ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،محمد عمران سمیت دیگر کھلاڑیوں نے بیانات ریکارڈ کروا دئے

ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،محمد عمران سمیت دیگر کھلاڑیوں نے بیانات ریکارڈ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور ( سپورٹس رپورٹر ) پاکستان ہاکی ٹیم کی ورلڈ ہاکی لیگ میں ناقص پرفارمنس اور اولمپکس میں کوالیفائی نہ کرنے کی تحقیقات کے لئے پی ایچ ایف کی بنائی گئی تین رکنی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوا ۔اجلاس کی صدارت اولمپئنز شاہد علی خان نے کی جبکہ دیگر اراکین میں اولمپئن محمد اخلاق اور منصور احمد شامل تھے۔کمیٹی قومی ہاکی ٹیم کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پی ایچ ایف کو دے گی ۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کپتان ایم عمران، وقاص شریف اور گول کیپر عمران بٹ نے اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ کمیٹی کے سربراہ شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ ہمارا کام اس میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہے بلکہ ان عوامل کو تلاش کرنا ہے جن کی وجہ سے پاکستان ہاکی ٹیم اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ آج بروز بدھ کو قومی ٹیم کے مزید چار کھلاڑیوں کو طلب کیا جائے گا جبکہ عید کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کو بھی بلایا جائے گا۔ شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کی حمایت اور مخالفت نہیں کرنی ہے۔ انشااﷲ اپنا کام پوری ایماندار سے کرینگے اور اپنی رپورٹ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو جمع کرائیں گے۔
جو بعد ازاں اس رپورٹ کو وزیر اعظم پاکستان کو پیش کرے گی۔ منصور 1994ء فاتح ٹیم کے کھلاڑی رہے ہیں ان کے ساتھ ایم اخلاق ہیں جو تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنی رپورٹ تیار کرینگے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد علی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے اعتراضات کیے ہیں کہ کسی بھی ٹورنامنٹ سے پہلے ہمارے ساتھ بہت سارے وعدے کیے جاتے رہے ہیں جن پر بعد میں کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ یہ ایک ’’ڈمی‘‘ کمیٹی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک خود مختار ادارہ ہے جس نے اپنی ٹیم کی شکست کی وجوہات جاننے کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان ایم عمران نے کہا کہ کمیٹی کو بتایا کہ ہے کہ فنڈز جاری نہ ہونے کی بنا پر اہم ٹورنامنٹ کی تیاری کا پورا موقع نہیں مل سکا ہے۔ ایشین گیمز اور چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں تو اولمپک کوالیفائی کیوں نہیں جیت سکتے تھے۔ ہمیں سہولیات نہیں دی گئیں اس کے علاوہ خوراک کے مسائل اور کھلاڑیوں کی جانب سے مسنگ بہت زیادہ رہی۔ کمیٹیاں ضرور بنیں اگر ان کے نتائج نہیں نکلنے تو ان کمیٹیوں کے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فاروڈ کھلاڑی وقاص شریف کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام نے ٹورنامنٹ میں آخری پوزیشن آنے پر کسی کھلاڑی سے استعفٰی مانگا ہوگا۔ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاری کے لیے ہمیں مطلوبہ معیار کی ٹریننگ نہیں کرائی گئی، پلیئرز تو بغیر پیسے کھیلنے کے لیے گئے تھے بد قسمتی ہے کہ کوالیفائی نہ کر سکے۔ گول کیپر عمران بٹ کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کو آخری موقع تک یہ نہیں پتہ تھا کہ اس نے ٹورنامنٹ کھیلنے کے لئے جانا بھی ہے کہ نہیں۔ کھلاڑی ذہنی طور پر دباؤ کا شکار تھے۔ کوئی بھی کھیل فنڈز کے بغیر ترقی نہیں کرتا اگر ہاکی فیڈریشن کو مطلوبہ فنڈز ملتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔