کشمیر۔۔۔ مذاکرات کے ایجنڈے پر سرفہرست

کشمیر۔۔۔ مذاکرات کے ایجنڈے پر سرفہرست

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل کئے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، پاکستان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اوفا(روس) میں پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے دوران مودی سے وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان میں بھارت کی مداخلت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وزیراعظم نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر تحقیقات کی تفصیل مانگی۔ مرضی کے موضوعات پر بات ہوئی۔یہ ملاقات ’’بریک تھرو‘‘ تو نہیں، مگر اچھی شروعات ہے۔یہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز نہیں، سرتاج عزیز نے کہا کہ ملاقات بعض ممالک کی مداخلت پر ہوئی اور اگر ان ممالک کی دلچسپی جاری رہی تو مذاکرات کی بحالی ممکن ہے، کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے اور جیسے کہ معلوم ہے یہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی پیدا ہو گیا تھا،کشمیر کی پہلی جنگ کے دوران جب کشمیری مجاہدین تیزی سے سری نگر کی جانب بڑھ رہے تھے، بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رجوع کر کے جنگ بندی کی درخواست کی اور کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا۔ اقوام متحدہ نے مداخلت کر کے جنگ تو رُکوا دی،لیکن آج تک بھارت اپنے وعدے کو ایفا نہیں کر سکا، اب تک اس مسئلے کو حل کرنے کی جو بھی کوششیں ہوئیں، سب ناکام ہو گئیں، مختلف حکومتوں کے ادوار میں مذاکرات کے طویل اور مختصر دورانئے بھی ہوئے، جنگیں بھی ہوئیں، جنگوں کے بعد پھر مذاکرات کے ناکام ادوار ہوئے، دونوں ممالک میں کشیدگی دور کرنے کے لئے نام نہاد ’’اعتماد سازی‘‘ کے اقدامات بھی ہوئے، تعلقات کو معمول پر لانے کے وعدے وعید بھی ہوئے، وعدوں کی تکرار بھی ہوئی، مگر مسئلہ کشمیر آج تک وہیں کا وہیں ہے۔ اس میں اگر فرق پڑا ہے، تو یہ کشمیری اپنی ریاست میں رائے شماری کے لئے زیادہ متحرک ہو گئے۔ ایک دور میں کشمیریوں نے مسلح جدوجہد بھی کی، تاہم اس وقت پوری دُنیا دیکھ رہی ہے کہ اُن کی تمام تر جدوجہد پُرامن اور سیاسی طریقے سے جاری ہے، سری نگر اور ریاست کے دوسرے مقامات پر کشمیریوں کے احتجاجی اجتماعات میں اگر پاکستان کے پرچم لہرائے جاتے ہیں تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ یہ ان کشمیریوں کے دِلی جذبات کا شائستہ اظہار ہے، جنہوں نے اپنی تاریخ کے صفحات خون سے رنگین کئے ہیں اور ابھی13جولائی کو اس خونیں دن کی یاد منائی گئی، جب ڈوگرہ سپاہیوں نے اذان دینے والے 25نوجوانوں کوگولیوں سے شہید کر ڈالا تھا، لیکن انہوں نے اپنی اذان پھر بھی مکمل کی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرفروشی کی یہ تاریخ رکھنے والی قوم کو کب تک دبا کر رکھا جا سکتا ہے؟ بھارت اگر اپنی سات لاکھ فوج کے ذریعے بھی کشمیریوں کو جذبہ حریت کے اظہار اور پاکستانی پرچم لہرانے سے باز نہیں رکھ پایا تو پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر آخر وہ کس امید پر رائے شماری کو ملتوی کرتا چلا آ رہا ہے؟ یہ مسئلہ جتنی جلدی مذاکرات کی میز پر حل ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ بامقصد مذاکرات کا راستہ ہی مسئلے کا حل ہے۔ اگر اب تک یہ مسئلہ حل ہو گیا ہوتا تو دونوں ممالک کے تعلقات بھی خوشگوار ہو گئے ہوتے اور دونوں ممالک کو جنگی تیاریوں پر اربوں روپے کے جو اخراجات کرنے پڑتے ہیں، اُن کا زیادہ بہتر مصرف کر لیا گیا ہوتا، لیکن ستم ظریفی ہے کہ اعتماد سازی کے لئے اِدھر اُدھر کے اُلٹے سیدھے اقدامات تو کئے جاتے ہیں، اصل مسئلے کے حل سے پہلو تہی کیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ تجارت شروع کر دی جائے،ایک دوسرے کے مُلک میں لوگوں کی آمدو رفت کا سلسلہ شروع ہو جائے تو تعلقات معمول پر آ جائیں گے یا کم از کم پروسس شروع ہو جائے گا، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، بھارت کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہئے۔ نریندر مودی یہ تو کر سکتے ہیں کہ حیلوں بہانوں سے مذاکرات کو ٹالتے رہیں اور اگر مذاکرات شروع بھی ہو جائیں تو کشمیر پر بات چیت کو طول دے کر پہلے کی طرح کسی نہ کسی انداز میں لٹکا دیا جائے، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ مسئلہ حل بھی نہ ہو اور امن بھی ہو جائے اور تعلقات بھی معمول پر آ جائیں۔ مودی اگر ٹال مٹول سے اپنی وزارتِ عظمیٰ کی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی۔
اوفا میں دونوں وزرائے اعظم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا اظہار دس نکاتی اعلامئے میں کر دیا گیا ہے، جس کے پہلے ہی نقطے میں کہا گیا ہے کہ تمام متنازعہ حل طلب امور پر مذاکرات میں بات چیت ہو گی اب اگر کسی کو یہ نہیں پتہ کہ دونوں ممالک میں اصل تنازعہ کیا اور کشیدگی کی بنیادیں کس مسئلے نے رکھی ہیں تو وہ یا تو احمق ہے یا تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہا ہے، اعلامئے کی روشنی میں اگر مذاکرات شروع ہوں گے توکشمیر ہی بنیادی مسئلہ ہو گا جیسا کہ سرتاج عزیز نے وضاحت کر دی ہے اور طارق فاطمی بھی کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے ایجنڈے پر کشمیر سرفہرست ہو گا، اس وضاحت کے بعد یہ بحث لاحاصل ہے کہ اوفا میں کشمیر پر بات نہیں ہوئی، جب مجوزہ (اور متوقع) مذاکرات میں کشمیر ہی سرفہرست رکھنے کا اعلان کر دیا گیا تو اب اس بحث کو بند کر کے آگے بڑھنا چاہئے، جو لوگ اس بحث میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں ان کے لئے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اُن ’’ٹاکنگ پوائنٹس‘‘ کو ٹھوس انداز میں زیر بحث لائیں،جو مذاکرات میں زیر غور آ سکتے ہیں۔
مذاکرات(اگر شروع ہوتے ہیں) کو نتیجہ خیز کیسے بنایا جا سکتا ہے، اور مسئلہ کشمیر کس انداز میں حل ہو سکتا ہے اس پر غور کرنا چاہئے۔سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف جو اپنے دور میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے بہت پُرجوش تھے، وہ آگرہ بھی گئے اور بعد میں کشمیر پر ٹریک ٹو حکمت عملی بھی اپنائی اور اُن کا یہ خیال ہے کہ اگر اُن کی حکومت اپنے آخری دور میں نامقبول نہ ہو گئی ہوتی تو مسئلہ کشمیر حل کے قریب تھا، اُن کے وزیر خارجہ خورشید قصوری بھی یہی بات کہہ چکے ہیں۔ دفتر خارجہ میں اگر ان پسِ پردہ مذاکرات کی کوئی تفصیل موجود ہے اور اس کی روشنی میں مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں تو ان سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے، خود جنرل(ر) پرویز مشرف اور خورشید قصوری سے بھی اس سلسلے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کے پرویز مشرف سے تعلقات ٹھیک نہیں، لیکن آخر وہ نو سال سے زیادہ عرصے کے لئے ہمارے مُلک کی تقدیر کے فیصلے کرتے رہے ہیں۔ اُن سے اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی مدد مل سکتی ہے تو اس سے ضرور فائدہ اُٹھانا چاہئے،خود پرویز مشرف بھی چاہیں تواپنے پندار کا صنم کدہ ویران کرکے آگے بڑھ کر حکومت کو اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔شاید اس جذبے سے کوئی راہ سخن نکل آئے ،ان کے پاس اگر تمام فریقوں کو مطمئن کر کے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا کوئی فارمولا ہے تو وہ بھی حکومت کو پیش کر دیں۔ سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ اگر ملکی مفادت کے لئے مشاورت ضروری ہو تو اس میں کوئی ہرج بھی نہیں۔۔۔ بھارت کے لئے بہرحال پاکستان کا یہ پیغام واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیرکوئی مذاکرات نہیں۔

مزید :

اداریہ -