خانکی ہیڈ ورکس پر بیراج کی تعمیر بند ہونے سے نچلے درجے کا سیلاب

خانکی ہیڈ ورکس پر بیراج کی تعمیر بند ہونے سے نچلے درجے کا سیلاب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جامکے چٹھہ(نمائندہ پاکستان )خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر بیراج تعمیر کرنے والی کمپنی نے دریا کا 65فیصد حصہ عارضی طور پر بند کر دیا جس کی وجہ سے نچلے درجے کا سیلاب بھی اونچے درجے کی صورت اختیار کرگیا۔ پانی کو قدرتی راستہ نہ ملا تو قریبی دیہاتوں میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں پھیل گیا ۔ چارہ ،سبزیوں اور دھان کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔کاشتکاروں کا شدید احتجاج اور عارضی بند ختم کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق جامکے چٹھہ کے قریب خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر ایشین ترقیاتی بینک کے مدد سے 27ارب روپے کی لاگت سے بیراج تعمیر کیا جا رہا ہے۔ پرانے انفراسٹرکچر سے آگے1760میٹر چوڑے دریا پر 8ہیڈ تعمیر کئے جا رہے ہیں جس پر 65 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔5ہیڈ مکمل ہوئے ہیں جن پر پل بھی تعمیر کر دیا گیا ہے ۔ نئی تعمیرات کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لئے اوپر کی جانب عارضی طورپر ایک بند تعمیر کیا گیا جس کی وجہ سے دریا کی 65فیصد گذرگاہ بند ہو گئی ہے اور پانی کے گذرنے کے لئے صرف 35فیصد راستہ بچا ہے ۔ 1100میٹر کی چوڑائی عارضی بند نے گھیر لی ہے۔دریا کے بالائی حصوں میں ہونے والی حالیہ بارشوں کی وجہ سے خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گذرا جس کو راستہ نہ ملا تو درمیانے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو گیا اور جنوب کی جانب سینکڑوں ایکڑ زرعی زمینوں میں پھیل گیاجس سے دھان، سبزیات اور چارے کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں اور بارشی پانی قریبی دیہات کوٹ شیرا، گورالی، جعفر کوٹ اور پھالوکی کے داخلی راستوں تک پہنچ گیا۔متعد د کاشتکاروں کو بھی اپنے مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر پناہ لینا پڑی۔دریا کے کنارے آبادیوں نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کی عارضی بند کو فی الفور ختم کرکے بارشی پانی کو راستہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بڑاسیلاب آیا تو درجنوں دیہات زیر آب آ جائینگے۔محکمہ آبپاشی کے افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی کمپنی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ عارضی بند کو فوری طور ختم کیا جائے تاکہ مشکل صورتحال پیدا نہ ہو اور سیلاب کا پانی آسانی سے گذر سکے۔

مزید :

علاقائی -