اولین ترجیح پن بجلی کے کثیر المقاصد منصوبے ہونے چاہئیں: ڈاکٹر طاہر مسعود

اولین ترجیح پن بجلی کے کثیر المقاصد منصوبے ہونے چاہئیں: ڈاکٹر طاہر مسعود

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اولین ترجیح پن بجلی کے کثیر المقاصد منصوبے ہونے چاہیں۔ تاکہ نہ صرف غیر ملکی درآمدی کوئلے اور تیل پر انحصار کم کیا جا سکے بلکہ سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے ساتھ ساتھ زراعت کے فروغ کیلئے پانی کے دستیاب وسائل سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ بات برکلے ایسوسی ایٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر طاہر مسعود نے فیصل آباد چیمبر میں قابل تجدید توانائی کے فروغ کے بارے میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے کثیر سرمایہ اور لمبی مدت درکار ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس تھرمل بجلی گھروں کو بہت کم قیمت اور مختصر مدت میں مکمل کیا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر چہ پانی سے بننے والی بجلی سب سے سستی ہوتی ہے مگر ان ہائیڈرو پراجیکٹس کی پیداوار سردیوں میں پانی کے کم بہاؤکی وجہ سے گھٹ جاتی ہے ۔ اس کے برعکس تھرمل بجلی گھروں سے صرف ایک ماہ کی مرمت کے دورانیہ کے علاوہ پورا سال یکساں حاصل کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تمام ذرائع سے 25 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس میں سے 13 ہزار میگا واٹ کے بجلی گھرسرکاری جبکہ 11 ہزار میگاواٹ کے پلانٹ پرائیویٹ سیکٹر میں قائم ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسوقت بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار میگا واٹ ہے جسے گھروں اور غیر منظم سیکٹر میں بہت کم کارکردگی کے حامل چھوٹے چھوٹے جنریٹروں سے پورا کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ان جنریٹروں کے ذریعے پیدا کی جانیوالی بجلی 30 روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ میں پڑتی ہے ۔ یہ دراصل قومی نقصان ہے جس پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کے پی کے میں پانی سے 25 ہزار میگا واٹ بجلی جبکہ گلگت بلتستان میں 21 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے ۔

مزید : کامرس