ایسی حکومت جو کسی کو جوابدہ نہیں

ایسی حکومت جو کسی کو جوابدہ نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جی ہاں ایسی حکومت موجود ہے، جس سے 70سال سے آج تک جواب طلبی نہیں کی گئی اور نہ ہی عوام کے مسائل کا کبھی اس نے احساس کیا۔ نہ ہی وہاں میرٹ کے لفظ سے کوئی واقف ہے۔ وہ ہے خطہ جنت نظیر آزاد کشمیر، یہاں تقریباً ہر سیاسی پارٹی نے حکومت کی، مگر ان کی ترجیحات ہمیشہ صرف اپنے خاندان اور برادریاں رہی ہیں۔ وہاں برادری سے ہٹ کر کسی کو میرٹ پر سرکاری نوکری دینا حکومتی امور میں شامل کرنا اور کسی ترقیاتی کام میں کوئی ٹھیکہ دینا انتہائی نامناسب اور اپنے قبیلے اور برادری سے غداری کرنے کے مترادف ہے۔ گویا وہاں کے وسائل کو اور وہاں کے سرکاری محکمہ جات میں اپنی برادری کے نیم خواندہ افراد کو ملازمتیں دینا، اقربا پروری، بیڈ گورننس، کرپشن کی تمام حدیں عبور کرنا ،چھوٹے قبائل سے متعصبانہ رویہ اپنائے رکھنا اور ان کا استحصال کرنا 1947ء سے لے کر آج تک آزادکشمیر کی حکومتوں کا خاصا رہا ہے۔


8اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں متاثرین کے لئے بین الاقوامی ممالک۔ اور این جی اوز نے اربوں ڈالر دیئے، انہیں اگر منصفانہ انداز میں خرچ کیا جاتا تو متاثرین اپنے گرے ہوئے گھروں کی جگہ بلڈنگیں تعمیر کر سکتے تھے اور ایک نیا آزادکشمیر بن سکتا تھا، مگر ناانصافی کی حد یہ ہے کہ ان کو صرف پہلی قسط مبلغ 25000روپے دی گئی ،ابھی تک کچھ لوگ بقیہ رقم سے محروم ہیں۔ ان کے گھر اب تک بغیر چھت کے حکومتی کرپشن، ذاتی پسند و ناپسند کے ثبوت لئے کھڑے ہیں۔ بندر بانٹ سے وہ تمام اربوں ڈالر اثر ورسوخ والے افراد ہڑپ کر گئے ،جبکہ حق دار دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ وہ اپنی فریاد کس کو سنائیں اور کس سے انصاف طلب کریں۔


حال ہی میں جو لینڈ سلائیڈنگ(Land Slidings) ہوئیں ،جن میں مکانات اور زمینیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، ان لوگوں کو اتنے بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔4خاندان ، جن کے گھروں کا مَیں نے وزٹ کیا، ان کی زمینیں، مکان، مال مویشی اور تمام سامان سلائیڈنگ کی نذر ہو گئے، مگر وہ آج تک ٹینٹ لگائے ایک جنگل میں بے یارو مددگار بیٹھے ہیں۔ سوائے تن کے کپڑوں کے کوئی چیز ان کے پاس نہیں بچی تھی۔ اس کے باوجود کوئی ادارہ حکومت اور این جی او اس دور دراز جگہ پر ان کی مدد کے لئے نہیں گئی، حالانکہ وہ حلقہ آزادکشمیر حکومت کی بااثر شخصیت جناب غلام صادق کا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان متاثرین کی امداد کسی فرضی نام سے حکومتی آشیرباد والے افرادکھا چکے ہیں ،جبکہ مظلوموں کو صرف ٹرخایا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے کام کرنا فرضی کاغذوں میں سڑکیں، سکول، ڈسپنسریاں اور پانی کے منصوبے تیار کرکے رقم ہڑپ کرنا وہاں کا رواج ہے، کیونکہ وہاں جنگل کا قانون ہے۔ کوئی ایسا ادارہ نہیں جو کسی کی دادرسی کر سکے۔


یہ پنجاب اور دوسرے صوبوں کی خوش قسمتی ہے کہ کسی مظلوم کی داد رسی کے لئے کوئی نہ کوئی ادارہ کوئی عدالت بذریعہ سوموٹو یا میڈیا کی خبر پر وزیراعلیٰ خود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مگر آزادکشمیر میں سب کے کان اور آنکھیں بند ہیں، سب گونگے ہیں۔ تمام کام برادری ازم کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، اگر حکومتی برادری سے تعلق ہے تو ٹھیک، ورنہ جاؤ جہنم میں۔۔۔ کا رواج ہے۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں رمضان کے مواقع پر عوام کو آٹے اور دیگر خوردو نوش کی اشیاء میں سبسڈی دیکر ریلیف دیا جاتا ہے، مگر وہاں کے عوام کے لئے کسی بھی بھلائی اور ریلیف کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے موقع پر مصنوعی مہنگائی کرکے عوام کو لوٹا جاتا ہے، کیونکہ جب شکایات کے ازالے کے لئے کوئی فورم موجود ہی نہیں تو پھر تاجروں نے اپنی من مانی کرنی ہے۔اپنے خاندانوں اور عزیزوں کو نوازنے کی ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ کوئی بھی صاحبِ عقل ماننے کو تیارنہیں۔


ایک صاحب جو لاہور میں ہو میوپیتھک کا کام کرتے تھے۔ 3/2سال قبل باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ راولاکوٹ آزاد کشمیر میں ایک وزیر چھوٹے کزن ہیں۔ میرے والد صاحب گزشتہ 35سال تک سعودی عرب میں مقیم رہے ہیں۔ اب وزیر موصوف نے انہیں کہا ہے کہ چونکہ آپ کی جوانی گزر گئی ہے۔ وہاں سعودی عرب میں مزدوری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے بیٹے مَیں نے پہلے ہی سرکاری محکموں میں بھرتی کر رکھے ہیں۔ اب مَیں آپ کو محکمہ برقیات (بجلی) میں بھرتی کروا دیتا ہوں۔ برتھ سرٹیفکیٹ اور اسناد بھی بنوا دوں گا، لہٰذا 55پچپن سال کے بوڑھے کو محکمہ برقیات میں میں بھرتی کر دیا گیا،جبکہ ہزاروں ڈبل ایم اے نوجوان جو صرف دوسرے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، درخواستیں ہاتھوں میں لئے چپڑاسی کی نوکری کے لئے دربدر پھرتے ہیں۔وزیر موصوف نے انہیں یہ بھی سہولت دی کہ آپ دفتر نہ آیا کریں اور کام وغیرہ نہ کریں، بلکہ گھر میں ہی رہا کریں۔ صرف یکم تاریخ کو تنخواہ لینے کے لئے آ جایا کریں۔ آپ کی حاضری خودبخود لگ جایاکرے گی۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -