فوکل پرسن نیب کو دھمکیوں کیخلاف کاروائی کیلئے چیئرمین اور ڈی جی نیب سے جواب طلب

فوکل پرسن نیب کو دھمکیوں کیخلاف کاروائی کیلئے چیئرمین اور ڈی جی نیب سے جواب ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور (نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس فرخ گلزار اعوان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے افسر منیر احمد کی درخواست پر چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب پنجاب سے 2ہفتوں کے اندر اندر جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے سیف الملوک ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ منیر احمد کو بورڈ نے تحریر ی حکم کے ذریعہ فوکل آفیسر مقرر کیا تھا۔ جس کی ذمہ داری تھی کہ کرپشن کے تمام مقدمات جو محکمہ کے مختلف افسران کے خلاف نیب اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں میں زیر تفتیش تھے بورڈ کی طرف سے ان کی پیروی کرے اور تمام ثبوت جو تفتیشی افسران مانگے انہیں مہیا کرے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملتان میں محکمہ کی قیمتی پراپرٹی میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی گئی۔ جس کے بارے وفاقی حکومت کے نمائندے اور اس وقت کے سیکرٹری بورڈ جنید احمد نے جو تفصیلی انکوائری کی۔ جس میں ایڈمنسٹریٹر ملتان جاوید بشیر ، آصف رضا شیخ، غلام سرور ڈائریکٹر لیگل سمیت دیگر 5افسران گناہ گار قرار پائے۔ رپورٹ مزید کاروائی کے لئے وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی جس پر وفاقی حکومت نے بذریعہ تحریری حکم جاوید بشیر ۔ آصف رضا شیخ۔ غلام سرور ڈائریکٹر لیگل سمیت دیگر ملزمان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا تحریری حکم جاری کیا جو منیر احمد نے بطور فوکل پرسن محکمہ کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل نیب پنجاب کو درخواست ریفرنس گزاری۔ سیف الملوک ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ بااثر املزمان نے علم ہونے پر منیر احمد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں، جس میں نوکری سے برطرفی اور جان سے ہاتھ دھونے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ منیر احمد نے اپنی جان کی حفاظت کے لئے چیئرمین نیب کو ایک خط لکھا ۔ جس کی نقل ملزم آصف رضا شیخ نے چیئرمین نیب کے دفتر سے حاصل کرکے مدعی کے خلاف ہی محکمانہ کاروائی شروع کروا دی۔ حالانکہ وفاقی حکومت نے ایک مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے مطابق کرپشن کی شکایات کرنے والوں کی حفاظت کے لئے قانون بنایا جا رہا ہے۔ درخواست/رٹ میں مزید استدعا کی گئی کہ ریفرنس پر جلد از جلد کاروائی کرکے اسے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے تا کہ بااثر ملزمان قانون کے شکنجہ میں آ سکیں اور باقی کرپٹ افسران کے لئے بھی باعث عبرت بن سکے۔ مزید چیئرمین نیب سے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار منیراحمد جان کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد چیئرمین اور ڈی جی نیب پنجاب کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کے ریفرنس کی بابت 2ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

فوکل پرسن

مزید :

صفحہ آخر -