6عالمی طاقتوں سے تاریخی سمجھوتہ ،ایران کا ایٹمی پروگرام محدود ،معاشی پابندیوں کے خاتمے کا راستہ صاف

6عالمی طاقتوں سے تاریخی سمجھوتہ ،ایران کا ایٹمی پروگرام محدود ،معاشی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ویانا(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ، آن لائن،اے این این)ایران اورچھ بڑے ملکوں کے درمیان نو سال سے جاری مذاکرات بالآخر کامیاب ہو گئے ہیں اور ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اس معاہدے کے تحت ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود کر لے گا اور اس کے جواب میں اس پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ایران کے صدر حسن روحانی نے اس معاہدے پر خوشی کا اظہارکیا ہے اورکہا ہے کہ اس سے دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کا ایک نیا باب کھلے گا۔امریکہ کے صدر بارک اوباما نے بھی معاہدے پر اطمینان ظاہرکیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ امریکی کانگریس نے اس معاہدے کے خلاف کوئی فیصلہ کیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ایران کے لئے ایٹمی ہتھیار دبانے کا ہر راستہ بند ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ،برطانیہ،فرانس ، چین اور جرمنی کے درمیان مذاکرات 2006میں شرو ع ہوئے تھے جن میں کئی نشیب و فراز آئے۔ ان طاقتوں کی خواہش تھی کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود کرے اوریقین دلائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایران کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے۔ مذاکرات کا نتیجہ خیز دور آسٹریا کے دار الحکومت ویانامیں ہوا جس میں تاریخی معاہدہ طے پاگیا۔ معاہدے کے تحت متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی اور جوہری منصوبے پر پابندیاں لگائی جائیں گی‘ اقوام متحدہ کو ایران کی تمام ایٹمی تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی‘ ایرانی سفارتکار نے کہا کہ ہماری سخت محنت کام آگئی اور معاہدہ طے پاگیا‘ معاہدے کے تحت ایران پر عائد مغربی پابندیوں میں نرمی آئے گی اور ایران جوہری منصوبہ محدود کرلے گا۔ایک سینئرسفارتکار نے معاہدے سے پہلے کہاکہ معاہدے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں۔ ایران اور امریکہ اس سمجھوتے پر تیار ہو گئے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ایرانی کی فوجی تنصیبات کے دوروں کا مطالبہ بھی کر سکیں گے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کی درخواست چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا اور اس صورت میں فیصلہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کا ثالثی بورڈ کرے گا۔ بی بی سی کے مطابق اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے معائنے کے حوالے سے سخت شرائط تسلیم کر لی ہیں۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے نمائندوں کی ایران حکام سے بات چیت کا عمل پیر کو رات بھر جاری رہا تھا۔مذاکرات کا یہ حالیہ دور 17 دن تک چلا اور پیر کی شب ہونے والی بات چیت کے بعد اشارے ملے کہ معاہدے کا اعلان آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔پیر کو سفارت کاروں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق متازع امور کو حل کرنیکے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ان متنازع امور میں ایران کا یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے اور اس کے جوہری پروگرام کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔یورپی یونین کی خارجہ امور کی مندوب فیدریکا موگیرینی اور ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ویانامیں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کا اعلان کیااورکہا کہ اس معاہدے کو منظوری کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جوہری پروگرام محدود کرنے پر ایران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور ایران اپنی جوہری تنصیبات کو اقوام متحدہ کے معائنوں کے لیے کھول دے گا۔مذاکرات کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی صورتحال میں ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔دونوں نمائندوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ’’آج ایک تاریخی دن ہے۔ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ آج ہم یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ایرانی جوہری معاملے کے حوالے سے معاہدہ کر لیا گیا ہے۔ ہم نے وہی حاصل کر لیا ہے جس کی دنیا کو امید تھی یعنی امن کا مشترکہ عزم‘‘۔‘انھوں نے کہا کہ کسی کے خیال میں بھی یہ کام آسان نہیں تھا اور تاریخی فیصلے آسان نہیں ہوتے۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ’’صرف ایک معاہدہ نہیں ہے، یہ سب کے لیے اچھا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے دس سالہ بحران ختم ہو جائے گا۔‘جواد ظریف نے کہا ’اس معاہدے پر عمل درآمد سے بین الاقوامی برداری پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر پابندیوں کے خاتمے سے تجارت اور اقتصادیات میں اضافہ ہو گا۔ یہ ایک طویل معاہدہ ہے اس کے تمام نکات پر فوری طور پر بات نہیں کی جا سکتی۔ یہ معاہدے سکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیا جائے۔ یہ معاہدہ نئی راہیں کھولے گا اور مجھے توقع ہے کہ اس پر آئی اے ای اے کی معاونت سے مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘ایران کے جوہری معاہدے کے بعد صدر براک اوباما نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ کار تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اہم رکاوٹ ہے۔انھوں نے کہا اس معاہدے کی غیر موجودگی میں خطرہ تھا کہ خطے کے دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کریں اور دنیا ایک مرتبہ پھر ہتھیاروں کی ڈور میں پھنس جائے۔انھوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ امریکی سفارت کاری کے باعث طے پا سکا ہے۔ ہمارے خیال میں جوہری ہتھیار کا تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے خاص کر کے مشرق وسطیٰ میں۔ اس معاہدے سے ایران جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے دور ہو گیا ہے۔‘صدر براک اوباما نے کہا ’معاہدے کے تحت ایران اپنی افزودہ یورینیم کے ذخائر تلف کرے گا اور آئندہ دس سال یورینیم کی افزودگی میں کمی بھی کرے گا۔ اس معاہدے کی بنیاد صرف اعتماد نہیں ہے بلکہ کڑے معائنے کے ذریعے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔‘صدر اوباما نے مزید کہا ’معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کار جب چاہیں، جہاں بھی چاہیں ہر طرح کی حساس تنصیبات کا معائنہ کار سکتے ہیں۔ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تمام اقتصادی پابندیوں پر فوری طور دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا۔‘’میں چھ برسوں سے امریکہ کا صدر ہوں اور یہ ایک مشکل ترین فیصلہ تھا۔ ہم ایران کے ایٹمی تنصیبات تباہ بھی کر سکتے تھے۔ لیکن اس سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ چھڑ جاتی۔ میں کانگریس میں اس معاہدے پر تفصیلی بات چیت کرنے پر تیار ہوں۔ میں پر اعتماد ہوں کہ اس معاہدے سے ہماری قومی سلامتی محفوظ ہوئی ہے۔ اگر کانگریس نے معاہدے کیخلاف کوئی قانون سازی کی تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر کا پالیسی بیان جاری کردیا گیا ہے۔ بیان میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ متنازع جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد دنیا محفوظ ہوگئی ہے، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاہدے کے تحت ایران 15 سال تک کوئی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکے گا اورنہ ہی اسے مطلوبہ یورینیم کی پیداوار کیلئے اجازت ہوگی۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے معاہدے سے عالمی توانائی ایجنسی کوا یران کے جوہری پروگرام پر اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ اگر ایران نے معاہدے پر عملدرآمد کیا تو اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ ایران کے صدرحسن روحانی نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو نئے دورکاآغازاورایرانی قوم کی کامیابی قراردیتے ہوئے واضح کیاہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کا معاہدہ کچھ دو اور کچھ لو کے تحت کیا گیا ہے، مغرب معاہدے کی پاسداری کرے گاتوایران بھی کرے گا،ہمارے سارے مقاصدحاصل ہوگئے ہیں ۔ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مغرب پہلے آرک پلانٹ بند کرناچاہتا تھا لیکن اب یہ پلانٹ کچھ شرائط کے تحت چلتا رہے گا، ایران اور عالمی طاقتوں کا معاہدہ کچھ دو اور کچھ لو کے تحت کیا گیا ہے مغرب پہلے 25سال کی پابندی لگانا چا ہتا تھا اب 8سال کی پابندی ہے ۔ مغرب چاہتاتھا کہ ہم100 سینٹی فیوج مشینیں رکھیں اب ہمارے پاس 6 ہزار سینٹی فیوج مشینیں ہیں۔ہمارا موقف تھا کہ ایران مغرب سے مذاکرات کرسکتا ہے لیکن دھمکیاں رد کی جائیں، ایرانی معاہدے سے ہمارے سارے مقاصد حاصل ہوئے ہیں۔ ہمارا مقصد تھا کہ جوہری پروگرام جاری رہتے ہوئے پابندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ جوہری معاہدہ اعتماد سازی کی طرف ایک قدم ، نئے دور کا آغاز اور ایرانی قوم کی کامیابی ہے۔ہم نے ہمیشہ کہا کہ ان مذاکرات میں ہار جیت نہیں ہے۔معاہدے ایسے ہونے چاہئیں جو سب فریقوں کو منظور ہوں۔

مزید :

صفحہ اول -