نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت بینکوں کے باہر شہریوں کی قطاریں

نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت بینکوں کے باہر شہریوں کی قطاریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(صبغت اللہ چودھری) سٹیٹ بینک کی واضح ہدایات کے باوجود کمرشل بینک عام شہریوں کو نئے نوٹ جاری کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں،عیدالفطر پر 150 ارب سے زائدمالیت کے نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے، سٹیٹ بینک کی جانب سے 16 فیلڈ آفسز قائم کرنے اور ملک کے 28 شہروں میں نئے نوٹوں کے حصول کیلئے ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کے باوجود شہریوں کو نئے نوٹ مہیا نہیں ہو سکے، جنہوں نے مجبوراً بلیک مارکیٹ کا رخ کر لیا ہے جہاں اضافی رقم کے عوض نئے نوٹ خریدنے پر مجبور ہیں ۔ عیدالفطر قریب آتے ہی صوبائی دارالحکومت لاہور میں نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک میں خرید و فروخت کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے،سٹیٹ بینک نے 10 جولائی کو تمام کمرشل بینکوں کے آپریشنز گروپ سربراہوں کے ساتھ اجلاس میں عوام کو نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی سے متعلق واضح ہدایات جاری کی تھیں، سٹیٹ بینک کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر ایس بی پی بی ایس سی کے سولہ فیلڈ آفسزنے عوام کونئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم شروع کی، اس کے علاوہ مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو 141 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ بھی فراہم کر دیئے ہیں تا کہ عوام کو مہیا کئے جا سکیں، جبکہ عوام کو ایس ایم ایس کے ذریعے نئے طریقہ کار کے تحت کاؤنٹر سے جو نئے کرنسی نوٹ فراہم کئے جا رہے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں جبکہ بینکو ں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے کاؤنٹرز پر نئے کرنسی نوٹوں کی دستیابی یقینی بنائیں۔ تاہم تمام تر اقدامات کے باوجود صورتحال اس سے مختلف ہے ، بینکوں میں نئے نوٹوں کے حصول کے لئے شہریوں کی قطاریں روز بروز لمبی اور شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بینکوں کا عملہ انہیں نئے نوٹ جاری کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ کبھی انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ نوٹ ختم ہو گئے ہیں اور کبھی نوٹ کے انتظار میں گھنٹوں بینک میں انتظار کرنے کے بعد دوبارہ آنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ جیل روڈ پر ایک بینک برانچ سے نئے نوٹ حاصل کرنے کیلئے آنیوالے شہری وسیم، بابر،عثمان اور طارق نے روزنامہ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ تین دن سے نئے نوٹ حاصل کرنے کے لئے مختلف بینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ہو سکی۔ شہری الزام لگا رہے ہیں کہ بینکوں کا عملہ اپنے بڑے کھاتہ داروں اور کرنسی ڈیلرز کو نئے نوٹ فروخت کر رہا ہے، لیکن عام شہریوں کو نئے نوٹ فرام نہیں کئے جا رہے۔ سٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کی تقسیم کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے رواں برس ایس ایم ایس سروس کا آغاز بھی کیا کیا ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے موبائل سے 8877 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر اور بینک برانچ کا کوڈ ایس ایم ایس کر کے 10، 20 اور 50 روپے کے نئے نوٹوں کا ایک ایک پیکٹ بک کر سکتے ہیں۔سٹیٹ بینک نے اپنی ویب سائٹ پر لاہور کے 20 کمرشل بینکوں کی برانچز کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس نمبر پر دس دس بار میسج کر چکے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا اور ان کا موبائل بیلنس بھی کٹ گیا۔اس صورتحال کے پیش نظر بلیک مافیا متحرک ہو گیا ہے اور نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک مارکیٹ عروج پر پہنچ گئی ہے، لاہور میں واقع سٹیٹ بینک کی مرکزی عمارت سے ملحقہ سڑکوں، انار کلی اور لوہاری جیسے مصروف بازاروں اور شہر کے دیگر مقامات پر قائم ہاروں کی دوکانوں پر کرنسی نوٹ بلیک میں فروخت ہو رہے ہیں، سب سے زیادہ ریٹ 10 روپے والے نوٹ کی کاپی کا ہے جو تین سو سے ساڑھے تین سو تک منافع لے کر فروخت ہو رہی ہے، جبکہ 20 ، 50 اور 100 روپے والے نوٹوں کی کاپیاں بھی 200 روپے سے 300 روپے تک منافع میں فروخت ہو رہی ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق اگر کسی شہری کو نئے نوٹوں کے حصول میں کوئی شکایت ہے یا کوئی بینک صارفین کو نوٹ فراہم کرنے میں جان بوجھ کو ٹال مٹول کر رہا ہے تو وہ سٹیٹ بینک یا بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر میں اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔