اشتعال انگیز ،الطاف کیخلاف بغاوت کے مقدمات کی تعداد 50سے بڑھ گئی ،متحدہ کا مختلف شہروں میں احتجاج

اشتعال انگیز ،الطاف کیخلاف بغاوت کے مقدمات کی تعداد 50سے بڑھ گئی ،متحدہ کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ملتان،کراچی اسلام آباد راحیم یار خان (این این آئی)ملکی سکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقریرپر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں درج کیے گئے مقدمات کی تعداد 50ہوگئی ہے جبکہ مقدمے کے اندراج کے لیے دیگر شہروں میں بھی درخواستیں دی جاررہی ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ ڈویژن میں الطاف حسین کے خلاف 9لاہور میں 2شیخوپورہ میں2 مقدمات درج کئے گئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر پر سکھر اور شکار پور ،رحیم یارخان،دادو،لاڑکانہ ،کوہاٹ ،چمن اورپشین سمیت ملک بھرکے مختلف شہروں میں 35مقدمات درج کر لئے گئے ہیں ، ایف آئی آر کے متن کے مطابق الطاف حسین نے سیکورٹی ادارے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ملکی سلامتی اور حساس اداروں کے خلاف الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعدملک بھر کے مختلف شہروں میں مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ حیدر آباد میں الطاف حسین کے خلاف تھانہ فورٹ میں وحید نامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس کی درخواست رات گئے پولیس کو موصول ہوئی جبکہ مٹیاری تھانے میں شہری عثمان جوکھیو کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔ جیکب آباد کے تین تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے ۔ تھانہ ایئر پورٹ میں شہری عبد الخالق اور تھانہ صدر میں شہری اعجاز شاہ کی مدعیت میں جبکہ تھانہ دوداپور میں شہری محمد مٹھل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔ تینوں مقدمات دفعہ 153 کے تحت رجسٹر کئے گئے ۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق الطاف حسین نے سیکورٹی اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے ۔ پاکستان کی سالمیت اور قومی اداروں کو نشانہ بنایا ۔ ایم کیو ایم قائد کی اشتعال انگیز تقریر کا مقصد سندھ اور کراچی میں گڑبڑ پیدا کرنا تھا ادھر خیرپور میرس کے تھانہ تھری میرواہ اور فیض گنج میں بھی دو مقدمات درج کر لئے گئے ہیں ۔ دادو کے تھانہ اے سیکشن میں دو مقدمات درج ہوئے ۔ شکار پور کے دو مختلف تھانوں میں بھی الطاف حسین کے خلاف دو مقدمات قائم ہوئے جبکہ میرپور خاص میں دو ، بدین ، ٹھٹھہ ، گھوٹکی ، سکھر ، لاڑکانہ سمیت ٹنڈو اللہ یار میں بھی ایک ایک مقدمہ درج کیا گیا ۔ مزید کئی شہروں میں مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن پر مزید مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔لاہور کے تھانہ انار کلی میں بھی متحدہ قائد کے خلاف درخواست دی گئی ہے جس میں اشتعال انگیز تقاریر پر ان کیخلاف مقدمہ درج کرنے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دریں اثناء ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے پاک فوج اور حساس اداروں کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ملک بھر کی طرح ضلع رحیم یارخان میں بھی الطاف حسین کے خلاف شہریوں کی درخواستوں پر3مقدمات درج کرلیے گئے تفصیل کے مطابق گزشتہ روز ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے پاک فوج اور حساس اداروں کے خلاف لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات دھمکیوں کے خلاف ملک بھر کی طرح ضلع رحیم یارخان کے شہریوں میں بھی شدید ردعمل پایا گیا3شہریوں کی جانب سے پولیس کو تحریری درخواستیں موصول ہوئیں، پہلی درخواست صادق آباد کے رہائشی شہزادہ عباس سے تھانہ سٹی صادق آباد کو دی گئی اسی طرح رحیم یارخان کے شہری مرزا آفتاب کی جانب سے پولیس تھانہ بی ڈویژن جبکہ خان پور کے شہری امجد حسین وارثی کی جانب سے تھانہ سٹی خان پور کو مقدمات کے اندراج کیلئے درخواستیں دی گئیں جس پر پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف زیر دفعہ 69/120/121/ 122/123/124/153/505 اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ مجھے دھمکیاں دینے کی بجائے حکمران اپنی صفوں کا جائزہ لیں‘ میں نے ملک کے خلاف نہیں ظلم کے خلاف بات کی ہے‘ مجھے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل بھیجا جاسکتا ہے‘ مجھے کچھ ہوجائے تو کارکنان تحریک کو زندہ رکھیں اور کسی بھی قیمت پر قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ منگل کو الطاف حسین نے حیدر آباد کی زونل کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے موت کا خوف نہیں میری زندگی اﷲ تعالیٰ اور تحریک کی امانت ہے۔ میری تقریر پر پابندی لگائی جاسکتی ہے مجھے دھمکیاں دینے کی بجائے حکمران اپنی صفوں کا جائزہ لیں۔ مجھ پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ میں نے ملک کے خلاف نہیں ظلم کے خلاف بات کی ہے مجھے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل تو بھیجا جاسکتا ہے لیکن میری آواز کو دبایا نہیں جاسکتا مجھے کچھ ہوجائے تو کارکنان تحریک کو زندہ رکھیں اور کسی بھی قیمت پر قانون کو ہاتھ میں نہ لیں



کراچی (خصوصی رپورٹ) ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی وزیر چودھری نثار اور خواجہ آصف کے الطاف حسین کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات کے خلاف کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے میں اراکین رابطہ کمیٹی، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت کارکنان نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرہ وفاقی وزرا کے حالیہ بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ 37 سال سے الطاف حسین کو ایم کیو ایم اور ان کے چاہنے والوں سے دور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایم کیو ایم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے گی۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کے لہجوں میں جو تلخی ہے اس کی وجوہات بھی ہیں۔ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن کے حق میں پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں لیکن اسے غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ مظاہرے کے اختتام پر رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کی گاڑی کو روک لیا گیا تاہم اس کے بعد انہیں جانے دیا۔

مزید :

صفحہ اول -