سیکورٹی انتظامات نہ کرنے والے بینکوں کو بند کر دیا جائے گا سی سی پی او

سیکورٹی انتظامات نہ کرنے والے بینکوں کو بند کر دیا جائے گا سی سی پی او

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور لاہور(پ ر)سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے کہاہے کہ بینکوں کو سیکورٹی انتظامات کیلئے جاری کیے گئے ایڈوائزی لیٹر پر عمل درآمدنہ کرنے بالخصوص بینکوں میں وینٹج پوائنٹس نہ بنانے ،نائٹ ویژن کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب میں تساہل برتنے اور ATMمشینوں کی سیکورٹی کیلئے گارڈزتعینات نہ کرنے والے بینکوں کو بند کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج بینک آف پنجاب کے کمیٹی روم میں تمام بینکوں کے زونل ہیڈز کے ایک اجلاس کے دوران کیا جس میں نیشنل بینک ، حبیب بینک ، ایم سی بی بینک ، الائیڈ بینک ، الفلاح بینک، عسکری بینک، سمٹ بینک ، سٹی بینک ، فیصل بینک، سونیری بینک،یو بی ایل بینک سمیت تمام بینکوں کے زونل ہیڈز نے شرکت کی ۔ سی سی پی او نے کہاکہ بینکوں کی سیکورٹی کیلئے رکھے جانے والے گارڈز کی نادرا اور پولیس سے تحقیق ضرور کروائی جائے اور کسی بھی ایسے گارڈ کو سیکورٹی کیلئے نہ رکھا جائے جس کا اتا پتہ معلوم نہ ہوجبکہ بینکوں کی انتطامیہ ایسی کسی بھی سیکورٹی کمپنی سے معاہدہ نہ کریں جنکے پاس میعاری سکیورٹی گارڈ نہ ہوں یا جنکی سروسز معیاری نہ ہو ں انہوں نے کہاکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو بھی شخص بینک سے دس لاکھ سے زائد کیش لے کر جائے اس کی سیکورٹی کا مکمل انتظام ہوں اور اگر بینک اسے سیکورٹی نہ دے سکے تو متعلقہ ایس ایچ او یا بیٹ افسر اس شخص کو سیکورٹی مہیا کرے گاتاکہ ماہ رمضان اور عید کے قریب ایام میں بینکوں سے کیش لے کر جانے والوں کو ڈاکوؤں اور راہزنوں کی وارداتوں سے محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بینکوں میں لگائے گئے کلوز سرکٹ کیمرے معیاری اور اعلیٰ کوالٹی کے ہونے چاہیے تاکہ ان کی ریکارڈنگ سے بینک میں آنے والے کسی بھی شخص کو باآسانی شناخت کیا جاسکے۔ ۔سی سی پی او نے کہاکہ ہمار ا کام شہریوں کے جان و مال اورعزت کا تحفظ ہے اور اس مقصد کے لئے لاہور پولیس اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے انہوں نے کہاکہ وینٹج پوائنٹ میں تین سہولیات کا ہو نا بہت ضروری ہے۔ سیکورٹی گارڈبمعہ اسلحہ موجود ہووینٹج پوائنٹ میں 15پر کال کرنے کی سہولت موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایمر جنسی بٹن ہو جس سے نہ صرف بینک بلکہ بلڈنگ کی چھت پر لگا ہوا الارم بھی آن ہوجائے۔سی سی پی او نے کہا کہ پولیس اپنے فرائض پوری تندہی سے ادا کر رہی ہے اور یوبی ایل شاہ عالم اور ایم سی بی گڑھی شاہوبرانچ میں ہونے والی وارداتوں کا سراغ لگا کر پولیس نے ملزموں کو گرفتار کر لیاہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جو سکیورٹی گارڈ بینک کے لاکر توڑ کر سامان لیکر بھاگا وہ پاراچنار کرم ایجنسی کا رہائشی تھا جس کا نہ کواتاپتہ تھا اور نہ کوئی آگے پیچھے پولیس نے جس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گینگ کو گرفتار کیاوہ ایک منفرد مثال ہے اور اس گینگ کے تمام ممبران کا تعلق فاٹا کے علاقوں سے ہے لہذا ہمیں سکیورٹی گارڈ بینک میں رکھتے وقت اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس گارڈکاگھر اور رہائش کا بینک کے پاس مکمل ریکارڈ ہو اور اس گارڈ کے کاغذات نادرا اور پولیس سے تحقیق شدہ ہوں ۔

مزید :

صفحہ آخر -