کیا ہم ایک مہذب قوم ہیں؟

کیا ہم ایک مہذب قوم ہیں؟
کیا ہم ایک مہذب قوم ہیں؟

  



بات بات پر دوسروں کو کوستے رہنا ہماری عادت بن گئی ہے، ساری خرابیاں ہمیں دوسروں میں نظر آتی ہیں، اپنے حصے کا کام کرنے کے لئے ہماری طبیعت آمادہ ہی نہیں ہوتی، کیا اصلاح احوال کی تمام تر ذمہ داری دوسروں کی ہے، ہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟ اگر ہم میں سے ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے تو ہمارا معاشرہ باآسانی جنت نظیر بن سکتا ہے۔صحت و صفائی کے معاملے ہی کو لیجئے، صحت و صفائی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، صفائی اچھی صحت کی ضمانت ہے اور اچھی صحت، صحت مند معاشرے کی پہچان ہے، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں صحت و صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے، مگر بد قسمتی سے ہم ان تعلیمات کو بھلا بیٹھے، جس کا نتیجہ اچھی صحت سے محرومی، بے سکونی و بے چینی اور مختلف امراض سے دو چار ہونا ہے۔

ایک وقت تھا کہ قصاب کی دکان کی پہچان اس کی دکان کے گرد لگی لوہے کی باریک جالی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے مکھیاں گوشت پر نہیں بیٹھتی تھیں، آہستہ آہستہ وہ جالیاں ختم ہو گئیں، اب شاذو نادر ہی کوئی ایسا قصاب ہو گاجس کی دکان کے گرد جالی لگی ہو اور ہم نے بھی قصاب کو کہنا چھوڑ دیا کہ ’’بھائی جان! اپنی دکان کے گرد جالی لگا لو تاکہ مکھیوں سے حفاظت رہے اور بیماریاں نہ پھیلیں۔‘‘یہی حالت بازار میں فروخت ہونے والے مشروبات اور کٹے ہوئے پھلوں کا ہے، ٹریفک کا گرد وغبار اڑ اڑ کر ان چیزوں پر پڑ رہا ہوتا ہے اور ہم مزے مزے سے کھا پی رہے ہوتے ہیں، ہمارا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے، جوتا جسے پہن کر گلیوں اور سڑکوں پر چلنا ہے، اسے بہترین شو کیس میں سجا کر رکھتے ہیں کہ جہاں مکھی تو کیا دھول کا بھی گزر نہیں ہوتا، جوتے کے بارے میں کتنے حساس ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء پر مکھیاں بیٹھتی رہیں، گرد و غبار پڑتا رہے، ہمارے ماتھے پر کوئی بل نہیں آتا، بس کنڈکٹر کی طرح ہم یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں، جو ڈرائیور سے کہہ رہا ہوتا ہے۔ ’’استاد جی! جان دیو۔‘‘ ہوٹلز پر کام کرنے والے بیشتر ملازمین پیشاب کرنے کے بعد صابن سے ہاتھ نہیں دھوتے، ہوٹلز پر آٹا گوندھنے والوں کو دیکھیں کہ پسینے سے شرابور آٹا گوندھ رہے ہوتے ہیں اور پسینہ آٹے میں جذب ہو رہا ہوتا ہے۔

تفریحی مقامات صاف ستھرے ہونے چاہئیں مگر تفریحی مقامات پر بھی ہمارا معاملہ بڑا عجیب ہے، جس پلاٹ میں کھایا پیا، کچرا وہیں پر گرا کر چل دیئے کوڑا دان موجود ہوتے ہیں، مگر ہم کچرا کوڑا دان میں گرانے کی زحمت گوارانہیں کرتے کہ کہیں کوڑا دان گندے نہ ہو جائیں۔بنک سے ملحقہ، اے ٹی ایم کیبن میں داخل ہوں تو بڑی کوفت ہوتی ہے کہ کوڑے کی ٹوکری خالی ہے اور اس کے باہر چھوٹے چھوٹے کاغذوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، ہم نے اے ٹی ایم سے رسید نکالی، چیک کی اور وہیں پر گرا دی ، ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ ہم اپنے ہاتھ کو تھوڑا سا آگے بڑھا کر کاغذ کے ٹکڑے کو کوڑے کی ٹوکری میں گرا سکیں۔

بسوں یا گاڑیوں میں سفر کرتے وقت کھایا پیا اور پھلوں (کنوں، کیلے وغیرہ) کے چھلکے، جوس کے ڈبے یا خالی بوتلیں کھڑکی سے باہر پھینک دیتے ہیں ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے اس طرز عمل سے کس قدر نقصان ہو سکتا ہے، کوئی راہ گیر کیلے کے چھلکے سے پھسل سکتا ہے، خالی ڈبہ یا بوتل کسی راہ گیر کے لگ سکتی ہے، کوڑا کرکٹ کا شاپر کسی راہ گیر کے کپڑے آلودہ کر سکتا ہے، یہ سب کچھ ممکن ہے اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہو، تب بھی سڑک تو آلودہ ہو ہی جاتی ہے۔سڑک پر موٹر سائیکل، گدھا گاڑی، رکشہ، ٹریکٹر ٹرالی، ٹرکوں، ویگنوں اور بسوں والوں نے ٹیپ ریکارڈر لگائے ہوتے ہیں، جن پر اونچی آواز سے گانے بج رہے ہوتے ہیں اور وہ اپنی مستیوں میں مست ہوتے ہیں، انہیں بالکل احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے شور شرابے سے کتنے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو گی؟ جس مقام پر لکھا ہو کہ یہاں ہارن بجانا منع ہے، وہاں ہارن بجانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، اگر کسی جگہ لکھا ہو کہ براہ مہربانی! سگریٹ نوشی نہ کریں۔ ہم درمیان میں سے نہ مٹا دیتے ہیں۔ ہم یہ سارے کام کر کے بڑے فخر سے کہتے ہیں:

ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں

ہم سب کی ہے پہچان پاکستان پاکستان

مزید : کالم