وغیرہ کے حکمرانوں کی طرح سادہ زندگی بسر کرتے ہوئے رول ماڈل نظر آئیں۔ پاکستان میں پارلیمانی نظام کی ناکامی کی وجہ اختیارات کی مرکزیت ہے ہمیں سرائیکی پوٹھوہار اور ہزارہ صوبے بنانے کی بجائے ہر ڈویژن کو صوبہ بنا کر تمام اختیارات کا مالک بنانا ہو گا۔ لوکل گورنمنٹ کے اداروں کے باقاعدگی سے الیکشن کروانے ہونگے اور انہیں مضبوط سٹی/ یونین کونسل حکومتوں میں تبدیل کرنا ہو گا۔ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے سینٹ کے الیکشن براہ راست عوامی ووٹوں سے کروانے چاہیں۔ انتظامیہ یعنی وزیر اعظم اور صدر کو دئیے گئے آرڈیننسوں کے ذریعے قانون سازی، ہنگامی حالات کا اعلان کر کے بنیادی حقوق معطل کرنے، خطرناک سزا یافتہ مجرموں کو معاف کرنے اور دیگر تمام صوابدیدی اختیارات ختم کرنا ہونگے۔ فیوڈل لینڈ لارڈز اوربڑے وڈیروں کو انکم ٹیکس و دولت ٹیکس اور گفٹ ٹیکس کی چھوٹ دینے اور عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کرنے جیسی عوام دشمن پالیسی کو ختم کرنا ہو گا اور موجودہ کرپٹ پارلیمانی نظام میں حکومت کی کرپشن، ترقیاتی فنڈز کے نام پر قومی خزانہ سے اربوں روپے ممبران اسمبلی ہائے و سینٹ کو تقسیم کرنے جیسے اللوں تللوں کو روکنے اور حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں کی سیاسی لوٹ مار سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے ہونگے۔
جنرل راحت لطیف
جنرل (ر) راحت لطیف نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاگزشتہ ساڑھے چار سال سے زرداری جمہوریت کا تجزیہ ضروری ہے۔
٭…جمہوریت عوام پر ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ عوام دیکھیں کہ کیا جمہوریت قانون کو بالا دست بنا سکی۔ مساوات اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کر سکی۔ تعلیم غیریبوں تک پہنچا سکی۔ عوام کا تحفظ کر سکی۔ روزگار کے مواقع مہیا کر سکی۔ اگر نہیں تو یہ جمہوری نظام نہیں اور اس نظام پر نظرثانی ضروری ہے۔
٭…سلالہ پوسٹ پر 24 جوان شہید ہو گئے۔ جواب میں ہم نے نیٹو سپلائی کے راستے بند کر دئیے۔ پارلیمنٹ نے کمیٹی بنائی کہ پالیسی کو ری وزٹ کیا جائے۔ ایم او یو تیار ہوا۔ امریکہ سے بات چیت ہوئی۔ پارلیمنٹ کو فیصلے کا اختیار دیا گیا لیکن 6 ماہ بعد پیپلز پارٹی حکومت نے سپلائی کا راستہ کھول دیا گیا۔ کیا پارلیمنٹ نے حکومت سے سوال یہ کیا کہ کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی نے حکومت کے فیصلے پر اعتراض کیا حالانکہ ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کمیٹی کے فیصلے میں شامل تھا۔
٭… 2014ء میں امریکہ نے افغانستان سے نکلنا ہے۔ وہ موجودہ حکومت اور سیاست دانوں کو ترجیح دیگا کہ وہی حکومت میں رہیں۔
٭…آرٹیکل 63-62 کو مؤثر کیسے بنایا جائے؟ کیا اسے ایک الیکشن کمشنر کے حوالے کر دیا جائے۔ اس کو مؤثر بنانا مشکل ہے اس پر غور و فکر ضروری ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
