اب ستارۂ امتیاز چمک اُٹھے گا

اب ستارۂ امتیاز چمک اُٹھے گا
اب ستارۂ امتیاز چمک اُٹھے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ڈاکٹر آصف محمود جاہ اللہ کے ان خوش نصیب بندوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی خدمت کے لئے منتخب کر ر کھا ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا تو محکمہ کسٹم میں ایک بڑے عہدے پر فائز ہو گئے، لیکن اللہ کا اُن پر خاص انعام ہے کہ جو محکمہ بدعنوانی کے حوالے سے محکمہ پولیس سے بھی زیادہ بدنام ہے۔ اُس محکمے کے ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے دامانِ توکل پر اپنی پوری سروس کے دوران کرپشن کا ایک دھبہ بھی نہیں۔ شاید یہ رزقِ حلال کمانے کا صلہ ہے کہ اللہ نے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو اپنے محبوب بندوں میں شامل کر لیا ہے۔ خدا کو اپنے بندوں میں عزیز تر وہی لوگ ہیں، جو مخلوق خدا کے خدمت گزار ہیں:
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
مَیں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا


انسانیت کی خدمت کے لئے زندگی وقف کر دینے کے حوالے سے اور خدمت کے شعبے میں غیر معمولی خدمات سرانجام دینے کے ریکارڈ کا اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں عبدالستار ایدھی کے بعدسب سے نمایاں نام ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے میڈیکل کے شعبے میں اپنی اعلیٰ تعلیم کو اپنے لئے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ انہوں نے اپنے محکمے میں سرکاری ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد اپنا سارا وقت غریب اور مستحق مریضوں کے علاج کے لئے قربان کر دیا ہے۔ اس کے بعد دن اور رات کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ہو گا جب ڈاکٹر آصف محمود جاہ اپنے اُن مریضوں کے درمیان نہیں ہوتے، جو مریض معاشی تنگ دستی کے باعث معاشرے میں میڈیکل سہولتوں سے محروم ہیں۔ غریب مریضوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات ڈاکٹر صاحب کی سرپرستی میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی برداشت کرتی ہے، جو فلاحی اور خیراتی ادارے غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں، ان اداروں میں بھی میڈیکل خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر حضرات باقاعدہ تنخواہیں لیتے ہیں، لیکن ڈاکٹر آصف محمود جاہ اپنی طرف سے طبی خدمات کے بدلے میں ایک پائی لینا بھی حرام سمجھتے ہیں، پھر میڈیکل کے شعبے میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی خدمات کا سلسلہ صرف علامہ اقبال ٹاؤن میں قائم ان کے ہسپتال تک ہی محدود نہیں، پورے پاکستان میں جب بھی کہیں کوئی قدرتی آفت نازل ہوئی۔ زلزلے کی صورت میں، سیلاب کی شکل میں یا کسی اور نوعیت کی کوئی قومی سطح پر مصیبت رونما ہوئی ہو تو ڈاکٹر آصف محمود جاہ سب سے پہلے اپنی پوری میڈیکل ٹیم کے ساتھ وہاں موجود ہوں گے۔
پاکستان کا کوئی صوبہ اور خطہ ایسا نہیں جہاں اگر سیلاب یا بھونچال کے باعث انسانوں کی کثیر آبادی کے لئے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہوں تو ڈاکٹر آصف محمود جاہ وہاں نہ پہنچے ہوں اور پھر دن اور رات کی تمیز کئے بغیر وہاں انسانیت کی بے پناہ خدمت نہ کی ہو۔ سیلاب زدہ لوگ اور زلزلہ گزیدہ عوام جب اپنے درمیان ڈاکٹر جاہ اور ان کی ٹیم کے ارکان کو دن اور رات کی پرواہ کئے بغیر مخلوقِ خدا کی خدمت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے احساسات یہ ہوتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے انسانوں کے روپ میں فرشتے بھیج دیئے ہیں۔ آفات زدہ انسانوں کے لئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی خدمات صرف میڈیکل کے شعبے تک ہی محدود نہیں، بلکہ خوراک، لباس اور دیگر اشیائے ضروریات کے ساتھ ساتھ نقد رقوم بھی سیلاب اور زلزلے سے متاثر ہونے والے خاندانوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ قدرتی آفات سے متاثرہ وہ افراد، جن کے مکان تباہ ہو جاتے ہیں، جن کے کاروبار اور گزر اوقات کے وسائل ختم ہو جاتے ہیں اور جن کے پاس ایک تنکے کا سہارا بھی نہیں ہوتا، ایسے خاندانوں کو پھر سے آباد کرنے اور ان کی چِھن جانے والی خوشیاں واپس لوٹانے کے لئے بہت کام کرنے کے ہوتے ہیں اور یہ ذمہ داریاں تو حکومتیں بھی پورا نہیں کر پاتیں۔ ان ناساز گار اور ناموافق حالات میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ جیسے فرشتہ سیرت انسان ہی انسانیت کے کام آتے ہیں۔


2014ء کا غالباً تیسرا مہینہ تھا جب سندھ کے علاقے تھر سے یہ روح فرسا خبر آئی تھی کہ وہاں 150 بچے غذائی قلت کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مر گئے ہیں۔ دِلوں کو تڑپا دینے والے اس سانحہ پر وزیراعلیٰ سندھ کا یہ تبصرہ تھا کہ ایسا تو ہر سال ہوتا ہے اور یہ بچے قحط کے باعث نہیں، بلکہ بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ تھر کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم دستیابی ہے اور پانی کے نہ ہونے کے باعث قحط، بھوک اور غربت وہاں کے بنیادی مسائل ہیں۔ یہ قحط بچوں اور بوڑھوں میں موت تقسیم نہیں کرے گا تو اور کیا ہو گا۔ ستم بالائے ستم سندھ کے حکمرانوں، سیاست دانوں، وڈیروں اور پیروں کی بے حسی تھر کے عوام کے لئے قحط اور بھوک سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس ساری صورت حال کو اپنے ذہن میں رکھ کر ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے تھر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں انہوں نے قحط زدہ اور افلاس کے شکار مکینوں کے لئے کنوئیں کھدوانے کا منصوبہ بنایا،پھر ایک دو نہیں، لاتعداد نئے کنوئیں کھدوائے گئے، پرانے کنوؤں کی بھی تعمیر نو کی گئی، گویا تھر میں میٹھے پانی کے چشمے اُبلنے لگے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی نیک نامی، دیانت داری، اخلاص اور خدمت انسانی کے جذبوں پر لوگ چونکہ اندھا اعتماد کرتے ہیں، اس لئے فنڈز کی فراہمی ان کے لئے کبھی مسئلہ نہیں رہی۔ قحط، بھوک اور غربت سے سسکتی ہوئی انسانیت کی پکار پر جب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے تھر(سندھ) جانے کا عزم کیا تو ان کے قریبی احباب نوٹوں کے بنڈل لے کر ان کے گھر پہنچ گئے۔ تھر کے بھوکے، پیاسے اور بیماریوں کے شکار عوام کو جس جس چیز کی ضرورت تھی ،فراہم ہو گئی اور ڈاکٹر صاحب نے یہ امانتیں تھر کے عوام کے سپرد کر دیں۔


شمالی وزیرستان سے ہجرت کرنے والے ہمارے بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کے لئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی میڈیکل شعبے میں جو خدمات ہیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو زندگی کی ضروریات کی ہر چیز فراہم کرنے کی جو کاوشیں ہیں، ان کا احاطہ کرنے کے لئے تو پوری ایک کتاب تحریر کی جا سکتی ہے، جس طرح آپریشن ضربِ عضب میں ہمارے فوجی افسروں اور جوانوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں،اِسی طرح انسانی خدمت کے محاذ پر ڈاکٹر آصف جاہ کا غیر معمولی کردار بھلایا نہیں جا سکتا۔حکومت پاکستان نے بھی خدمات عامہ کے شعبے میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے شاندار، روشن اور قابلِ تقلید کردار سے متاثر ہو کر اس سال انہیں ستارۂ امتیاز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے قدرتی آفات کے مختلف مواقع پر مخلوق خدا کی بڑے پیمانے پر جو خدمات سرانجام دی ہیں، اس کے لئے وہ کبھی شہرت یا دنیاوی انعام کے طلب گار نہیں ہوئے۔ سماجی اور انسانی خدمات کا صحیح انعام بھی صرف اللہ ہی دے سکتا ہے، کیونکہ یہ خدمات توفیقِ خدا وندی کے بغیر ممکن نہیں۔ سرکاری اعزازات دیئے جانے کا ریکارڈ اتنا شاندار نہیں کہ اِن اعزازات کے حاصل ہونے سے کسی کے قد یا احترام میں کوئی اضافہ ہو جائے۔ البتہ اس سال ستارۂ امتیاز ضرور چمک اُٹھے گا، کیونکہ یہ ایک Genuine اور سچ مچ کے بڑے آدمی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو دیا گیا ہے۔ جب سرکاری اعزازات بندر بانٹ کی صورت میں نااہل افراد میں تقسیم ہوتے ہیں تو یہ اعزازات اپنی حرمت کھو بیٹھتے ہیں اور جب یہ اعزازات ڈاکٹر آصف محمود جاہ جیسی شخصیات کو دیئے جائیں گے تو نہ صرف ان اعزازات کا وقار بحال ہو گا، بلکہ فیصلہ کرنے والے بھی قابلِ احترام ٹھہریں گے۔

مزید :

کالم -