پاکستان اور بیلا روس میں زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے 4 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

پاکستان اور بیلا روس میں زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے 4 مفاہمتی یادداشتوں پر ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک تحقیق ،سکندر حیات خان بوسن نے تجارت اور معاشی ترقی کے حوالے سے مسٹر وائٹلی ووک ،بیلا روس کے وزیر برائے انڈسٹری / بیلاروس،پاکستان کمیشن کے کو۔چئیرمین سے میٹنگ کی۔ انہوں نے بیلاروس کے وزیر کا استقبال کیا اور کہا کہ حکومتِ پاکستان بیلا روس سے تعلقات کو مزید مستحکم دیکھنا چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک تحقیق ،سکندر حیات خان بوسن نے 2015 میں وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں اپنے بیلا روس کے دورے کے بارے میں بھی بات کی ۔انہوں نے 2017 اپریل میں چئیرمین بیلاروس کے وفد کے ہمراہ دورے کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے 2017 اگست میں وزیر اعظم کے آئندہ بیلا روس کے دورے کے حوالے سے بھی بات کی۔ میٹنگ کے دوران دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے اعلی حکام کے دوروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک آپس میں زراعت ، تجارت اور معاشی ترقی کے شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بیلا روس اور پاکستان کے مابین زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے چار یاداشتی معاہدات پر دستخط کیے ہیں اور بیلا روس میں 2015 میں NASB اور PARC کے مابین سائنسی و تکنیکی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

جس سے زراعت کے میدان میں دور رس نتائج ثابت ہونگے ۔ اس موقع پر بیلاروس کے وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک خوراک کو ذخیرہ کرنے اور فارم مشینری کے شعبہ میں بھی بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔ یہ شعبہ سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بڑی صلاحیت رکھتا ہے جس سے ہمارے کسان اچھی مشینری رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک زرعی شعبہ کو ایک معیار دلانا چاہتے ہیں اور یہ سب باہمی تعاون اور تجربات اور ٹیکنالوجی کی آپس میں فراہمی کو یقینی بنانے سے ہی ممکن ہو گا۔ وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک تحقیق ،سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ حکومت پاکستان زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے کام کر رہی ہے تا کہ ایسی فضا بنائی جائے جس سے قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کار زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ وفاقی وزیر نے بیلاروس کی فارم مشینری کے شعبے میں ترقی پر انکو مبارکباد پیش کی اور اس عزم کا یقین دلایا کہ دونوں ممالک مل کر زراعت کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی حاصل کر سکتے ہیں تا کہ دونوں ممالک کے عوام کو غذائیت سے بھر پور اور محفوظ خوراک مہیا ہو سکے۔

مزید : کامرس


loading...