ملتان

ملتان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

شوکت اشفاق
پاکستانی سیاستدانوں کا مزاج بھی عجب ہے کہ جب کوئی طالع آزما اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے تو ’’کاریگر‘‘ کی بڑی تعداد میں مختلف ذرائع استعمال کر کے حکومت کا حصہ بن جاتی ہے اور ’’ڈکٹیٹر‘‘ کو باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ دراصل ایک ’’عوامی لیڈر‘‘ ہے اور بڑے عرصے سے عوام اس جیسے نجات دہندہ کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب کوئی سیاسی حکومت معرض وجود میں آتی ہے تو پہلے دن سے نہ صرف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں بلکہ اس حکومت کے جانے کی تاریخیں دے کر اور شیروانیاں بھی تیار کروا لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی 2008ء میں بننے والی حکومت کے ساتھ بھی شروع شروع میں یہی کچھ ہوا لیکن انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنا آئینی حکومتی وقت مکمل کر لیا لیکن جیسے ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت معرض وجود میں آئی اس دن سے یہ شوشے چل رہے ہیں کہ یہ حکومت گئی کہ گئی جس کیلئے (ن) لیگ کے چہیتے زیادہ سرگرم ہیں جو بوجوہ اس کے کہ حکومت کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں بن پائے تھے۔ ان میں میاں برادران کے معتمد خاص سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور سندھ سے سید غوث علی شاہ پیش پیش ہیں۔ جبکہ ان کے ساتھ حامد ناصر چٹھہ اور کچھ اور مسلم لیگی بھی شامل ہیں جنہوں نے اعلان کیا کہ وہ موجودہ صاحب اقتدار کے خلاف ایک ایسی مسلم لیگ تشکیل دے رہے ہیں جو دراصل اصل لیگ ہو گی اور اس میں چاروں صوبوں کے سینئر ترین لیگی رہنما شریک ہوں گے اور یک نکاتی ایجنڈے کے تحت کام ہو گا اور لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی عزت بھی بحال ہو گی۔ ان میں سے کچھ لیگی رہنماء تو اب چپ ہو کر دوبارہ ’’رجوع‘‘ کر چکے ہیں۔ جن میں بلوچستان سے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سرفہرست ہیں جبکہ خیبر پختون خوا اور اپر پنجاب کے کچھ حضرات بھی قبولیت میں جا چکے ہیں جبکہ سندھ سے پیر صاحب پگارہ نے انہیں کورا جواب دے دیا ہے۔ یوں اب سردار ذوالفقار کھوسہ اور سید غوث علی شاہ کے پاس کوئی ایسا سیاسی چارہ کار باقی نہیں رہ گیا ہے اور ویسے بھی سردار ذوالفقار کھوسہ کا جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں میں جو اثرو رسوخ تھا وہ بتدریج کم ہو چکا ہے جبکہ سید غوث علی شاہ کے ساتھ بھی سندھ میں کم و بیش یہی وقوعہ ہوا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سیاسی طور پر کوئی مضبوط یا کامیاب ہوئی ہے ہرگز نہیں ‘ بلکہ اس کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے کم از کم جنوبی پنجاب میں ان کا سیاسی گراف مسلسل نیچے آ رہا ہے۔ ضمنی انتخاب جیت کر یہ سمجھ جانا کہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ بالکل ایسا نہیں ہے کیونکہ اس وقت تحریک انصاف کو اس خطے میں واضح طور پر ایک ترجیح مل رہی ہے کہ پیپلز پارٹی سے اختلاف رکھنے والے سیاست کے متعدد بڑے نام اپنی پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یقیناً ان سیاسی رہنماؤں کی اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہو گی ورنہ ایسے سیاستدان ہمیشہ صاحب اقتدار جماعت میں شامل ہوا کرتے ہیں ایسی صورت حال میں ن لیگ کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا آئندہ سیاست میں ان کا انتظار کر رہا ہے حالانکہ ن لیگی قیادت محض اس طرح بھی خوش ہے کہ اس خطے سے پیپلز پارٹی کی ایک بڑی شخصیت کو آئندہ تمام انتخابات میں اپنے ساتھ دیکھ رہی ہے جنہوں نے حال ہی میں اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ یہ بیل منڈھے چڑھتی ہے یا پھر کوئی اور سیاسی دھماکہ ہوتا ہے یا پھر زبان خلق کہ عیدالفطر کے بعد کچھ اور ہو گا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہونے والا ہے اور پنجاب میں بھی نیب کارروائی کرنے والا ہے مشتری ہوشیار باش۔
عالمی اور ملکی سطح پر موسموں میں تبدیلی ‘ گرمی میں اضافے سے گلیشئر کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ہمارے دریاؤں میں پانی کی آمد بھی استعداد سے بڑھ رہی ہے جو سیلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے گزشتہ کئی سالوں سے جنوبی پنجاب اور پھر زیریں سندھ کے علاقے سیلاب سے بدترین تباہی اور بربادی کا شکار رہے ہیں اور ابھی تک کئی علاقے ایسے ہیں جو گزشتہ کئی سالوں میں آنے والے سیلابوں کا عذاب ابھی تک جھیل رہے ہیں لیکن اب کی مرتبہ پھر وارننگ ہے کہ معمول سے زیادہ بارش اور گرمی سے دریاؤں میں پانی زیادہ ہو گا جو یقیناً سیلاب کی صورت میں ہی آئے گا لیکن پورا سال حکومت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی اور نہ حفاظتی بندوں کو مضبوط اور اونچا کیا ہے جبکہ سپر بند بھی تعمیر نہیں کرائے گئے۔ ایسی صورت میں علاقے کے عوام دریاؤں میں زیادہ پانی کے بہاؤ سے سخت خوف زدہ ہیں لیکن حکومت نہ تو خوف زدہ ہے اور نہ ہی اسے بچاؤ کیلئے کوئی اقدامات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ تو انتظار میں ہیں کہ سیلاب آئے اور وہ ’’ریلیف‘‘ کا کام شروع کریں اور ہیلی کاپٹر کی پروازوں پر دورے کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -