برائے توجہ مالکانِ میڈیا ہاؤسز!

برائے توجہ مالکانِ میڈیا ہاؤسز!
برائے توجہ مالکانِ میڈیا ہاؤسز!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کئی بار میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا ہے کہ پاکستان کی اوورآل پس ماندگی کی اصل وجہ کیا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ اس کا کوئی کافی و شافی جواب مجھے نہیں مل سکا۔۔۔ ایک ایک کرکے کئی وجوہات سامنے آئیں لیکن تجزیاتی کسوٹی پر پوری نہ اتر سکیں۔ مثلاً یہ کہ یہ سوال صرف پاکستان تک کیوں محدود کرتا ہوں۔ جنوبی ایشیاء کے دوسرے کئی ممالک ہم سے بھی زیادہ پس ماندہ رہ گئے ہیں۔ بھارت کی مثال لیتا ہوں تو اگرچہ یہ درست ہے کہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ترقی یافتہ ہے لیکن اس قسم کے ترقی یافتہ جزیرے تو پاکستان میں بھی ہیں۔ آبادی اور رقبے کے تناسب کا موازنہ کرتا ہوں تو پاکستان، بھارت سے کہیں بہتر ہے۔۔۔ افغانستان پر نظر جاتی ہے تو وہاں ہم سے بھی برا حال ہے۔ وہ لوگ صدیوں پہلے جس مقام پر تھے، آج بھی وہیں ہیں۔کئی دوست سمجھتے ہیں کہ افغانوں نے دنیا کی تین عالمی قوتوں کو شکست دی۔ پہلے برطانویوں کو، پھر روسیوں کو اور پھر امریکیوں کو۔ لیکن اگر آج ان تینوں ’’شکست خوردہ‘‘ اقوام کو دیکھوں اور ’’فاتح‘‘ افغانستان کو دیکھوں تو دوستوں کی خوش فہمی (یا غلط فہمی) کی قلعی کھل جاتی ہے۔۔۔ ہمارا ایک ہمسایہ تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہے لیکن شائد ایرانیوں کی معاشی حالت ہم سے کچھ زیادہ بہتر ہوگی، سماجی ، تعلیمی اور عسکری اعتبار سے ایران اس قابل نہیں کہ جدید اصطلاح میں کوئی ترقی یافتہ ملک کہلا سکے۔۔۔ پھر مشرق و مغرب کا سوال آتا ہے تو جاپان اور چین بھی تو مشرق میں واقع ہیں۔ یہ دونوں مشرقی ممالک مغربی معاشروں کی چکاچوند کو پیچھے چھوڑتے جاتے ہیں۔۔۔ پھر مذہب کا خیال آتا ہے۔ بعض دوست مراکش سے انڈونیشیا تک 57مسلم ممالک کا ذکر کرتے ہیں تو خیال آتا ہے شائد عصر حاضر کا اسلام، دورِ ماضی کے اسلام کے مقابلے میں کسی مخصوص وجہ سے پسماندہ رہ گیا ہے اور پھریہ بھی کہ عالمِ اسلام کی پسماندگی کا سبب، مذہب سے بیگانگی یا دوری ہے۔یہ ’’مولویانہ‘‘ استدلال اگر درست مان لیا جائے تو جو اقوام اور معاشرے اپنے مذاہب کی تعلیمات سے بالکل ہی بیگانہ ہیں، ان کی ہمہ جہت ترقی کا راز کیا ہے؟
کثرتِ آبادی کو اگر اپنے ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ سمجھتا ہوں تو قرآن مجید میں فرمانِ خداوندی کی حقانیت پر ایمان نہ لانے کا مجرم ٹھہرتا ہوں۔خاندانی منصوبہ بندی جس کو چین، جاپان، امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا نے اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے اس کا ابطال (Negation) قرآن کی ایک سے زیادہ آیات میں ملتا ہے۔ چنانچہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کی پسماندگی کا سبب کثرتِ آبادی نہیں۔۔۔ تو پھر کیا پسماندگی کا تعلق ہمارے ہاں کی کوالٹی آف ایجوکیشن سے ہے؟ یہ عذر بھی اس لئے قابلِ اعتماد نہیں ٹھہرتا کہ وہ لاکھوں پاکستانی جو پاکستان سے تعلیم حاصل کرکے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ انہوں نے جدید سائنسی علوم و فنون میں وہاں کے لوکل معاشروں میں ایک ممتاز مقام حاصل کر رکھا ہے۔۔۔ پھر سوچتا ہوں کہ کیا پاکستان پر ہنوز غلامی کے سائے ہیں جو گزشتہ ستر برس سے ہم پر مسلط ہیں تو اس سوال کا جواب اس لئے نفی میں ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک ہمارے بعد آزاد ہوئے لیکن آج ان میں سے بعض ایک ابھرتی ہوئی سپرپاور اور ایک (غیر علانیہ) نیو کلیئر پاور اور مشرق وسطیٰ کی ریجنل پاور بن کر ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔


دنیا کا نقشہ سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ کون کون سے ارضی خطے ایسے ہیں جو کہنے کو ہماری طرح ترقی پذیر ہیں لیکن دراصل ترقی یافتہ دنیا کے دریوزہ گر ہیں۔ ان خطوں میں دو براعظم ایسے ہیں جن کے سارے ممالک ترقی پذیر یا پس ماندہ کہلاتے ہیں۔ میری مراد افریقہ اور جنوبی امریکہ سے ہے۔ ان براعظموں کے علاوہ براعظم ایشیا تمام کا تمام (چین اور جاپان کے علاوہ) پسماندہ ہے۔
کئی دوستوں کا خیال یہ بھی ہے کہ جس خطہ ء ارضی نے جنگ کی عالمگیر تباہی نہیں دیکھی وہ پس ماندہ رہ گیا۔ لیکن اگر ایسا ہے تو شمالی امریکہ اور آسٹریلیا کی سرزمینوں (Mainlands)نے گزشتہ کئی صدیوں سے کون سی جنگیں دیکھی ہیں اور کون سی بربادی (بوجہ جنگ) ان پر نازل ہوئی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اگر شمالی امریکہ بغیر جنگ کی تباہی کا سامنا کئے، دنیا کی واحد سپر پاور بنا ہوا ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ کیا حال ہی میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیا نے جنگ کی بربادیاں نہیں دیکھیں۔ بلکہ یہ بربادیاں تو ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوئی ہیں لیکن کیا ان کی راکھ سے کوئی نیا افغانستان یا عراق یا لیبیا ابھرا ہے؟ دوسری عالمی جنگ میں سارے یورپ کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ کروڑوں یورپین جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یورپ کا کوئی گلی کوچہ جنگ کی ہولناکیوں سے نہ بچ سکا۔ دوسری طرف جاپان اور چین بھی اسی جنگ میں ایسی بربادی سے دوچار ہوئے کہ 1945ء کے اواخر میں سارا یورپ اور آدھا مشرق بعید (Far East) یا خاک و خون میں غلطاں تھا یا بارودی آتش فشاں میں دہک رہا تھا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان تباہ شدہ معاشروں نے چھ سال تک جنگ کی بربادیوں کو اپنے سینوں پر جھیلا اور جنگ کے ختم ہونے کے بعد صرف چھ سات برسوں میں (چھ سات عشروں میں نہیں) ترقی کے اس سفر پر نکل کھڑے ہوئے جس کی کئی منزلوں کی روشنیاں آج سب کی آنکھوں کو چندھیا رہی ہیں۔
افغانستان، عراق اور لیبیا سے ناٹو افواج رخصت ہو گئیں بالکل اس طرح جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد اتحادی اور محوری طاقتیں دنیا بھر کے خطہ ہائے جنگ سے نکل گئی تھیں۔ لیکن کیا یہ تینوں مسلم ایشیائی ممالک (افغانستان، عراق اور لیبیا) طویل غیر ملکی تسلط کے بعد اسی راہ پر گامزن ہیں جس پر 1945ء کے بعد جاپان، چین اور یورپ گامزن تھا؟۔۔۔ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔۔۔ اور اگر یہ سوال اٹھاؤں کہ کیا آنے والے دو چار عشروں میں یہ مسلم ممالک کسی جدید معاشرے کی تشکیل کی راہوں پر چل نکلیں گے تو افسوس کہ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہوگا!


میں نے سطورِ گزشتہ میں جن سوالوں کے حوالے دیئے ہیں ان کے بعد بھی آخر میں میرا وہ سوال باقی رہتا ہے کہ پاکستان کی پس ماندگی کا ’’راز‘‘ کیا ہے؟ جب تک کسی مرض کا سبب معلوم نہ ہو، اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان کی پسماندگی کی وجہ اقتصادی بدحالی نہیں، تعلیم و تعلم سے بیگانگی نہیں، کثرتِ آبادی نہیں تو پھر آخر وہ سبب کیا ہے جو گزشتہ سات عشروں میں پاکستان کو آگے کی طرف نہیں پیچھے کی طرف لے جا رہا ہے؟میں بڑے بڑے الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز سے درخواست کروں گا کہ وہ روزانہ کے سیاسی مسائل سے ہٹ کر کبھی ان مسائل پر بھی کوئی مباحثہ کروالیا کریں جو بظاہر لانگ ٹرم معلوم ہوتے ہیں لیکن موجودہ بے ہنگم اور لایعنی شارٹ ٹرم مسائل کے بیج بھی تو کئی سال پہلے بوئے گئے جن کی فصل ہم آج کاٹ رہے ہیں۔ ان فصلوں کو ضرور کاٹتے رہیے لیکن ایسے بیج بھی کاشت کیجئے جو بے ہنگم اور لایعنی نہ ہوں اور جن کی نقد آور فصل، مستقبل قریب یا بعید میں کاٹی جا سکے۔


اگر الیکٹرانک میڈیا اپنے پرائم ٹائم میں ہفتے میں ایک دن اس سوال پر دانشوروں کی کسی ٹیم کو مدعو کرکے مباحثہ کروائے کہ پاکستان کی پس ماندگی کی اصل وجہ کیا ہے، تو شائد کوئی ’’وجہ‘‘ نکل ہی آئے۔ فی الحال جن وجوہات کا چرچا کیا جاتا رہا ہے،بارِدگر ان کی طرف آتے ہیں۔۔۔ کیا مارشل لاؤں کا نفاذ اس کی وجہ تھی، کیا کرپشن کی روک تھام نہیں کی گئی، کیا مذہب سے بیگانگی اس کی وجہ ہے، کیا تعلیم سے بے اعتنائی برتی گئی، کیا نظامِ تعلیم میں کوئی خامی ہے، کیا ہمارے ہاں اچھے اساتذہ کا قحط ہے، کیا والدین کی موجودہ نسل اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر گامزن نہیں، کیا سوشل میڈیا کا سیلابِ بلاخیز اس کا سبب ہے، کیا پاکستانی معاشرے میں وہ مائیں پیدا ہونا بند ہو گئی ہیں جوصاحبِ اخلاق اولاد کو جنم دیتی تھیں، کیا ایسے باپ پیدا نہیں ہو رہے جو بیٹے بیٹیوں کو حلال و حرام یا جائز و ناجائز یا اچھے برے کی تمیز سے حکماً اور تادیباً آگاہ کیا کرتے تھے؟۔۔۔


میرے خیال میں ہمارے ہاں دانش وروں کا ایک محدود سا ایسا طبقہ اب بھی موجود ہے جو تمدنی، عمرانی، تاریخی، تعلیمی اور دوسرے ہمہ گیر موضوعات پر کامل دسترس رکھتا ہے، اس کو دعوت دی جائے کہ وہ اس موضوع کے ٹاک شوز میں شرکت کریں۔ یہ ہر روز جاری سیاسی معاملات و مسائل کو آپ لوگ لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور 25منٹ کی گفتگو میں پانچ سات شرکائے مباحثہ کو شریکِ بحث کرکے 35منٹ کے اشتہاری وقفے دکھا اور سنوا دیتے ہیں تو بے شک ایسا کرتے رہیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ اینکر یا پروڈیوسر حضرات تو نہیں کرتے۔ یہ فیصلہ تو چینل کا مالک کرتا ہے کہ کون ساپروگرام زیادہ ’’اشتہارآور‘‘ ہے، کون سا موضوع، کس وقت، کس اینکر کے سپرد کیا جائے، کون سے پروڈیوسر کو یہ فریضہ سونپا جائے کہ وہ اینکر حضرات اور خواتین کوٹاک شو کا سکرپٹ لکھ کر اس کے ہاتھ میں تھمائے یا پس پردہ بیٹھ کر شرکائے بحث کے سوالات کا جواب Prompterکی سکرین پر لکھ کر اینکر کی رہنمائی کرے۔


رمضان المبارک کاآخری عشرہ ختم ہونے کو آ رہا ہے۔۔۔ کیا ناظرین کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم جو کچھ میڈیا پر دیکھتے ہیں وہ گزشتہ ’’رمضانوں‘‘ کے پروگراموں ہی کی بازگشت ہے۔ کیا میڈیا پرکوئی نیا یا فکر انگیز تعمیری یا دینی پہلو زیر بحث لایا جارہا ہے؟ اگر پبلک اوسط فہم ہے تو کیا آپ نے اس کو ہمیشہ فہم و فراست کے اوسط لیول ہی پر رکھنا ہے یا اس کو مزید ایجوکیٹ اور انفارم بھی کرنا ہے؟۔۔۔کہتے ہیں کہ ہر عمل کے پیچھے ایک خیال کارفرما ہوتا ہے۔ جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ ہی سے نمود ہوتی ہے۔ براہِ کرم ذرا سوچئے ہم کب تک چبائے ہوئے کی جگالی کرتے رہیں گے؟

مزید :

کالم -