کرپشن کا کرپٹ پراپیگنڈہ

کرپشن کا کرپٹ پراپیگنڈہ
 کرپشن کا کرپٹ پراپیگنڈہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ان دنوں پاکستان میں کرپشن کا کرپٹ پراپیگنڈہ جاری ہے ، ایک تاثر کو قائم کر کے رائے عامہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے ۔


یہ کرپٹ پراپیگنڈہ باز کئی روپ دھارے ہوئے ہیں،کہیں یہ تجزیہ کاروں کی شکل میں ٹی وی سکرینوں پر براجمان ہیں تو کہیں دودھ سے دھلے سیاستدانوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں، کہیں ریٹائرڈ فوجیوں کی صورت اخباری مضامین تحریر کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں ریٹائرد بیوروکریٹوں کی شکل میں منہ ٹیڑھے کر کر کے سیاستدانوں کو گالیاں نکال رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کرپٹ پراپیگنڈہ باز عام لوگوں کی صورت میں بھی ہمارے ڈرائنگ روموں، دفتروں اور افطاریوں میں بھی ٹھسے کے ساتھ کرپشن کی رٹ لگاتے نظر آتے ہیں۔


اس صورت حال کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سیاست دان ہی نہیں پراپیگنڈہ باز بھی کرپٹ ہیں جو غلط خبریں اور تجزیئے پھیلا رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے ٹی وی اینکروں نے اپنی چرب زبانی سے کروڑوں ہٖضم کئے اور ڈکار تک نہیں ماراہے!


ایسا ہی کرپٹ پراپیگنڈہ پی ٹی آئی کے اعظم سواتی نے پچھلے دنوں طلعت حسین کے پروگرام ’نیا پاکستان ‘میں کیا جہاں انہوں نے اے این پی کے حاجی عدیل سے اپنے خاندانی تعلقات کی آڑ لے کر انہیں باور کرایا کہ وہ چاہیں تو ان کے ہوائی خرچ پر دبئی ، ملائشیا اور ہانگ کانگ جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پارٹی لیڈر اسفند یار ولی نے وہاں کتنے ہوٹل اور بلڈنگیں بنا لی ہیں۔ حاجی عدیل نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ وہ اعظم سواتی کے خرچ پر ہوائی جہاز کی سیر ضرور کریں گے لیکن اگر اعظم سواتی کے پاس اسفند یار ولی کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو NABکو کیوں نہیں دیتے ؟ اس پر اعظم سواتی نے ایک اور زہریلا پراپیگنڈہ کیا کہ انہیں اسلام آباد کے NABسے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ جواب میں حاجی عدیل نے جب کہا کہ وہ اپنے ثبوت خیبر پختونخوا کی اس NABکو دے دیں عمران خان جس کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے تو اعظم سواتی نے ان کی بات سنی ان سنی کردی ۔ اس اثنا میں طلعت حسین کے اس segmentکا وقت ختم ہوگیا اور بات آئی گئی ہوگئی!
کرپٹ پراپیگنڈہ باز کرپشن کو آج کے حکمران سیاستدانوں کا خاصہ ثابت کرنے کے لئے ایک اور دور کی کوڑی لے کر آتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پر ہر الزام لگایا جا سکتا ہے مگر کرپشن کا الزام نہیں لگایا جا سکتا لیکن یہ کرپٹ پراپیگنڈہ باز اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق گیارہ سال تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت کی تخصیص کئے بغیر سیاستدانوں کی ایک نئی کھیپ کی کرپشن کے بیج سے ہی آبیاری کی تھی ۔یہی نہیں بلکہ پاکستان میں ہیروئن کلچر، کلاشنکوف کلچر اور لینڈ مافیا جیسی اصطلاحات ان کے دور میں ہی مستعمل ہوئی تھیں۔


اس بات میں کس کو شک ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ حلقے چاہیں تو بادشاہی مسجد کے خطیب کو بھی کرپٹ ثابت کردیں۔اس ضمن میں مولانا فضل الرحمٰن کی جو گت بن چکی ہے وہ کس سے ڈھکی چھپی ہے۔


جنرل ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف آئے تو ان کا تونعرہ ہی یہی تھا کہ وہ پاکستان سے کرپشن ختم کریں گے، اب عمران خان بھی یہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف سیاست کر رہے ہیں۔ عجب اتفاق ہے کہ عوام جنرل مشرف سے بھی خوش تھے ، عوام عمران سے بھی خوش ہیں!


اب یہ بات طے ہو چکی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی مقبول سیاستدان کے بارے میں ابتدائی پراپیگنڈہ یہ کیا جاتا ہے کہ ’وہ کرپٹ ہے‘ جس کو کرپٹ پراپیگنڈہ بازاتنی بار دہراتے ہیں کہ بالآخر لوگ اس سیاستدان کا ذکر آنے پر برملا چلاتے ہیں کہ..... ’وہ؟ ..... کرپٹ ہے!
موجودہ صورت حال میں چونکہ عمران خان کے خلاف کرپٹ ہونے کاپراپیگنڈہ نہیں ہو رہا ہے اس لئے اگر اس کا کوئی ضیاء اللہ آفریدی کرپشن میں دھرا جاتا ہے تو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے اس کی رکنیت منسوخ کردی ہے ، یعنی کرپٹ پراپیگنڈہ باز یہ سوال بالکل نہیں اٹھاتے کہ آخر وہ شخص عمران خان کے وزیر اعلیٰ کا معتمد خاص کیونکر بنا ہوا تھا ،ہاں البتہ وہ اس کا اہتمام ضرور کرتے ہیں ایف آئی آر میں عمران خان کی لات ضرور اوپر درج کروائی جائے ۔کیا ایسی صورت حال میں پاکستان کو کرپشن سے پاک کیا جاسکتا ہے؟

مزید :

کالم -